ایک مقبول ولی کی پیشین گوئی

حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری جو بڑے صاحب کشف و کرامات تھے، ان کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ پنجاب سے حکیم نورالدین بسلسلہ معالجہ حضرت شاہ صاحب کے پاس آئے ... حضرت نے ان سے فرمایا کہ حکیم صاحب پنجاب میں کوئی جگہ قادیان ہے، وہاں سے کسی نے نبوت کا دعوی تو نہیں کیا ؟ حکیم صاحب نے کہا کہ کسی نے نہیں کیا ... حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ وہاں سے ایک شخص نبوت کا دعوی کرے گا اور لوح محفوظ میں آپ کو اس کا مصاحب لکھا ہے، آپ کے اندر ایک مرض ہے ( بحث کرنے اور الجھنے کا یہ مرض آپ کو وہاں لے جائے گا اور آپ مبتلا ہوں گے۔ ہم تو اس وقت نہ ہوں گے۔ مگر آپ کو باذن الہی) پہلے سے مطلع کیے دیتے ہیں ... چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ حکیم صاحب اس سے مناظرہ کرنے کے لئے گئے اور اس کے دام میں پھنس گئے اور اس پر ایمان لے آئے اور پھر اس کے خلیفہ اول ہوئے ... نعوذ باللہ ) (آپ بیتی از شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ ) ____📝📝📝____ کتاب : قابلیت اور مقبولیت ۔ صفحہ نمبر: ۱۰۲۔ صاحب کتاب : مولانا محمد اسحق ملتانی۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اور ملک الموت آپہنچا __!!

اور ملک الموت آپہنچا __!!

ایک نوجوان لڑکی ایک سپر مارکیٹ میں اپنے جسم کی نمائش کرتے ہوئے فتنہ انگیز انداز میں جارہی تھی۔ اس کے انداز میں ایسی خود نمائی اور خود ستائی تھی جیسے دنیا اسی کی وجہ سے پیدا کی گئی ہو ۔ وہاں سے ایک نیک اور صالح نوجوان گزر رہا تھا اس نے از راہ ہمدردی کہا: "میری بہن! اپنی اس روش سے باز آجاؤ۔ اگر اسی حالت میں ملک الموت تمہارے پاس آپہنچا تو ، اللّٰہ کو کیا جواب دو گی؟" اس کے جواب میں وہ مغرور لڑکی کہنے لگی..! "اگر تم میں جرات ہے تو ابھی اپنا موبائل نکالو اور اپنے رب سے کال ملاؤ کہ وہ ملک الموت کو بھیجے۔" وہ نوجوان کہتا ہے کہ : "اس نے ایسی ہولناک بات کہی تھی کہ مجھے ڈر ہوا کہیں اس بازار کو ہی نہ ہم پر الٹا دیا جائے۔ "میں ڈرتا ہوا جلدی سے وہاں سے نکلا۔ جب میں بازار کے کنارے پر پہنچا تو میں نے اپنے پیچھے چیخ وپکار اور آہ و بکا کی آوازیں سنیں۔ میں واپس مڑا تو دیکھا کہ ایک جگہ لوگ اکھٹے ہیں، یہ وہی جگہ تھی جہاں میری اس لڑکی سے بات ہوئی تھی۔ میں وہ منظر دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ لڑکی ٹھیک اُسی جگہ پر مردہ حالت میں پڑی تھی، جہاں اس نے ملک الموت کو بلانے کا چیلنج کیا تھا۔ میں تو اس چیلنج کے بعد فوراً وہاں سے نکل گیا تھا، لیکن لڑکی اسی وقت منہ کے بل گری اور دم توڑ دیا۔ کیونکہ ملک الموت آپہنچا تھا...! (آئین القلوب، مصطفیٰ کامل) قارئین کرام! یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عرب ملک میں پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کو قریباً بارہ پندرہ سال گزرے ہونگے، جب یہ رونما ہوا تو اس کی بازگشت مقامی اخبارات اور مجالس میں سنائی دی تھی۔ "بعض اوقات انسان تکبر اور جوانی کے نشے میں یا دولت واقتدار کے گھمنڈ میں بےحد غلط باتیں منہ سے نکال دیتا ہے، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ عین ممکن ہے وہ قبولیت دعا کا وقت ہو۔" اور اس کے الفاظ پر رب کی طرف سے پکڑ بھی ممکن ہے، اس لئے ہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہئے۔۔۔۔ "دعاؤں کی قبولیت کے سنہرے واقعات" سے ماخوذ ۔