پیپر لیک کے معاملات کی سماعت کے لیے قائم کی گئی فاسٹ ٹریک کورٹ کی اسپیشل جج انو گروور بالیگا کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ انہیں اس عہدے پر محض ایک ہفتے قبل ہی مقرر کیا گیا تھا۔ پیپر لیک کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ایسے معاملات کی سماعت کے لیے ایک خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت قائم کی جائے گی۔
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ہفتہ (1 اگست) کو اسپیشل جج انو گروور بالیگا کا تبادلہ کر دیا۔ انہیں پیپر لیک کے معاملات کی سماعت کے لیے قائم کردہ فاسٹ ٹریک کورٹ کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے محض ایک ہفتے پہلے ہی مقرر کیا گیا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، کہا جا رہا ہے کہ ان کا تبادلہ 138 عدالتی حکام کے تبادلے کے باقاعدہ عمل کا حصہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے 23 جولائی کو عوامی امتحانات میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں سے جڑے مجرمانہ معاملات کی سماعت کے لیے ایک خصوصی عدالت نامزد کی تھی۔ اس کے بعد جج بالیگا نے 25 جولائی کو عدالت کا کام کاج سنبھالا تھا۔
دہلی ہائی کورٹ کے تبادلے کے حکم کے مطابق، جج بالیگا کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت میں تعینات کیا گیا ہے، جہاں دہشت گردی سے متعلق معاملات کی سماعت ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسپیشل جج وکاس ڈھل، پرشانت شرما، پولستیہ پرماچل، کرن بنسل اور امیت بنسل کا بھی این آئی اے کورٹ میں تبادلہ کیا گیا ہے۔ اسپیشل جج اجے گپتا، جو پہلے نیٹ (NEET) سمیت پیپر لیک سے جڑے معاملات کی سماعت کر رہے تھے، اب جج بالیگا کی جگہ فاسٹ ٹریک کورٹ کا کام کاج سنبھالیں گے۔
قابل غور ہے کہ پیپر لیک کے خلاف ملک بھر میں ہو رہے وسیع احتجاجی مظاہروں اور اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ایسے معاملات کی سماعت کے لیے ایک خصوصی فاسٹ ٹریک کورٹ بنائی جائے گی۔
’پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف ان فیئر مینز) رولز، 2024‘ اور اس سے جڑے دیگر جرائم کی سماعت کے لیے دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں یہ فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کی گئی اور ہدایت دی گئی تھی کہ اس قانون کے تحت درج تمام معاملات کو اسی عدالت میں منتقل کیا جائے گا۔
تاہم، ’دی وائر‘ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ 27 جولائی کو فاسٹ ٹریک کورٹ کے پہلے دن کی کارروائی متاثر رہی، کیونکہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، جو ایک اور پیپر لیک معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، پہلی سماعت میں پیش نہیں ہو سکی۔ اس دن معاملے میں دو ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہونی تھی۔
دفاعی وکیل کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی گئی۔ اب یہ معاملہ 3 اگست کو سی بی آئی کی چارج شیٹ اور دو ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر غور کے لیے درج (لسٹ) ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مسابقتی امتحانات میں مسلسل سامنے آ رہی بے ضابطگیوں کے خلاف تحریک کی قیادت کر رہی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے فاسٹ ٹریک کورٹ کو صرف ایک ’عارضی‘ یا ’بینڈ ایڈ‘ اقدام قرار دیا ہے۔
معلوم ہو کہ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے بھی پیپر لیک بحران کے حل کے طور پر فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کے حکومت کے فیصلے کی تنقید کی تھی۔
کانگریس لیڈر رمیش نے ایکس (X) پر لکھا تھا، ’کس منہ سے مودی حکومت پیپر لیک کے بحران کے حل کے طور پر فاسٹ ٹریک کورٹ کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے؟ اس کی اپنی سی بی آئی ان معاملات کی تحقیقات اور تفتیش میں کوئی سنجیدہ پہل نہیں کر رہی ہے۔‘