مطالعہ کا انوکھا فائدہ

ﺷﯿﺦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺍﻟﻌﻮﺩﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ " ﺯﻧﺰﺍﻧﮧ " ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ : ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﯿﺦ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻟﻮ ﯾﮧ ﭼﺒﺎﺅ ! ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻧﮩﯿﮟ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻞ ﻣﻞ ﮔﺊ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣﺼﮧ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﻨﺎ، ﮐﭽﮫ ﮨﮉﯼ، ﮐﭽﮫ، ﭘﭩﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻝ، ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻝ ﮐﭽﮫ ﻧﺎﺧﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﻡ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔۔ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﮐﺘﺎﺏ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣﺼﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻟﻐﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﻠﻢ ﺑﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﭽﮫ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﻨﻮﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﻮ ﺗﺮﻗﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؛ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﭘﺎﺗﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻨﯽ ﮐﮩﺎﻭﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﺟﺐ ﺁﺩﻣﯽ 10 ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ 10 ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﺭﭺ ﻓﻮﮎ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ” ﺍﭼﮭﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﮮ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮍﮬﺎﺋﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ۔۔۔۔ ”

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ سب دین کے شعبے ہیں

یہ سب دین کے شعبے ہیں

لیسٹر برطانیہ میں علماء کرام کی محفل میں ایک دفعہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی صاحب رح نے فرمایا کہ فرض کرو انڈیا کے کسی گاؤں میں کسی بھاری جسم والے شخص کا انتقال ہوگیا جون جولائی کی گرمی ہو قبرستان کئی کلومیٹر کے فاصلے پر ہو اور جنازہ اٹھانے والے صرف چار آدمی ہوں راستے میں ایک مسافر شخص ملا اس نے اپنا سامان ایک جانب رکھا اور جنازے کو کندھوں پر اٹھانے والوں کے ساتھ شامل ہوگیا۔ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رح نے علماء سے پوچھا ان چار آدمیوں کو اس مسافر شخص کے آنے سے خوشی ہوگی یا تکلیف؟ سب علماء کرام نے کہا خوشی ہوگی۔حضرت مولانا نے مزید فرمایا کہ یہ پانچوں آدمی تھوڑا آگے بڑھے تو ایک اور مسافر نظر آیا اس نے بھی اپنا سامان ایک سائیڈ پر رکھا اور ان پانچوں آدمیوں کے ساتھ جنازے کو کندھا دینے کے لئے شریک ہوگیا حضرت رح نے پھر علماء کرام سے پوچھا بتاؤ کہ اس چھٹے آدمی کے آنے سے پہلے پانچ آدمی خوشی محسوس کریں گے یا تکلیف؟ سب نے کہا خوشی۔تو پھر حضرت رح نے فرمایا کہ اس وقت ہم سب بھی دین کی ذمہ داری کندھوں پر اٹھا کر چل رہے ہیں دین کی خدمت کر رہے ہیں جب یہ بات ہے تو ہمیں ایک دوسرے کے کام کو دیکھ کر خوش ہونا چاہئے اس لئے کہ ہم سب کا مقصد ایک ہے۔تدریس تصنیف تبلیغ جھاد سیاست تصوف درس قرآن ودرس حدیث یہ سب دین کے شعبے ہیں اگر ہم سب ایک دوسرے کے رفیق ہوتے تو دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا مگر شیطان ہمیں رفیق بننے نہیں دیتا ہمیشہ ہمیں ایک دوسرے سے متنفر کرتا رہتا ہے سیرت کا ایک پہلو اتفاق بھی ہے جو نظر انداز ہورہا ہے۔