ایران امریکہ مذاکرات: پاکستان کی ثالثی میں تیار ہونے والے 4 مرحلوں کے معاہدے کی تفصیلات منظرِ عام پر
ایران امریکہ مذاکرات: 4 مراحل پر مشتمل مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آ گئیں واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں ہفتے ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات کے اعلان کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کا 4 مرحلوں پر مشتمل خاکہ سامنے آیا ہے۔ یہ مذاکرات مبینہ طور پر پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، جہاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یورینیم کی افزودگی کو مرکزی نکتہ قرار دیا ہے۔ تاہم، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فی الحال کسی بڑی پیش رفت کی نفی کرتے ہوئے مذاکرات میں تعطل کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری طرف امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگ سے امریکی افواج کی واپسی کی قرارداد منظور کر کے صدر ٹرمپ کو سیاسی دھچکا دیا ہے۔ مجوزہ معاہدے کے 4 اہم مراحل: پہلا مرحلہ (جنگ بندی کا استحکام): براہِ راست فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، خطے میں نئی کشیدگی کو روکنا اور لبنان کی صورتحال کو شامل کرنا۔ دوسرا مرحلہ (بحری سلامتی): آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا اور عالمی جہاز رانی و توانائی کی ترسیل کا تحفظ یقینی بنانا۔ تیسرا مرحلہ (پابندیوں میں نرمی): ایران کے منجمد اثاثوں کی جزوی رہائی، تیل کی برآمدات میں سہولت اور معاشی اعتماد سازی۔ چوتھا مرحلہ (جوہری پروگرام): یہ سب سے پیچیدہ مرحلہ ہے جس میں یورینیم کی افزودگی کی سطح، بین الاقوامی نگرانی اور طویل المدتی سکیورٹی ضمانتیں شامل ہیں۔