غـزہ کے مشہور داعی اور صحافی جناب جهاد حلس کی پوسٹ دیکھیے! فرما رہے ہیں:

"خدا کی قسم ! اگر آپ اہلِ غـزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تکالیف دیکھیں تو آپ دنگ رہ جائیں ، ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کر پائے گا کہ آیا ایک انسان ان تمام مظالم اور تکالیف کو برداشت کر کے زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اور ان تکالیف کی شدت سے اس کی موت کیسے واقع نہیں ہوئی ؟!! خدا کی قسم ! اگر یہ تکالیف اور مشقتیں کسی چٹان پر گزرتیں تو وہ تکلیف کی شدت سے پھٹ جاتی، سمندر پر اتنا ظلم ڈھایا جاتا تو وہ بخارات بن جاتا، دیوہیکل پہاڑوں پر گر اتنا سِتم ڈھایا جاتا تو ان میں شگاف پڑ جاتے ، لوہے جیسی مضبوط دھات تک اس تکلیف کی شدت سے پگھل جاتی !! ہم نے جو آفتیں دیکھی ہیں اس کے مقابلے میں آپ کی پریشانیاں ہیچ ہیں، (باخدا یہ حقیقت ہے) ، ہم پر بیتنے والے دلسوز مناظر کے عادی نہ بنیں، اسے ہماری عادی زندگی / روٹین لائف نہ سمجھیں ، بلاشبہ ہمیں تنہا ، بے یارو مددگار چھوڑنے والوں کو اللّٰہ رب العزت دیکھ رہے ہیں ، اور ان سب کو اللّٰہ رب العزت کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔" - مترجم: عبد الرحمن فضل۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

سچ کہو اور باقی رہو

سچ کہو اور باقی رہو

ایک بار ایک بادشاہ جوانوں کے لنگر خانے گیا ، صفائی ستھرائی چیک کی درست تھی، پھر اس نے پوچھا کہ جوانوں کے لیے کیا پکایا ہے ؟جواب ملا بتاؤں یعنی بینگن ۔بادشاہ سخت ناراض ہوا کہ جوانوں کے لیے اتنا گھٹیا کھانا کیوں پکایا گیا ہے ؟اس کے مشیر نے بینگن کی بُرائی میں زمین آسمان ایک کر دیے ، بہر کیف لنگر کمانڈر نے معذرت کی اور آئندہ سے بینگن نہ پکانے اور اچھا کھانا پکانے کا وعدہ کیا تو بادشاہ لنگر خانے سے رخصت ہو گیا ۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد بادشاہ کو دوبارہ سے جوانوں کے لنگر خانے جانے کا اتفاق ہوا۔. سوئے اتفاق اس روز بھی بینگن پکائے گئے تھے۔ بادشاہ نے بینگن کی تعریف کی . وہ ہی مشیر ساتھ تھا ، اس نے بینگن کی تعریف میں ممکنہ سے بھی آگے بینگن کے فوائد بیان کر دیے ۔گویا بینگن کے توڑ کی کوئی سبزی اور پکوان باقی نہ رہے ۔ لنگر کمانڈر خوش ہوا اور آگے سے بینگن کے برابر اور متواتر پکائے جانے کا وعدہ کیا ۔بادشاہ اس مشیر کی جانب مڑا اور کہنے لگا کہ اس دن میں نے بینگن کی بُرائی کی تو تم نے بینگن کی بُرائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، آج جب کہ میں نے تعریف کی ہے تو تم نے بینگن کی تعریف میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، کیوں ؟اس نے جواباً کہا حضور میں آپ کا غلام ہوں بینگن کا نہیں ۔یہ سن کر بادشاہ نے کہا تم جیسے جی حضوریے حق اور سچ کو سامنے نہیں آنے دیتے ، جس کے سبب صاحب اقتدار متکبر ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان سے انصاف نہیں ہو پاتا۔ انصاف کا قتل ہی قوموں کے زوال کا سبب بنتا ہے ۔ پہلے تو وہ جی حضوریہ چپ رہا پھر کہنے لگا حضور جان کی امان پاؤں تو ایک عرض کروں ۔بادشاہ نے کہا : کہو کیا کہنا چاہتے ہو ؟حضور سچ اور حق کی کہنے والے ہمیشہ جان سے گئے ہیں۔ بادشاہ نے کہا! یاد رکھو سچ اور حق جان سے بڑھ کر قیمتی ہیں۔ مرنا تو ایک روز ہے ہی ، سچ کہتے مرو گے تو باقی رہو گے، ہاں جھوٹ کہنے یا اس پر درست کی مہر ثبت کرنے کی صورت میں بھی زندہ رہو گے لیکن لعنت اور پھٹکار اس زندگی کا مقدر بنی رہے گی ۔