انسداد فحاشی کا اسلامی نظام

شریعت اسلامیہ نے دنیا سے فحاشی کو مٹانے کے لئے جو محکم انتظامات فرمائے ہیں، ان کا اگر خلاصہ کیا جائے تو بالترتیب درج ذیل عنوانات میں انہیں سمیٹا جا سکتا ہے : (۱) قرآن و حدیث میں وعد و وعید کے ذریعہ فحاشی کے خلاف ذہن سازی۔ (۲) عورتوں کے بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے پر روک ۔ (۳) عورتوں کو پردے کا حکم۔ (۴) اجنبی مردوں اور عورتوں کے لئے نظریں جھکانے کا حکم ۔ (۵) اجنبی مرد و عورت میں تنہائی کی ممانعت۔ (۶) اجنبی مرد و عورت کے یکجا سفر کرنے کی ممانعت۔ (۷) اجنبی مرد و عورت کے مابین نرم اور بے تکلف گفتگو کی ممانعت ۔ (۸) حلال راستہ اپنانے اور نکاح کرنے کی تاکید۔ (۹) فواحش کی نشر و اشاعت کی ممانعت ۔ (۱۰) زنا کے ثبوت پر سخت سزائیں۔ دنیا کا تجربہ ہے کہ جب اور جہاں عفت و عصمت کے تحفظ کا مذکورہ نظام نافذ کیا گیا ، وہاں پاکیزگی اور پاک بازی اور عفت ماٰبی کے ایسے خوش نما مناظر دیکھنے کو ملے کہ دنیا حیرت زدہ رہ گئی ، اور آج ہزار خرابیوں کے باوجود اور فحاشی کے اسباب گھر گھر موجود ہونے کے باوجود عفت ماٰبی کا تناسب اسلام سے نسبت رکھنے والوں میں الحمد للہ دوسروں سے بہت زیادہ ہے، لیکن چوں کہ فضاؤں میں بے حیائی کا زہر خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے ؛ اس لئے اطمینان سے بیٹھنے کا موقع نہیں؛ بلکہ بیدار مغز ، محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ (کتاب: ایک جامع قرآنی وعظ۔ صفحہ نمبر : ۲۷۵۔ ۲۷۶ مصنف: مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری زید مجده۔ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یاد میں تیری سب کو بھلا دوں

یاد میں تیری سب کو بھلا دوں

حضرت یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ تعالیٰ جن کو حقائق و دقائق پر مکمل دسترس حاصل تھی ، اور جن کے متعلق بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح انبیاء میں حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما الصلوۃ والسلام کا مقام ہے اسی طرح بزرگان دین میں حضرت یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ تعالیٰ کی حیثیت ہے۔ تاثر آمیز مواعظ کی وجہ سے آپ کو واعظ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ آپ کے ایک بھائی بحیثیت مجاور کے مکہ معظمہ میں بھی مقیم تھے اور انہوں نے وہاں سے تحریر کیا کہ مجھے تین چیزوں کی بے حد تمنا تھی اول یہ کہ کسی متبرک مقام پر سکونت کا موقعہ مل جائے، دوم یہ کہ میری خدمت کے لئے ایک نیک خادم بھی ہو، لہذا یہ دونوں خواہشیں پوری ہو گئیں۔ اب تیسری خواہش یہ ہے کہ مرنے سے پہلے ایک مرتبہ آپ سے ملاقات ہو جائے یہ میری دلی خواہش ہے خدا سے دعا کیجئے کہ وہ اپنی قدرت سے یہ تمنا بھی پوری کر دے، آپ رحمہ اللہ تعالٰی نے جواب میں یہ تحریر فرمایا کہ انسان کو تو بذات خود متبرک ہونا چاہئے تا کہ اس کی برکت سے جائے قیام بھی متبرک ہو جائے، دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو تو خود خادم بننا چاہئے تھا نہ کہ مخدوم ، انسان کی شان ہی غلامی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر آپ خدا کی یاد سے غافل نہ ہوتے تو میں آپ کو ہرگز یاد نہ آتا۔ لہذا یاد الہی میں بہن بھائی بیوی بچے سب کو فراموش کر دینا چاہئے ، اگر آپ دنیا میں عبادت سے خدا ہی کو راضی نہیں کر سکتے تو پھر مجھ سے ملاقات بھی بے سود ہے۔ ( تذکرۃ الاولیاء : صفحه ۱۷۳) خواجہ مجذوب فرماتے ہیں۔ یاد میں تیری سب کو بھلا دوں کوئی نہ مجھ کو یا در ہے تجھ پر سب گھر بار لٹا دوں خانہ دل آباد رہے سب خوشیوں کو آگ لگا دوں غم سے ترے دل شاد رہے سب کو نظر سے اپنی گرادوں تجھ سے فقط فریا د رہے اب تو رہے بس تا دم آخر ورد زباں اے میرے اله لا اله الا الله لا اله الله (کتاب : اسلاف کی یادیں۔ صفحہ: ۲۲۷۔۲۲۸ ۔ مصنف: حضرت مولانا مفتی اسد اللہ عمر نعمانی۔ ناقل: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)