ایسی نماز اب کون پڑھے گا؟

نقل کرتے ہیں کہ عصام بن یوسف حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں آئے اور اُن پر اعتراض کرنا چاہا۔ چنانچہ عصام نے حاتم سے کہا: ’’اے ابو عبدالرحمٰن!‘‘ (یہ حاتم کی کنیت ہے) ’’آپ نماز کس طرح ادا کرتے ہیں؟‘‘ حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’جب نماز کا وقت آتا ہے تو میں کھڑا ہوتا ہوں اور پہلے وضوِ ظاہر، پھر وضوِ باطن کرتا ہوں۔‘‘ عصام نے کہا: ’’ان دونوں وضوؤں کی کیا صورت ہے؟‘‘ حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’وضوِ ظاہر کی یہ صورت ہے کہ اعضائے وضو کو پانی سے دھوتا ہوں، اور وضوِ باطن یہ ہے کہ اعضاء کو سات چیزوں سے دھوتا ہوں: دنیا کو ترک کرتا ہوں، مخلوق کی تعریف کی خواہش، ریا، کینہ اور حسد کو دل سے دور کرتا ہوں۔‘‘ ’’پھر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، اعضاء کو بچھاتا ہوں، کعبہ میرے پیشِ نظر ہوتا ہے، امید و بیم کی حالت میں کھڑا رہتا ہوں، اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ ’’میری دائیں جانب جنت اور بائیں جانب دوزخ ہوتی ہے، ملک الموت میرے پیچھے ہوتے ہیں، اور میں خیال کرتا ہوں کہ گویا میں اپنا قدم پلِ صراط پر رکھ رہا ہوں، اور گمان کرتا ہوں کہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔‘‘ ’’پھر نیت کرتا ہوں، خشوع و خضوع کے ساتھ تکبیر کہتا ہوں، قرآنِ کریم کو اس کے معانی میں تدبر اور غور و فکر کے ساتھ پڑھتا ہوں، عجز و انکسار کے ساتھ رکوع کرتا ہوں، اور گریہ و زاری کے ساتھ سجدہ کرتا ہوں۔‘‘ ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید پر تشہد پڑھتا ہوں اور اخلاص کے ساتھ سلام پھیرتا ہوں۔ چالیس سال سے میری نماز اسی طرح ہے۔‘‘ یہ سن کر عصام زار و قطار رونے لگے اور کہا: ’’یہ ایسی چیز ہے کہ آپ کے علاوہ دوسرا اس پر قادر نہیں ہو سکتا۔‘‘ منقول - انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

صدقہ صرف پیسے سے نہیں، دل سے بھی کیا جاتا ہے

صدقہ صرف پیسے سے نہیں، دل سے بھی کیا جاتا ہے

ایک غریب عورت نے بڑی عزت کے ساتھ آواز دی، "آ جائیے میڈم، آپ یہاں بیٹھ جائیں،" کہتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ پر ایک استانی کو بیٹھا دیا اور خود بس میں کھڑی ہوگئی۔ میڈم نے، "بہت بہت شکریہ، میری تو بری حالت تھی، سچ میں،" کہتے ہوئے دعائیں دی. اس غریب عورت کے چہرے پر ایک خوشکن مسکان پھیل گئی۔ کچھ دیر بعد استانی کی پاس والی سیٹ خالی ہو گئی لیکن اس عورت نے ایک اور عورت کو، جو ایک چھوٹے بچے کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور مشکل سے بچے کو اٹھا پارہی تھی، کو سیٹ پر بیٹھا دیا۔ اگلے پڑاؤ پر بچے والی عورت بھی اتر گئی، سیٹ پھر خالی ہوگئی، لیکن اس نیک دل عورت نے پھر بھی بیٹھنے کی بالکل کوشش نہیں کی بلکہ اس ایک کمزور اور بزرگ آدمی کو بیٹھا دیا، جو ابھی ابھی بس میں سوار ہوئے تھے۔ مزید کچھ دیر کے بعد وہ بزرگ بھی اتر گئے، سیٹ پھر سے خالی ہو گئی۔ بس میں اب چند مسافر ہی رہ گئے تھے، اب اس استانی نے غریب خاتون کو اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا کہ "کتنی بار سیٹ خالی ہوئی لیکن آپ لوگوں کو بٹھاتی رہیں، خود نہیں بیٹھیں، کیا بات ہے؟ " اس خاتون نے جواب دیا "میڈم میں مزدور ہوں، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں کچھ صدقہ و خیرات کرسکوں، تو میں کیا کرتی ہوں کہ، سڑک میں پڑے پتھروں کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتی ہوں، کبھی کسی ضرورت مند کو پانی پلا دیتی ہوں، کبھی بس میں کسی کے لیے سیٹ چھوڑ دیتی ہوں. پھر جب سامنے والا مجھے دعائیں دیتا ہے تو میں اپنی غربت بھول جاتی ہوں، میری دن بھر کی تھکن دور ہو جاتی ہے۔ اور تو اور، جب میں روٹی کھانے کے لیے باہر بینچ پر بیٹھتی ہوتی ہوں، کچھ پرندے میرے قریب آ کر بیٹھ جاتے ہیں، میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے انکے سامنے ڈال دیتی ہوں. جب وہ خوشی سے چلاتی ہیں تو خدا کے ان مخلوق کو خوش دیکھ کر میرا پیٹ بھر جاتا ہے۔ روپے پیسے نہ سہی، سوچتی ہوں دعائیں تو مل ہی جاتی ہوں گی، مفت میں، فائدہ ہی ہے نا، اور ہمیں کیا ہی لے کر جانا ہے اس دنیا سے"۔ استانی ہکا بکا رہ گئی، ایک ان پڑھ سی دکھنے والی غریب عورت نے اتنا بڑا سبق جو پڑھا گئی انہیں۔ اگر دنیا کے آدھے لوگ بھی ایسی خوبصورت اور مثبت سوچ اپنا لیں تو یہ زمین جنت بن جائے گی سب کے لئے۔ صدقہ و خیرات صرف پیسے سے نہیں دل سے بھی کیا جاتا ہے۔ _______________________________________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ