پچاس روپیے کا نوٹ

ایک بجلی کے کھمبے پر ایک کاغذ چپکا دیکھ کر میں قریب چلا گیا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا ، لکھا تھا.........! برائے کرم ضرور پڑھیں اس راستے پر کل میرا ۵۰ روپیہ کا نوٹ کھو گیا ھے ، مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا جسے بھی ملے برائے کرم پہنچا دے نوازش ھوگی................ !!! ایڈریس:- ۔۔۔۔******۔۔۔۔*****۔۔۔ یہ پڑھنے کے بعد مجھے بہت حیرت ہوئی کہ پچاس کا نوٹ کسی کے لیے اتنا ضروری ہے تو اس پتہ پر جانے کا ارادہ کیا اور اس گلی میں اس مکان کے دروازے پر آواز لگائی، ایک ضعیفہ لاٹھی ٹیکتی ھوئی باھر آئی ، پوچھنے پر معلوم ھوا بڑی بی اکیلے رھتی ھیں اور کم دکھائی دیتا ھے ، میں نے کہا " ماں جی آپ کا پچاس کا نوٹ مجھے ملا ھے..........! اسے دینے آیا ھوں؛ یہ سن کر بڑھیا رونے لگی ! بیٹا ......... ! ابھی تک قریب قریب 50 لوگ مجھے پچاس کا نوٹ دے گئے ھیں ! میں ان پڑھ ھوں ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیتا ، پتا نہیں کون میری اس حالت کو دیکھ کر میری مدد کرنے کے لئے لکھ کر چلا گیا.......!! ! بہت اصرار کرنے پر مائی نے پیسے تو رکھ لئے لیکن ایک درخواست کی کہ بیٹا وہ میں نے نہیں لکھا کسی نے میری مدد کی خاطر لکھ دیا ھے جاتے ھوئے اسے پھاڑ کر پھنک دینا بیٹا !! میں نے ھاں کہہ کر ٹال تو دیا؛ ؛؛ لیکن میرے ضمیر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان سبھی لوگوں سے بڑھیا نے وہ کاغذ پھاڑنے کے لئے کہا ھوگا مگر کسی نے نہیں پھاڑا ۔ زندگی میں ھم کتنے صحیح ھیں کتنے غلط یہ صرف دو ھی جانتے ھیں ایک " الله تعالیٰ " دوسرا ھمارا " ضمیر " ، میرا دل اس شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور ھوگیا کہ وہ شخص کتنا مخلص ھوگا جس نے بڑھیا کی مدد کا یہ طریقہ تلاش کیا ، ضرورت مندوں کی امداد کے کئی طریقے ھیں میں نےاس شخص کو دل سے دعائیں دیں کہ کسی کی مدد کرنے کے کتنے طریقے ھیں صرف مدد کرنے کی نیت ھونی چاھیئے راستہ اور رہنمائی اللہ سبحانہ کی طرف سے ہوجاتی ہے !!! شعور اور احساس بیدار کرنے کے لیے ،،، شکریہ.

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اسرائیل سے متعلق تین موقف

اسرائیل سے متعلق تین موقف

موجودہ دور میں اسرائیل سے متعلق تین موقف پائے جاتے ہیں : نمبر(۱) اسرائیل، امریکہ وغیرہ: ان کا موقف ہے کہ : بیت المقدس سمیت فلسطین کے جتنے حصے پر اسرائیل قابض ہے، وہ اسرائیل کا حصہ ہیں۔ جلا وطن کیے گئے فلسطینی جہاں کہیں جائیں، فلسطین میں اُن کی کوئی جگہ نہیں۔ بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا۔ نمبر (۲) ترکی ، اردن ، مصر: وہ اسلامی ممالک، جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے، اُن کا موقف یہ ہے کہ: ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے جو رقبہ اور حدود اسرائیل کے لیے طے کیا تھا، اسرائیل اُن کے اندر رہے، بیت المقدس اور باقی فلسطین کو آزاد کرے۔ وہ اسرائیل کا حصہ نہیں ہے۔ نمبر (۳) پاکستان اور سعودیہ عرب وغیرہ: وہ ممالک جنھوں نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ ان کا موقف یہ ہے کہ : یہودی پورے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ ختم کریں، اُن کے پاس یورپی ممالک کی شہریتیں موجود ہیں۔ وہ ۱۹۲۲ء میں اور اس کے بعد جہاں جہاں سے اُٹھ کر فلسطین آئے تھے، وہاں واپس جائیں۔ اور قضیہ فلسطین کا حل ۱۹۴۸ء کے بجائے ۱۹۱۷ء کی پوزیشن پر حل کیا جائے ۔ جب خلافت عثمانیہ کی عملداری تھی اور فلسطین کے اندر کسی یہودی کو مستقل رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ (ماہنامہ صفدر اکتوبر/ ص: ۱۰)