باپ کا آخری خط

کہانی کا عنوان: "ابو نے کہا تھا جلد واپس آؤں گا... مگر گیارہ سال گزر گئے" میں صرف آٹھ سال کا تھا جب ابو نے گھر سے جاتے ہوئے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا: "بیٹا، بس چند مہینوں کی بات ہے... پھر میں واپس آ جاؤں گا۔" اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ بعض "چند مہینے" پورا بچپن نگل جاتے ہیں۔ ہمارا گھر چھوٹا تھا، مگر خوشیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ابو ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے۔ آمدنی زیادہ نہیں تھی، لیکن اتنی ضرور تھی کہ گھر کا چولہا جلتا رہے اور ہم خواب دیکھ سکیں۔ پھر ایک دن فیکٹری بند ہو گئی۔ گھر کے حالات بدلنے لگے۔ امی نے اپنے زیور بیچ دیے۔ ابو نے کئی جگہ نوکری تلاش کی، مگر کامیابی نہ ملی۔ آخر ایک رشتہ دار نے مشورہ دیا کہ بیرونِ ملک چلے جاؤ۔ ابو نے بہت سوچا۔ وہ جانا نہیں چاہتے تھے، مگر شاید بعض باپ اپنی خواہشوں سے زیادہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جانے والے دن میں ان سے لپٹ کر رو پڑا۔ "ابو، آپ کب واپس آئیں گے؟" انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا: "جلد آؤں گا بیٹا۔ تم دیکھنا، جب واپس آؤں گا تو تمہارے لیے بہت سارے کھلونے لاؤں گا۔" میں ہنس دیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میں اگلے گیارہ سال انہی لفظوں کے سہارے گزاروں گا۔ شروع کے چند مہینوں تک ابو کے فون آتے رہے۔ وہ ہر بار کہتے کہ بس کچھ وقت اور۔ پھر فون کم ہونے لگے۔ پھر مہینوں بعد آنے لگے۔ پھر صرف عیدوں پر۔ اور پھر... ایک دن فون آنا بند ہو گئے۔ امی ہر بار یہی کہتیں: "تمہارے ابو ٹھیک ہیں۔ بس بہت مصروف ہوں گے۔" میں یقین کر لیتا۔ سال گزرتے گئے۔ میں بڑا ہوتا گیا۔ میرے دوست اپنے باپ کے ساتھ بازار جاتے، تصویریں بنواتے، مشورے لیتے۔ اور میں؟ میں صرف انتظار کرتا رہا۔ کبھی دروازے کو دیکھتا، کبھی فون کو۔ ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے وقت دل میں یہی خیال آتا کہ شاید اس بار ابو آ جائیں۔ مگر وہ نہیں آئے۔ ایک دن میں نے امی سے پوچھ لیا: "کیا ابو ہمیں بھول گئے ہیں؟" یہ سن کر امی فوراً کمرے سے نکل گئیں۔ میں نے پہلی بار انہیں چھپ کر روتے دیکھا تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ میں یونیورسٹی پہنچ گیا۔ اب انتظار عادت بن چکا تھا۔ پھر ایک رات دروازے پر دستک ہوئی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی آدمی کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا بیگ تھا۔ اس نے میرا نام پوچھا۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا۔ اس نے بیگ میری طرف بڑھا دیا۔ "یہ تمہارے ابو کی امانت ہے۔" میرے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔ "میرے ابو کہاں ہیں؟" آدمی کی آنکھیں جھک گئیں۔ اور اگلے چند لفظوں نے میری پوری دنیا بدل دی۔ "تمہارے ابو گیارہ سال پہلے انتقال کر گئے تھے۔" میری سانس رک گئی۔ میرے ہاتھ سے بیگ گر گیا۔ میں نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ "یہ جھوٹ ہے..." مگر وہ آدمی خاموش رہا۔ پھر اس نے بتایا کہ ابو بیرونِ ملک ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ ان کے پاس نہ کوئی قریبی رشتہ دار تھا، نہ کوئی ایسا شخص جو فوری طور پر خاندان تک خبر پہنچا سکتا۔ کاغذی کارروائیوں اور حالات کی پیچیدگیوں میں سال گزرتے گئے۔ لیکن مرنے سے پہلے انہوں نے ایک بیگ اپنے دوست کے حوالے کیا تھا اور کہا تھا: "اگر کبھی میرے گھر والوں تک پہنچ سکو تو یہ امانت انہیں دے دینا۔" کانپتے ہاتھوں سے میں نے بیگ کھولا۔ اندر چند کپڑے تھے۔ ایک پرانی گھڑی۔ اور ایک خط۔ میں نے خط کھولا۔ اس میں لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے... اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو تو شاید میں تمہارے پاس واپس نہ آ سکا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اپنا وعدہ پورا نہ کر سکا۔ مگر یقین کرنا... میں نے تمہیں کبھی نہیں بھلایا۔ میں ہر دن تمہارے لیے جیا۔ ہر سانس میں تمہاری فکر تھی۔ اگر میں واپس نہ آ سکوں تو اپنی ماں کا خیال رکھنا۔ اور کبھی یہ مت سوچنا کہ تمہارا باپ تمہیں چھوڑ گیا تھا۔ میں صرف راستے میں رک گیا تھا۔" خط کے آخری لفظ دھندلے تھے۔ شاید وہ آنسوؤں سے بھیگ گئے تھے۔ میں پہلی بار سمجھا کہ بعض باپ گھر چھوڑتے نہیں... وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی تلاش میں خود کو کھو دیتے ہیں۔ اور بعض انتظار ختم نہیں ہوتے... وہ صرف یاد بن جاتے ہیں۔ اگر یہ کہانی آپ کے دل کو چھو گئی ہے تو شاید آپ بھی اُن لوگوں میں سے ہیں جو لفظوں کے پیچھے چھپے احساسات کو سمجھتے ہیں۔ ایسی ہی سچی، جذباتی اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں پڑھنے کے لیے "Islamic Tube Pro " ایپ انسٹال کر لیں۔ کیونکہ یہاں ہر کہانی صرف پڑھی نہیں جاتی... محسوس کی جاتی ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

امانت داری ہو تو ایسی

امانت داری ہو تو ایسی

الجزائر سے تعلق رکھنے والی نامور اور عرب دنیا کی مقبول ترین اینکر و صحافی خدیجہ بنت قنہ اپنے دورہ امریکہ کے بارے میں بتاتی ہیں کہ وہ ایک  سپر اسٹور میں شاپنگ کے بعد کاونٹر پر ادائیگی کے لیئے اپنی باری کی منتظر تھیں کہ اسی دوران ایک باحجاب مسلمان خاتون ایک بڑا سا بکس کھینچتے ہوئے داخل ہو گئیں۔ بکس غالبا گھاس کاٹنے والی مشین کا تھا ۔ خاتون کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے۔ وہ خاتون، کاونٹر پر کھڑی کیشر ملازمہ کے پاس چلی گئی اور بڑے ادب کے ساتھ کہنے لگی کہ یہ مشین آپ سے کل دیگر اشیا کے ساتھ ۵۰۰ ڈالر کی خرید کر لے گئی تھی  ۔ کیشر : کیا آپ اسے واپس کرنا چاہتی ہو ؟ مسلمان خاتون : نہیں ۔ کیشر ملازمہ: کیا آپ نے کسی دوسرے اسٹور پر اس سے کم قیمت میں فروخت ہوتے دیکھی ھے تو ہماری پالیسی آپکو بقیہ رقم دینے کی بھی ھے، مگر اسکے لیئے آپ کو دوسرے اسٹور کی قیمت کا ثبوت دکھانا ہو گا۔ مسلمان خاتون کہنے لگی کہ ان وجوہات میں سے کچھ نہیں ۔ بلکہ میں نے کل آپ سے دیگر اشیا کے ساتھ یہ مشین خریدی تھی جس کی ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کر دی گئی تھی ۔ پھر اس سامان کو اٹھا کر میں اپنی رہائش گاہ پر لے گئی جو یہاں سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ھے ۔ لیکن جب گھر پہنچی اور بل دیکھا تو مجھے معلوم  ہوا کہ آپ نے مجھ سے دیگر اشیاء کی قیمت تو وصول کی ھے مگر اس مشین کی قیمت لگانا بھول گئی تھیں۔ یہ سنتے ھی کیشیر ملازمہ نے اٹھ کر خاتون کو گلے لگا لیا اور آنکھوں میں اترتے آنسوں کو جذب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جذبات سے مخمور لہجے میں کہنے لگی کہ پھر کس چیز نے آپکو ۴ گھنٹے کی مسافت طے کرنے اور ملازمت سے چھٹی لینے پر مجبور کر دیا۔؟ مسلمان خاتون نے بڑی سادگی سے بولا کہ امانت داری نے ۔ اور پھر انگریزی میں اسے امانت کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی تشریح کرنے لگی۔ یہ سن کر ملازمہ اٹھ کر شیشے کے کیبن میں بیٹھی ہوئی مینجر خاتون کے پاس گئیں ۔ ھم سن نہیں رھے تھے مگر اس کی باڈی لینگویج سے اس کے تاثرات بتا رھے تھے کہ وہ کچھ خاص انداز سے کچھ کہے جا رھی ھے ۔ ملازمہ نے توقف کیا ۔ تو مینجر خاتون اپنی نشست سے اٹھیں اور  باہر آ گئیں۔ اسٹور کے تمام اسٹاف کو جمع کر لیا جس کے ساتھ کسٹمرز بھی جمع ہو گئے۔ انہیں اس مسلمان خاتون کی امانت داری کے بارے بتانے لگیں ۔ مسلمان خاتون خاموش کھڑی رھی۔ جس کے چہرے پر حیا کی پرچھائیاں بکھری ہوئی تھیں ۔ یہ سننے کے بعد اسٹاف نے مسلمان خاتون سے اسلام میں امانت اور دیانت داری کے بابت سوالات کیئے۔ جسکے جوابات اس نے بڑے نپے تلے انداز میں دینی معلومات  کی روشنی میں دے دیئے ۔ مینجر خاتون نے مسلمان خاتون کو مشین گفٹ کرنے کی پیشکش کر دی جسے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیئے مشین سے زیادہ اہمیت ثواب کی  ھے ۔ وہ قیمت کی ادائیگی کرکے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اسٹور سے نکل گئیں ۔ اس واقعہ کو سپراسٹور میں موجود درجنوں کسٹمرز نے بھی دیکھا جو حجاب پہنے ایک دل آویز مسکراہٹ اور ایمانی قوت کے ہالے میں گھری ہوئی سپر سٹور سے نکل کر رخصت ہو نے والی خاتون کو بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے  ۔ خدیجہ بنت قنہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر اور دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے پر بڑا فخر محسوس ہوا اور  ادائیگی کے ساتھ شکر ادا کر کے سپر اسٹور سے نکل آئیں۔ لا الہ الااللہ محمد رسول 🌾 پڑھنے کے بعد اگر انسان کے اندر دو خوبیاں ہوں، ۱ : خوف خدا ۲ : اچھے اخلاق معاشرہ اس شخص کی قدر کرتا ھے، اور یہ ھی دو خوبیاں مرنے کے بعد انسان کو جنت میں لے جاسکتی ہیں۔ ان شاء اللّٰہ "کاش ہم بھی ایسے مسلمان بن جائیں" منقول۔ انتخاب: اسلامک ٹیوب