https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/8939_2026-06-06_islamictube.jpg

مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دہانے پر: امریکہ کا ایرانی ریڈار سائٹس پر بڑا حملہ

مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دہانے پر: امریکہ کا ایرانی ریڈار سائٹس پر بڑا حملہ، جواب میں ایران کا کویت اور بحرین پر بیلسٹک میزائلوں کا مینہ، ٹرمپ اور انٹیلی جنس کے دعوؤں میں تضاد، 2.29 لاکھ کروڑ کے منجمد اثاثوں پر مذاکرات تعطل کا شکار بین الاقوامی ڈیسک: خصوصی رپورٹ ہفتہ، 6 جون 2026 مشرقِ وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر ایک ہولناک اور وسیع تر علاقائی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی سطح پر جاری سفارتی کوششوں اور پاکستان کی مبینہ ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے پسِ منظر کے باوجود، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم نے صورتحال کو انتہائی دھماکہ خیز بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے خلیجی ممالک (کویت اور بحرین) میں قائم امریکی و اتحادی ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ نے خطے میں سکیورٹی کے تمام انتظامات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایران کی کمر توڑ دی ہے، وہیں دوسری طرف امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور معروف بین الاقوامی جریدے ٹرمپ کے ان دعوؤں کی نفی کر رہے ہیں۔ اس خونی تصادم کے ساتھ ہی، لبنان میں اسرائیلی جارحیت بھی عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں معصوم بچوں اور امدادی کارکنوں سمیت درجنوں افراد فضائی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ 1. فوجی تصادم کی تفصیلات: امریکہ کا گوروک اور قشم پر حملہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی بیان کے مطابق، امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران ایران کی انتہائی حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی "دفاعی اور تادیبی" نوعیت کی تھی، جس کا مقصد بین الاقوامی بحری گزرگاہوں اور امریکی افواج کا تحفظ کرنا تھا۔ آبنائے ہرمز پر ڈرونز گرانے سے شروع ہوا تنازعہ سینٹ کام کے مطابق، تنازعہ کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران کے چار جدید ترین حملہ آور سوسائیڈ ڈرونز (Kamikaze Drones) بین الاقوامی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے اوپر پرواز کر رہے تھے اور امریکی بحری جہازوں کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔ خطرے کو بھانپتے ہوئے امریکی دفاعی نظام نے ان چاروں ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد، مستقبل میں ایسے کسی بھی ایرانی فضائی حملے کو پیشگی روکنے کے لیے، امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے اسٹریٹجک جزائر گوروک اور قشم پر قائم ایرانی ریڈار سائٹس پر شدید بمباری کی۔ ان ریڈار سائٹس کو ایرانی کوسٹل ڈیفنس کا دل مانا جاتا ہے، جو آبنائے ہرمز میں امریکی اور بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے۔ 2. ایران کا ہولناک جوابی حملہ: کویت اور بحرین پر بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ امریکہ کے اس فضائی حملے کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے روایتی سخت موقف اپناتے ہوئے چند ہی گھنٹوں کے اندر ایک بڑے جوابی آپریشن کا آغاز کر دیا۔ ایران نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب "دشمن کے ٹھکانوں" کو نشانہ بنانے کے لیے اس کی میزائل فورس نے متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا امریکی سیکیورٹی ذرائع اور سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے 7 جدید بیلسٹک میزائل داغے۔ ان میزائلوں کا رخ بنیادی طور پر کویت اور بحرین کی طرف تھا، جہاں امریکی افواج کے بڑے مراکز موجود ہیں۔ امریکی دفاعی نظام (Patriot Missile Defense System) نے اس حملے کے دوران مستعدی کا مظاہرہ کیا: چھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا: امریکی اینٹی میزائل سسٹم نے ان سات میں سے 6 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو درمیانی ہوا (Mid-Air Interception) میں ہی کامیابی سے مار گرایا۔ ساتواں میزائل ہدف تک پہنچنے میں ناکام: سینٹ کام کے مطابق، ساتواں ایرانی میزائل تکنیکی خرابی یا امریکی جیمنگ سسٹم کی وجہ سے اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہو کر گر گیا۔ اس حملے میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، لیکن خلیجی ممالک میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ 3. صدر ٹرمپ کے دعوے بمقابلہ امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹس: حقیقت کیا ہے؟ اس فوجی کارروائی کے بعد واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حسبِ روایت انتہائی جارحانہ اور فتح مندانہ انداز اختیار کیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی حملوں اور سخت اقتصادی پابندیوں نے ایران کے فوجی ڈھانچے کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کی صرف 22 فیصد میزائل طاقت باقی ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہا: "ہمارے حالیہ حملوں کے بعد ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔ ہماری انٹیلی جنس کی ابتدائی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایران اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ کوئی طویل جنگ لڑ سکے۔ اس کے پاس اپنے اصل میزائل ہتھیاروں کا اب صرف 21 سے 22 فیصد حصہ ہی باقی بچا ہے۔ باقی سب یا تو تباہ ہو چکا ہے یا ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔" نیویارک ٹائمز کا سنسنی خیز انکشاف: ٹرمپ کا دعویٰ غلط؟ تاہم، صدر ٹرمپ کے اس بڑے دعوے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ کے معتبر ترین اخبار نیویارک ٹائمز (The New York Times) نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندرونی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے بنیاد پر ایک متبادل اور چونکا دینے والی رپورٹ شائع کر دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس برادری صدر ٹرمپ کے اس جائزے سے اتفاق نہیں کرتی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ: 30 میزائل سائٹس دوبارہ فعال: ایران پر ہونے والے سابقہ حملوں کے باوجود، ایرانی انجینئرز اور پاسدارانِ انقلاب نے اپنی کل 33 میزائل سائٹس میں سے 30 سائٹس کو دوبارہ مکمل طور پر فعال کر لیا ہے۔ 70 فیصد ذخیرہ اب بھی محفوظ: انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ ایران کا اصل میزائلوں کا ذخیرہ (Missile Stockpile) اب بھی بڑے پیمانے پر محفوظ ہے اور ایران کے پاس اپنی میزائل طاقت کا تقریباً 70 فیصد حصہ بالکل صحیح سلامت اور تیار حالت میں موجود ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان زمین پر موجود حقیقت سے زیادہ "سیاسی بیانیہ اور ڈیمج کنٹرول" کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے۔ 4. گزشتہ 24 گھنٹوں کی پانچ بڑی اور اہم ترین بین الاقوامی اپ ڈیٹس اس فوجی تصادم کے متوازی، عالمی منظر نامے پر پانچ ایسی اہم پیش رفتیں ہوئی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا تعین کریں گی: ا) ٹرمپ اور ایرانی سپریم لیڈر کی ممکنہ ملاقات اور خفیہ فوجی منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی جامع اور پائیدار امن معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے براہِ راست ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک خوفناک راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) کے ذخائر کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے امریکی اسپیشل فورسز کو براہِ راست ایران بھیجنے کے فوجی منصوبے پر سنجیدگی سے غور کیا تھا۔ تاہم، اس مشن میں ملوث امریکی فوجیوں کی جانوں کے بے پناہ خطرے اور تیسری جنگِ عظیم چھڑنے کے خوف سے اس منصوبے کو آخری وقت پر منسوخ کر دیا گیا۔ ب) ایران کے سپریم لیڈر کا بڑا اقدام: 2000 سے زائد قیدیوں کی معافی تہران سے آنے والی رپورٹس کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک خصوصی شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے ملک کی مختلف جیلوں میں بند 2,000 سے زائد قیدیوں کی معافی یا ان کی سزا میں بڑی کمی کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم، ایرانی عدلیہ نے واضح کیا ہے کہ اس معافی کا اطلاق ان قیدیوں پر نہیں ہوگا جو غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے جاسوسی (Espionage)، تخریب کاری اور ایران کی قومی سلامتی (National Security) کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس اقدام کو ملک کے اندرونی حالات کو پرامن رکھنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ج) لبنان میں جنگ بندی مذاکرات کے باوجود اسرائیلی وحشیانہ بمباری جاری بین الاقوامی سطح پر جاری جنگ بندی کی کوششوں اور سفارتی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، اسرائیل کی نیتن یاہو حکومت نے جنوبی لبنان پر اپنے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان کے متعدد رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار شہریوں کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی جبکہ درجنوں دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ د) امریکی پابندیوں کا اثر: ایران کی تیل کی برآمدات میں 84 فیصد کی تاریخی کمی عالمی جہاز رانی پر نظر رکھنے والے ادارے 'لائیڈز لسٹ' (Lloyd's List) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، امریکی اقتصادی پابندیوں کے کڑے پہرے کے باعث مئی کے مہینے میں ایران کی خام تیل (Crude Oil) کی قانونی برآمدات میں 84 فیصد کی ریکارڈ کمی درج کی گئی ہے۔ اس معاشی نقصان اور امریکی بحریہ کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے ایران نے اب اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر دی ہے۔ ایران اب تیل کی سپلائی کے لیے بڑے ٹینکروں (VLCC) کے بجائے چھوٹے جہازوں کا استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی سمندروں میں امریکی ریڈاروں کی نظروں سے بچ کر خفیہ طریقے سے تیل بیچ سکے۔ ہ) آئرلینڈ کا اسرائیل کے خلاف بڑا سفارتی ایکشن: وزراء پر ملک میں داخلے کی پابندی یورپی ملک آئرلینڈ نے اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی اور جارحانہ بیانات پر سخت ترین موقف اپناتے ہوئے اسرائیل کے دو انتہائی سخت گیر اور دائیں بازو کے وزراء، وزیرِ داخلہ اتمار بین گویر اور وزیرِ مالیات بیزیل سموٹریچ پر اپنے ملک میں داخلے پر مستقل پابندی عائد کر دی ہے۔ آئرش حکومت نے اپنے باقاعدہ اعلامیے میں کہا ہے کہ ان دونوں اسرائیلی رہنماؤں کے نسل پرستانہ بیانات نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف نفرت، تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو ہوا دی ہے، لہذا انہیں آئرلینڈ کی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 5. 2.29 لاکھ کروڑ روپے کے منجمد اثاثے: امریکہ ایران امن مذاکرات کا اصل تعطل امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی ناکامی اور حالیہ فوجی حملوں کے پیچھے سب سے بڑی معاشی وجہ اب سامنے آ چکی ہے۔ سی این این (CNN) کی ایک خصوصی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ امن معاہدہ اس وقت تک حتمی شکل اختیار نہیں کر سکتا جب تک ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال نہیں کرتے۔ ایران کا 24 بلین ڈالر کا مطالبہ، گیند ٹرمپ کے کورٹ میں امریکہ نے ایران کے تقریباً 24 بلین ڈالر (پاکستانی/بھارتی کرنسی میں تقریباً 2.29 لاکھ کروڑ روپے) کے اثاثے مختلف عالمی بینکوں میں منجمد (Freeze) کر رکھے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر کے سینیئر ملٹری ایڈوائزر اور سابق پاسدارانِ انقلاب چیف محسن رضائی نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات اس وقت مکمل طور پر تعطل (Deadlock) کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس تعطل کو حل کرنا اب مکمل طور پر صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے، اب گیند ٹرمپ کے کورٹ میں ہے۔" سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ایران کا مطالبہ ہے کہ جیسے ہی دونوں ممالک عبوری معاہدے پر دستخط کریں، امریکہ فوری طور پر پہلی قسط کے طور پر 12 بلین ڈالر جاری کرے، اور باقی ماندہ 12 بلین ڈالر معاہدے کے اگلے مراحل پر عمل درآمد کے بعد ریلیز کیے جائیں۔ دوسری طرف، امریکی سیکیورٹی حکام اور پینٹاگون کو سخت تشویش ہے کہ اگر اس مرحلے پر ایران کو اتنی بڑی رقم فراہم کر دی گئی، تو ایران پر معاشی دباؤ ختم ہو جائے گا اور وہ اس رقم کا بڑا حصہ اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی پراکسیز (حزب اللہ اور حوثیوں) کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ 6. لبنان میں اسرائیلی بربریت: حالیہ حملوں میں میونسپل کونسلر اور بچوں سمیت 21 ہلاک مشرقِ وسطیٰ کے اس پورے تنازعہ کا سب سے المناک پہلو لبنان ہے، جہاں معصوم شہری مسلسل اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'این این اے' (NNA) کا حوالہ دیتے ہوئے سی این این نے بتایا کہ جمعہ کے روز جنوبی لبنان پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں 21 افراد جاں بحق ہو گئے۔ امدادی کارکنوں اور بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام جاں بحق ہونے والوں میں ایک مقامی میونسپل کونسل کا معزز رکن، دو معصوم شامی پناہ گزین بچے اور سب سے افسوسناک طور پر ایک طبی عملے کا رکن (Paramedic) شامل ہے جو اسرائیلی بمباری کے بعد زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے اور بچانے کے لیے موقع پر گیا تھا۔ لبنان کی وزارتِ صحت نے اس واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جان بوجھ کر طبی عملے، ایمبولینسوں اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانا جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قوانین (International Humanitarian Law) کی کھلی اور سنگین ترین خلاف ورزی ہے، جسے کسی بھی صورت جنگی دفاع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اب جنگ صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ زمین، فضا اور سمندر میں پھیل چکی ہے۔ اگر امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثوں پر لچک نہ دکھائی اور ایران کے میزائل حملوں کا سلسلہ نہ رکا، تو آنے والے دن پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔