https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/7732_2026-07-13_islamictube.webp

آئی آئی ٹی اور ہارورڈ کی ڈگریاں بھی ہوئیں بے اثر: اے آئی کے دور میں نوکریاں تلاش کرتے نوجوان اور ان کی ٹوٹتی امیدیں

ہم اکثر اخباروں کے صفحات پر ان سنہری 'سکسیس اسٹوریز' (کامیابی کی کہانیوں) کو پڑھتے ہیں، جہاں کسی نوجوان کو کروڑوں کا پیکیج ملتا ہے یا راتوں رات کوئی بڑی ٹیک کمپنی اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیتی ہے۔ لیکن آج کی داستان کامیابی کی نہیں، بلکہ اس خوفناک زمینی حقیقت کی ہے جو دنیا کے سب سے بڑے ایجوکیشنل اور ٹیک ہب میں جنم لے رہی ہے۔ آئی آئی ٹی (IIT) اور یو پی ایس سی (UPSC) تو دور کی بات ہے، اب اسٹینفورڈ اور ہارورڈ جیسے عالمی شہرت یافتہ اداروں کے گریجویٹس بھی ڈگریوں کا بھاری بوجھ اٹھائے در در بھٹک رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں ڈگریاں تو ہیں، لیکن جھولی میں صرف 'اے آئی جنریٹڈ ریجیکشن' (AI Generated Rejection) کا داغ ہے۔ سلیکون ویلی کا یہ کڑوا سچ بتا رہا ہے کہ کامیابی کے پرانے پیمانے اب دم توڑ چکے ہیں۔ سینکڑوں عرضیاں، مگر کوئی انٹرویو نہیں فرانس کے مشہور اخبار 'Le Monde' کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، سلیکون ویلی کا طلسم اب ٹوٹ رہا ہے۔ 23 سالہ امریکی طالبہ ایلن یانگ کی کہانی اس کڑوے سچ کا آئینہ ہے۔ ایلن نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے انگلش اور لنگوئسٹکس میں پڑھائی پوری کی۔ ان کا اکیڈمک سفر شاندار تھا اور انہیں یقین تھا کہ اسٹینفورڈ کا نام ان کے لیے کارپوریٹ دنیا کے ہر دروازے کھول دے گا۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل الٹ تھی۔ ایلن نے سینکڑوں کمپنیوں میں نوکریوں کے لیے درخواستیں دیں، لیکن نتیجہ صفر رہا۔ انہیں ایک بھی انٹرویو کال نہیں آیا۔ جواب میں ملے تو صرف آٹومیٹک 'اے آئی جنریٹڈ ریجیکشن لیٹرز'—یعنی ان کا ریزیومے کسی انسان نے نہیں، بلکہ کمپیوٹر کے ایک بے جان سافٹ ویئر نے خارج کر دیا تھا۔ شرمندگی، مایوسی اور 'تھراپی' کا سہارا لگاتار مل رہی ان ناکامیوں نے نوجوانوں کا ذہنی سکون چھین لیا ہے۔ ایلن بتاتی ہیں کہ ان کے دوستوں کے درمیان مایوسی اس قدر حاوی تھی کہ انہوں نے آپس میں نوکری کا ذکر نہ کرنے کا عہد کر لیا تھا۔ دنیا کے بہترین ادارے سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے روزگار ہونے کی شرمندگی اور خوف نے ایلن کو پہلی بار کسی تھراپسٹ کے پاس جانے پر مجبور کر دیا۔ "میں نے اپنی پوری زندگی جس مقام کا خواب دیکھا تھا، وہاں پہنچ کر سب کچھ جیسے صفر ہو گیا،" ایلن کے یہ الفاظ موجودہ دور کے سب سے بڑے المیے کو بیان کرتے ہیں۔ سلیکون ویلی میں اس ویرانی کا سبب کیا ہے؟ Le Monde کی رپورٹ کے مطابق، سلیکون ویلی کا پرانا جوش اب ختم ہو رہا ہے۔ اس کی اہم وجوہات یہ ہیں: اے آئی کا بڑھتا دبدبہ: ٹیک کمپنیوں نے تیزی سے اے آئی ٹولز کو اپنا لیا ہے۔ کوڈنگ، مارکیٹنگ اور انٹری لیول کے جو کام پہلے فریشرز کرتے تھے، وہ اب مشینیں چند سیکنڈز میں کر رہی ہیں۔ بھرتیوں پر روک اور چھنٹنی: سان فرانسسکو اور سلیکون ویلی کی نامور کمپنیوں نے نئی بھرتیوں پر یا تو مکمل روک لگا دی ہے، یا پھر بڑے پیمانے پر چھنٹنی (Layoffs) کر رہی ہیں۔ ہندوستانی طلباء کے لیے اس میں کیا سبق پوشیدہ ہے؟ یہ صرف امریکہ کی کہانی نہیں، بلکہ ہندوستان میں لاکھوں روپے خرچ کر کے کوٹہ یا بڑے شہروں میں آئی آئی ٹی (IIT) اور آئی آئی ایم (IIM) کا خواب دیکھنے والے طلباء کے لیے بھی ایک 'ویک اپ کال' (انتباہ) ہے۔ ڈگری نہیں، ہنر (Skills) کی قدر: جب ہارورڈ اور اسٹینفورڈ کا ٹھپہ بھی نوکری کی گارنٹی نہیں رہا، تو سمجھنا ہوگا کہ کمپنیاں اب کالج کا نام نہیں، بلکہ آپ کی موجودہ اور عملی (Practical) صلاحیتوں کو دیکھتی ہیں۔ وقت کی مانگ - اے آئی سے دوستی: نوجوانوں کو اب اے آئی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے 'پرامپٹ انجینئرنگ' (Prompt Engineering) اور نئے اے آئی ٹولز کا استعمال سیکھنا ہوگا، تاکہ وہ مارکیٹ کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ نئے راستوں کی تلاش: روایتی کارپوریٹ نوکریوں کے سکڑتے دائرے کو دیکھتے ہوئے اب طلباء کو فری لانسنگ، کنسلٹنسی اور خود کے چھوٹے اسٹارٹ اپس کی طرف اپنے قدم بڑھانے ہوں گے۔ نتیجہ: تبدیلی فطرت کا قانون ہے۔ اگر ڈگریوں کے اس بدلتے بازار میں ٹکنا ہے، تو خود کو وقت کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا، ورنہ کامیابی کی ریس میں ڈگریاں محض ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جائیں گی۔