علم کا بدصورت عاشق :

اصل نام عمرو بن محبوب تھا ، ۱۶۰ ہجری میں پیدا ہوئے اور جاحظ کے لقب سے معروف ہوئے ، عربی میں جاحظ اُسے کہتے ہیں جس کی آنکھوں کے ڈھیلے اُبھرے ہوں ۔ اوائل میں اس لقب کو ناپسند کرتے تھے ، رفتہ رفتہ خاموش ہو گئے ۔ شاید ہی کسی کی شکل کا یوں مذاق اڑایا گیا ہو ، کسی نے انہیں شیطان سے تشبیہ دی ہے اور کسی شاعر نے تو یونہی بھی کہا ہے : اگر خنزیر دوبارہ مسخ کر دیا جائے پھر بھی جاحظ سے کم ہی بدصورت ہوگا ۔ بادشاہ متوکل نے انہیں اپنے بچوں کا استاد مقرر کرنا چاہا ، شکل دیکھی تو انکار کر دیا ۔ حالانکہ معتزلی فکر سے وابستہ تھے ، اس کے باوجود عربی ادب کے امام گردانے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے : جاحظ نے جس کتاب کو پکڑ لیا اسے مکمل پڑھنے تک نیچے نہیں رکھا ۔ اکثر کتابوں کی دکانیں کرائے پر لے کر رات رات بھر پڑھتے رہتے تھے ۔ آخری عمر میں کافی بیماریوں کا شکار ہوئے ، آدھا جسم مفلوج ہو گیا ، یونہی پڑھنے میں مصروف تھے کہ ارد گرد پڑی کتابیں ان پر آگریں اور یوں علم کا بدصورت عاشق کتابوں کے قبرستان میں دفن ہو گیا ۔ (علی سنان)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

صالحین میں سے ایک شخص کا واقعہ

صالحین میں سے ایک شخص کا واقعہ

صالحین میں سے ایک شخص روزانہ شہر کی دیوار پر کھڑے ہوکر رات میں یہ آواز لگاتا تھا ''چلو قافلے کے چلنے کا وقت آگیا ہے''ـ جب اس کا انتقال ہوگیا تو شہر کے حاکم کو یہ آواز نہیں سنائی دی ـ تحقیق پر پتہ چلا کہ اس کی وفات ہوگئی ہے تو امیر نے یہ اشعار پڑھے ـ مَا زَالَ يَلْهَجُ بِالرَّحِيلِ وَذِكْرِه حَتَّى انَاخَ بِبَابِهِ الْجَمَّالُ فَأَصَابَهُ متیقظا مُتَشَمِّرًا ذَا أَهْبَةٍ لَمْ تُلْهِهِ الْآمَالُ اشعار کا ترجمہ: '' وہ برابر کوچ کی آواز اور اس کے تذکرے سے دلچسپی لیتا رہا یہاں تک کہ خود اس کے دروازے پر اونٹ بان (موت کے فرشتے کی طرف اشارہ ہے) نے پڑاؤ ڈالا ـ چنانچہ اسے بیدار' مستعد اور تیار پایا ـ کھوٹی آرزوئیں اسے غافل نہ کرسکیں" ـ (التذکرۃ فی احوال الموتی والآخرۃ ۱۰) کتاب : اللہ سے شرم کیجئے (صفحہ ۱۹۲) مصنف: مفتی سلمان منصوری پوری انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ