گھریلو گیس سلنڈر کی قیمتوں میں پھر اضافہ، دہلی، ممبئی اور کولکتہ سمیت ملک بھر میں نئے نرخ جاری
مہنگائی کا ایک اور ہولناک وار: گھریلو اور کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں زبردست اضافہ، عوام کی جیبوں پر اربوں کا ڈاکا، کارپوریٹ نوازی اور انتظامی بدعنوانی نے عام صارف کا جینا محال کر دیا اکنامک اینڈ پولیٹیکل ڈیسک: خصوصی تجزیاتی رپورٹ اتوار، 7 جون 2026 ملک کی غریب اور متوسط طبقے کی عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرا دیا گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو پہلے ہی آسمان پر پہنچانے کے بعد، اب تیل سپلائی کرنے والی سرکاری و نجی کمپنیوں نے مودی حکومت کی خاموش رضامندی کے ساتھ گھریلو اور کمرشل ایل پی جی (LPG) سلنڈروں کے نرخوں میں ایک بار پھر بھاری اضافہ کر دیا ہے۔ آج یعنی 7 جون 2026 سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کھانا پکانے کی گیس کے نئے نرخ لاگو ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل اور توانائی کے اتار چڑھاؤ کو ڈھال بنا کر کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے اور عام شہریوں سے سبسڈی چھیننے کا یہ کھیل اب سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔ مڈل کلاس خاندان، جو پہلے ہی بجلی کے بلوں، بچوں کی اسکول فیسوں اور اشیائے خوردونوش کی گرانی سے پس رہا تھا، اس کے کچن کا بجٹ اب مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ 1. قیمتوں میں اضافے کی تفصیلی کٹوتی: کس شہر میں کیا ہے نیا ریٹ؟ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین نوٹیفکیشن کے مطابق، 14.2 کلوگرام والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 29 روپے کا یکمشت اضافہ کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سے قبل اسی سال 7 مارچ 2026 کو بھی گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 60 روپے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا۔ یعنی محض تین مہینوں کے اندر عوام پر یہ دوسرا بڑا بوجھ ہے۔ چار بڑے میٹروس میں گھریلو سلنڈر کے نئے نرخ: دہلی: دارالحکومت دہلی میں گھریلو سلنڈر اب 913 روپے کے بجائے 942 روپے میں ملے گا۔ کولکتہ: کولکتہ کے شہریوں کو اب ایک سلنڈر کے لیے 939 روپے کے بجائے 968 روپے چکانے ہوں گے۔ ممبئی: مالیاتی دارالحکومت ممبئی میں قیمت 912.50 روپے سے بڑھ کر 941.50 روپے ہو چکی ہے۔ چنئی: جنوبی ہند کے اس بڑے شہر میں پرانی قیمت 928.50 روپے تھی، جو اب بڑھ کر 957.50 روپے ہو گئی ہے۔ دیگر بڑے شہروں کا احوال (گھریلو سلنڈر): ملک کے دیگر حصوں میں گیس سلنڈر کی قیمتیں ایک ہزار روپے کی نفسیاتی حد کو چھو رہی ہیں یا اسے پار کر چکی ہیں۔ پٹنہ میں گھریلو سلنڈر اب 1,031.50 روپے کا ہو چکا ہے، جبکہ حیدرآباد میں اس کی قیمت 994 روپے، لکھنؤ میں 979.50 روپے، بھونیشور میں 968 روپے، چندی گڑھ میں 951.50 روپے، جے پور میں 945.50 روپے، اور نوئیڈا میں 939.50 روپے مقرر کی گئی ہے۔ 2. کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں آگ: چھوٹے کاروبار تباہی کے دہانے پر سرکار نے صرف گھریلو صارفین کو ہی نشانہ نہیں بنایا، بلکہ چھوٹے دکانداروں، ہوٹل مالکان، چائے کے ٹھیلے لگانے والوں اور ریستوراں چلانے والوں کی کمر بھی توڑ دی ہے۔ یکم جون سے ہی 19 کلوگرام والے کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دہلی میں تجارتی سلنڈر 42 روپے کے اضافے کے ساتھ اب 3,113.50 روپے کا ہو گیا ہے۔ کولکتہ میں تجارتی سلنڈر کی قیمت 53.50 روپے کے اضافے کے بعد 3,255.50 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پٹنہ میں کمرشل سلنڈر کی قیمت سب سے زیادہ یعنی 3,400 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حیدرآباد میں یہ 3,367 روپے اور ممبئی میں 3,067.50 روپے کا بک رہا ہے۔ غریب دیہاڑی داروں اور اسٹوڈنٹس کے زیرِ استعمال 5 کلوگرام کے ایف ٹی ایل (FTL) سلنڈر کی قیمت میں بھی 11 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے دہلی میں اس کا ریٹ 821.50 روپے ہو گیا ہے۔ تجارتی گیس کی ان آسمان چھوتی قیمتوں کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا، کیونکہ اب ہوٹلوں میں کھانا، چائے، اور دیگر پکی پکائی اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی، جس سے مارکیٹ میں افراطِ زر (Inflation) کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ 3. سرکاری کمپنیوں کا عذر اور کارپوریٹ نوازی کا کھیل تیل سپلائی کرنے والی کمپنیوں کا موقف ہے کہ وہ یہ اضافہ کرنے پر مجبور تھیں کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں مشرقِ وسطیٰ (امریکہ-ایران تصادم اور اسرائیل-لبنان کشیدگی) کے بحران کی وجہ سے توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ہر گھریلو سلنڈر کی فروخت پر 703 روپے کا بھاری مالی نقصان (Under-recovery) اٹھانا پڑ رہا تھا، جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا ناگزیر تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام اور عوام کا استحصال لیکن معاشی تجزیہ کار اس عذر کو سرے سے مسترد کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بین الاقوامی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر نیچے گرتی ہیں، تو حکومت اور یہ تیل کمپنیاں اس کا فائدہ کبھی بھی عام عوام کو منتقل نہیں کرتیں۔ اس کے برعکس، سستی گیس اور تیل خرید کر کارپوریٹ کمپنیاں اپنے منافع (Profit Margins) کو بڑھاتی ہیں اور حکومت ٹیکسوں میں اضافہ کر کے اپنا خزانہ بھرتی ہے۔ لیکن جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں معمولی سی تیزی آتی ہے، اس کا پورا بوجھ فوری طور پر عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ صریحاً کارپوریٹ نوازی اور سرمایہ دارانہ نظام کی بدترین مثال ہے جہاں عوام کو صرف ایک 'ٹیکس دینے والی مشین' سمجھ لیا گیا ہے۔ 4. مودی حکومت کی ناکامی اور معاشی بدانتظامی کا کچا چٹھا ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ موجودہ مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک کو "وشو گرو" اور 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنا رہی ہے، زمین پر موجود غریب طبقے کے لیے ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ ا) 'اجولا یوجنا' کا جنازہ نکل گیا حکومت نے بڑے زور و شور اور کروڑوں روپے کے اشتہارات کے ساتھ 'پردھان منتری اجولا یوجنا' (PMUY) کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد غریب خواتین کو لکڑی اور کوئلے کے دھوئیں سے نجات دلا کر ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنا تھا۔ لیکن آج حقیقت کیا ہے؟ گیس سلنڈر کی قیمت کو 950 اور 1000 روپے پار پہنچا کر حکومت نے غریبوں سے گیس خریدنے کی سکت ہی چھین لی ہے۔ دیہی علاقوں میں کروڑوں خواتین نے سلنڈر مہنگے ہونے کی وجہ سے انہیں کونے میں رکھ دیا ہے اور وہ دوبارہ چولہا جلانے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ یہ حکومت کی ایک بہت بڑی فلیگ شپ اسکیم کی مکمل اور واضح ناکامی ہے۔ ب) سبسڈی کا خاتمہ اور عوام سے دھوکہ دہی ماضی میں گھریلو گیس پر صارفین کو ایک معقول سبسڈی (Subsidy) دی جاتی تھی، جس سے عام خاندان کا بوجھ ہلکا ہو جاتا تھا۔ موجودہ حکومت نے دھیرے دھیرے، بغیر کسی باقاعدہ اعلان کے، غریبوں اور متوسط طبقے کی سبسڈی کو تقریباً صفر کر دیا ہے۔ اب صارفین کے بینک اکاؤنٹ میں سبسڈی کے نام پر صرف چند روپے آتے ہیں، جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ عوام سے ان کا یہ بنیادی حق چھین کر سرکار اب اپنی معاشی نااہلی کا بوجھ بھی انہی کے کندھوں پر ڈال رہی ہے۔ 5. محکمہ ایندھن اور آئل کمپنیوں میں جاری کرپشن اور مافیا راج تیل اور گیس کے اس پورے کھیل کے پیچھے صرف عالمی منڈی کے حالات نہیں، بلکہ ملک کے اندرونی نظام میں پھیلی بدعنوانی (Corruption) اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ بھی ہے۔ ا) بلیک مارکیٹنگ اور گھریلو گیس کا تجارتی استعمال کمرشل سلنڈر کی قیمت 3100 روپے سے تجاوز کر جانے کی وجہ سے مارکیٹ میں ایک بہت بڑا کرپشن نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ گیس ایجنسیوں کے مالکان، سپلائی کرنے والے مافیا اور مقامی انسپکٹرز کی ملی بھگت سے گھریلو سلنڈروں (جو کہ سستے ہیں) سے گیس نکال کر بڑے تجارتی سلنڈروں میں ری فل کی جاتی ہے، یا پھر ہوٹلوں اور فیکٹریوں میں غیر قانونی طور پر گھریلو سلنڈر ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے جہاں ایک طرف عام ایماندار صارفین کو وقت پر سلنڈر نہیں ملتے اور انہیں مصنوعی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہی دوسری طرف اس مافیا راج کے ذریعے ماہانہ کروڑوں روپے کی رشوت اعلیٰ افسران کی جیبوں میں پہنچتی ہے۔ ب) کمپنیوں کے شاہانہ اخراجات اور جھوٹے نقصانات سرکاری آئل کمپنیاں (IOCL, BPCL, HPCL) جو نقصانات کا رونا روتی ہیں، ان کے اعلیٰ حکام کے شاہانہ اخراجات، تشہیری مہمات اور فضول خرچیوں پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ بدعنوانی کا عالم یہ ہے کہ گیس کی درآمد (Import) اور ٹرانسپورٹیشن کے ٹھیکے من پسند کارپوریٹ دوستوں کو اونچی قیمتوں پر دیے جاتے ہیں، جس کا کمیشن اندر ہی اندر افسران اور سیاسی آقاؤں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس اندرونی کرپشن اور اوور پرائسنگ کا بوجھ آخر میں گیس سلنڈر کی قیمت بڑھا کر عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ 6. عوامی ردِعمل اور اپوزیشن کا جمود گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اس اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ ابل رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ "اچھے دن" کا نعرہ دے کر آنے والی حکومت نے غریبوں کے منہ کا نوالہ بھی چھین لیا ہے۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ جو رہنما 2014 سے پہلے 400 روپے کے سلنڈر پر سڑکوں پر سلنڈر سر پر اٹھا کر ناچتے تھے، وہ آج 950 روپے کا سلنڈر ہونے پر خاموش کیوں ہیں؟ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں اپوزیشن پارٹیاں بھی عوام کے اس بنیادی اسٹریٹجک مسئلے پر کوئی بڑا اور منظم تحریک چلانے میں ناکام رہی ہیں۔ محض بیانات جاری کرنے سے سرکار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جب تک مہنگائی اور کرپشن کے خلاف ملک گیر عوامی تحریک شروع نہیں ہوگی، تب تک کارپوریٹ کمپنیاں اور حکومت اسی طرح عوام کا خون چوستی رہیں گی۔ آج سے لاگو ہونے والے یہ نئے نرخ اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود (Welfare State) کے اپنے آئینی فرض سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ چکی ہے اور ملک کو کارپوریٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا، تو ملک کی نصف سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے چلی جائے گی۔