مغربی بنگال اسکول نوکری گھوٹالہ: 1804 داغدار اساتذہ کی فہرست جاری، سپریم کورٹ کے حکم پر عمل
india

مغربی بنگال اسکول نوکری گھوٹالہ: 1804 داغدار اساتذہ کی فہرست جاری، سپریم کورٹ کے حکم پر عمل

admin
30 Aug, 2025

مغربی بنگال اسکول سروس کمیشن (WBSSC) نے 2016 کے ریاستی سطح کے انتخابی امتحان (SLST) سے متعلق ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 1804 داغدار اساتذہ کی فہرست جاری کی، جو ہفتے کی رات 8 بجے کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کے 28 اگست 2025 کے حکم کی تعمیل میں کیا گیا، جس نے کمیشن کو ایک ہفتے میں فہرست شائع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ داغدار امیدواروں کو آئندہ بھرتی امتحانات میں شرکت سے روک دیا گیا ہے، جبکہ اس گھوٹالے نے سیاسی و تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

گھوٹالے کی تفصیلات

مغربی بنگال اسکول نوکری گھوٹالہ 2016 کے SLST سے جڑا ہے، جہاں امیدواروں نے OMR شیٹس میں ہیرا پھیری اور بااثر افراد کی مدد سے رینک میں اضافہ کیا۔ سپریم کورٹ کے 3 اپریل 2025 کے فیصلے میں 25,753 تقرریاں منسوخ کی گئیں، جن میں سے 5,303 افراد داغدار قرار پائے، بشمول 1,804 اساتذہ۔ باقی 15,803 اساتذہ کو ’صاف‘ قرار دیا گیا۔ WBSSC کے چیئرمین سدھارتھ مجمدار نے کہا کہ ’داغدار امیدواروں کو 7 اور 14 ستمبر 2025 کو ہونے والے نئے SLST امتحانات میں داخلہ نہیں دیا جائے گا، اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔‘ فہرست میں امیدواروں کے نام، رول نمبر، اور سیریل نمبر حروف تہجی کے مطابق درج ہیں۔

کمیشن نے اعلان کیا کہ گروپ سی اور ڈی کے غیر تدریسی عملے کی داغدار فہرست بھی جلد اپ لوڈ کی جائے گی۔ تاہم، مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم سکانتا مجمدار نے ریاستی حکومت اور WBSSC پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’دو سال سے زائد عرصے تک فہرست جاری نہ کرنا اور ہفتے کو تاخیر سے اپ لوڈ کرنا ریاستی ایجنسی کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ’یہ گھوٹالہ ٹی ایم سی رہنماؤں کی ملی بھگت سے ہوا، جس سے ہزاروں اہل اساتذہ متاثر ہوئے۔‘

سیاسی ردعمل

ٹی ایم سی کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’ہم عدالت کے احکامات کی پابندی کر رہے ہیں اور متاثرین کے لیے انصاف کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ دوسری جانب، بی جے پی نے اسے ’ٹی ایم سی کی بدعنوانی‘ کا ثبوت قرار دیا۔ بی جے پی رہنما پردیپ بھنڈاری نے کہا کہ ’یہ گھوٹالہ مغربی بنگال کی تعلیمی نظام کی تباہی کا مظہر ہے۔‘ کانگریس نے بھی اسے ’نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ‘ قرار دیا۔

پس منظر

یہ گھوٹالہ مغربی بنگال کے تعلیمی نظام میں بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ 2016 سے لے کر اب تک، اسکول سروس کمیشن پر شفافیت کے فقدان کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ 2019 میں اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھے تھے، اور اب یہ فہرست جاری ہونے سے متاثرہ اساتذہ کی بحالی کے امکانات پر بحث جاری ہے۔

حوالہ جات

دی ہندو،

انڈیا ٹوڈے،

ایکسپریس اردو،

دی وائر اردو،

جیو نیوز اردو،

ایکس پوسٹ

ٹیگز: #مغربی بنگال #اسکول نوکری گھوٹالہ #WBSSC #SLST 2016 #داغدار اساتذہ #سپریم کورٹ #West Bengal #School Job Scam #WBSSC #SLST 2016 #Tainted Teachers #Supreme Court #مغربی بنگال #اسکول نوکری گھوٹالہ #داغدار اساتذہ مغربی بنگال #اسکول نوکری گھوٹالہ #WBSSC #SLST 2016 #داغدار اساتذہ #سپریم کورٹ #بدعنوانی #تعلیم #West Bengal #School Job Scam #WBSSC #SLST 2016 #Tainted Teachers #Supreme Court #Corruption #Education #مغربی بنگال #اسکول نوکری گھوٹالہ #داغدار اساتذہ #سپریم کورٹ #بدعنوانی #مغربی بنگال اسکول گھوٹالہ #1804 داغدار اساتذہ #SLST 2016 #سپریم کورٹ #WBSSC #OMR شیٹ ہیرا پھیری #اساتذہ کی بھرتی #ٹی ایم سی #سکانتا مجمدار #نئے امتحانات #داغدار فہرست #مغربی بنگال تعلیم #شفافیت #تقرریوں کی منسوخی #سیاسی تنازعہ #پश्चिम बंगाल स्कूल घोटाला #1804 दागी शिक्षक #एसएलएसटी 2016 #सुप्रीम कोर्ट #डब्ल्यूबीएसएससी #ओएमआर शीट हेरफेर #शिक्षक भर्ती #टीएमसी #सुखान्त मजूमदार #नई परीक्षाएं #दागी सूची #पश्चिम बंगाल शिक्षा #पारदर्शिता #नियुक्तियों की रद्दीकरण #राजनीतिक विवाद #West Bengal school scam #1804 tainted teachers #SLST 2016 #Supreme Court #WBSSC #OMR sheet manipulation #teacher recruitment #TMC #Sukanta Majumdar #new exams #tainted list #West Bengal education #transparency #appointment cancellation #political controversy

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین