ایک عالم کا دل ہلا دینے والا قصہ

چنانچہ میں آپ کو ایک عجیب عبرت انگیز حکایت سناتا ہوں جو میں نے مولانا فتح محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے سنی تھی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ شیخ دہان ( تاجر روغن) نے جو مکہ مکرمہ کے ایک بڑے عالم تھے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں ایک عالم کا انتقال ہوا اور ان کو دفن کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد کسی دوسرے شخص کا انتقال ہوا تو اس کے وارثوں نے ان عالم صاحب کی قبر میں ان کو دفن کرنا چاہا مکہ مکرمہ میں یہی دستور ہے کہ ایک قبر میں کئی کئی مردوں کو دفن کر دیتے ہیں۔ چنانچہ ان عالم صاحب کی قبر کھودی گئی تو دیکھا کہ ان کی لاش کی بجائے ایک نہایت حسین لڑکی کی لاش رکھی ہوئی ہے اور صورت دیکھنے سے وہ لڑکی یورپین معلوم ہوتی تھی۔ سب کو حیرت ہوئی کہ یہ کیا معاملہ ہے اتفاق سے اس مجمع میں یورپ سے آنے والا ایک شخص بھی موجود تھا اس نے جو لڑکی کی صورت دیکھی تو کہا میں اس کو پہچانتا ہوں یہ لڑکی فرانس کی رہنے والی اور ایک عیسائی کی بیٹی ہے یہ مجھ سے اردو پڑھتی تھی اور در پردہ مسلمان ہو گئی میں نے اس کو دینیات کے چند رسالے بھی پڑھائے تھے۔ اتفاق سے بیمار ہو کر انتقال کر گئی اور میں دل برداشتہ ہو کر نوکری چھوڑ کر یہاں چلا آیا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کے یہاں منتقل ہونے کی وجہ تو معلوم ہوئی کہ مسلمان اور نیک تھی لیکن اب یہ بات دریافت طلب ہے کہ ان عالم صاحب کی لاش کہاں گئی، بعض لوگوں نے کہا کہ شاید عالم کی لاش اس لڑکی کی قبر میں منتقل کر دی گئی ہو اس پر لوگوں نے اس سیاح سے کہا کہ تم حج سے واپس ہو کر یورپ جاؤ تو اس لڑکی کی قبر خود کر ذرا دیکھنا کہ اس میں مسلمان عالم کی لاش ہے یا نہیں اور کوئی صورت شناس بھی ساتھ کر دیا۔ چنانچہ وہ شخص یورپ واپس گیا اور لڑکی کے والدین سے اس کا یہ حال بیان کیا اس پر ان کو بڑی حیرت ہوئی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ لڑکی کو دفن تو کیا جائے فرانس میں اور تم اس کی لاش مکہ مکرمہ میں دیکھ لو۔ اخیر رائے یہ قرار پائی کہ اس لڑکی کی قبر کو کھو دو۔ چنانچہ اس کے والدین اور چند لوگ اس حیرت انگیز معاملے کی تفتیش کے لیے قبرستان چلے اور لڑکی کی قبر کھودی گئی تو واقعی اس کے تابوت میں اس کی لاش نہ تھی بلکہ اس کے بجائے وہ مسلمان عالم قطع صورت وہاں دھرے ہوئے تھے جن کو مکہ مکرمہ میں دفن کیا گیا تھا۔ شیخ دہان نے فرمایا کہ اس سیاح نے کسی ذریعہ سے ہم کو اطلاع دی کہ اس کی لاش یہاں فرانس میں موجود ہے۔ اب مکہ مکرمہ والوں کو فکر ہوئی کہ لڑکی کا مکہ پہنچ جانا تو اس کے مقبول ہونے کی علامت ہے اور اس کے مقبول ہونے کی وجہ معلوم ہو گئی مگر اس عالم کا مکہ مکرمہ سے کفرستان میں پہنچ جانا کس بنا پر ہوا اس کے مردود ہونے کی کیا وجہ ہے۔ سب نے کہا کہ انسان کی اصلی حالت گھر والوں کو معلوم ہوا کرتی ہے۔ اس کی بی بی سے پوچھنا چاہیے چنانچہ لوگ اس کے گھر گئے اور دریافت کیا کہ تیرے شوہر میں اسلام کے خلاف کوئی بات تھی، اس نے کہا کچھ بھی نہیں وہ تو بڑا نمازی اور قرآن کا پڑھنے والا تہجد گزار تھا۔ لوگوں نے کہا سوچ کر بتلاؤ کیونکہ اس کی لاش دفن کے بعد مکہ مکرمہ سے کفرستان میں پہنچ گئی ہے کوئی بات اسلام کے خلاف اس میں ضرور تھی اس پر بی بی نے کہا ہاں میں اس کی ایک بات پر ہمیشہ کھٹکتی تھی وہ یہ کہ جب وہ مجھ سے مشغول ہوا اور فراغت کے بعد غسل کا ارادہ کرتا تو یوں کہا کرتا تھا کہ نصاریٰ کے مذہب میں یہ بات بڑی اچھی ہے کہ ان کے یہاں غسل جنابت فرض نہیں لوگوں نے کہا بس یہی بات ہے جس کی وجہ سے خدا تعالٰی نے اس کی لاش کو مکہ مکرمہ سے اسی قوم کی جگہ پھینک دیا جن کے طریقہ کو وہ پسند کرتا تھا۔ حضرات آپ نے دیکھا کہ یہ شخص ظاہر میں عالم تقی اور پورا مسلمان تھا مگر تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ اس میں ایک بات کفر کی موجود تھی کہ وہ کفار کے ایک طریقے کو اسلامی حکم پر ترجیح دیتا تھا اور استحسان کفر کفر ہے۔ اس لیے وہ تو پہلے ہی سے مسلمان نہ تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ لاش منتقل ہو جایا کرے۔ مگر خدا تعالی کہیں ایسا بھی کر کے دکھا دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو عبرت ہو کہ بدحالی کا نتیجہ یہ ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ جو کافر ہوتا ہے اس میں اول ہی سے کوئی بات کفر کی ہوتی ہے جو تفتیش اور غور کے بعد ہم کو بھی معلوم ہو سکتی ہے مگر ہم غور نہیں کرتے اس لیے کہہ دیتے ہیں کہ مسلمان آریہ ہو گیا حالانکہ وہ پہلے ہی سے آریہ تھا اس میں اسلام تھا ہی نہیں مگر ہم کو اس کی بد حالی کا علم نہ تھا ورنہ جو مسلمان ہو گا وہ کبھی کافر نہیں ہو سکتا اسی لیے شیطان کے بارے میں حق تعالی کا ارشاد ہے: وکان من الکافرین کہ وہ پہلے ہی کافروں میں سے تھا، سجدہ آدم علیہ السلام سے انکار کرنے کے وقت ہی کافر نہیں ہوا جس کا راز اہل تحقیق نے اس طرح فرمایا ہے کہ در لوح بد نوشتہ کہ ملعون شود یکے بردم گماں بہر کس و برخود گماں بنور آدم ز خاک بود و من از نور پاک او گفتم منم بگانہ و او خود بگانہ بود یعنی لوح محفوظ میں پہلے ہی سے لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ایک شخص کافر ہو گا (یعنی اس وقت اس کا کفر ظاہر ہو گا) اور شیطان لوح محفوظ کو پڑھ کر اس واقعہ سے باخبر تھا کہ ایک شخص کا فر ہونے والا ہے۔ مگر اس کو کبھی اپنے متعلق یہ احتمال نہ ہوا کہ شاید وہ میں ہی ہوں وہ اپنی طاعت و عبادت کی وجہ سے بے فکر تھا کہ بھلا اتنا بڑا عابد کبھی کافر ہو سکتا ہے ہر گز نہیں یہ کوئی اور شخص ہو گا۔ (خطبات حکیم الامت جلد ۲۲ ، ص : ۳۶۸، ۳۶۹) ____________📝📝____________ کتاب : جواہر خطبات۔ صفحہ نمبر: ۲۹۱-۲۹۲-۲۹۳ ۔ تالیف : استاذ القراء قاری ضیاء الرحمن صاحب۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دنیا کی سب سے بہترین من پسند شادی

دنیا کی سب سے بہترین من پسند شادی

گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ہونے تک شادی سے انکار کرتا رہا۔ایک دن اس کے بھائ اسد الدین شیرکوہ نے اس سے کہا: بھائ تم شادی کیوں نہیں کرتے ؟ نجم الدین نے جواب دیا :میں کسی کو اپنے قابل نہیں سمجھتا۔۔۔۔ اسدالدین نے کہا میں آپ کیلیے رشتہ مانگوں؟ نجم الدین نے کہا کس کا؟ اسد الدین : ملک شاہ بنت سلطان محمد بن ملک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا یا وزیرالملک کی بیٹی کا۔ نجم الدین : وہ میرے لائق نہیں، اسدالدین حیرانگی سے: پھر کون تیرے لائق ہو گی؟ نجم الدین نے جواب دیا: مجھے ایسی نیک بیوی چاہئے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سےمیرا اک ایسا بیٹا پیدا ہو جس کی وہ بہترین تربیت کرےجوشہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ۔۔۔۔۔! اسدالدین کونجم الدین کی بات پسند نہ آئ اور انہوں نے کہا : ایسی تجھے کہاں ملے گی؟ نجم الدین نے کہا :نیت میں خلوص ہو تو اللہُﷻ نصیب کرے گا۔۔۔۔! ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے اک شیخ علم کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے، ایک لڑکی آئ اور پردے کے پیچھے سے ہی شیخ کو آواز دی ، شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کیلیے نجم الدین سے معذرت کی۔۔۔۔؛ نجم الدین بھی سن رہا تھا کہ شیخ لڑکی سے کیا کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔؛ شیخ نے لڑکی سے کہا تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کر دیا جس کو میں نے بھیجا تھا ۔۔۔۔ لڑکی: اے ہمارے شیخ مربی: وہ لڑکا واقعی خوبصورت اور رتبے والا تھا مگر میرے لائق نہیں تھا ۔۔۔ شیخ : تم کیا چاہتی ھو؟ لڑکی: مجھے ایسا لڑکا چاہئے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے مجھے اللہﷻ ایسا بیٹا دے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے۔۔۔ نجم الدین حیران رہ گیا کیونکہ جو وہ سوچتا تھا وہی یہ لڑکی بھی سوچتی تھی۔۔۔۔؛ نجم الدین جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کے رشتے ٹھکراۓ تھے شیخ سے کہا کہ اس لڑکی سے میری شادی کرا دیں۔۔۔۔؛ شیخ : یہ محلے کےسب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ہے۔۔۔۔ نجم الدین : میں یہی چاہتا ہوں۔ نجم الدین نے اس فقیر متقی لڑکی سے شادی کر لی اور اسی سےوہ شہسوار پیدا ہوا جسے دنیا 'سلطان صلاح الدین ایوبی" کے نام سے جانتی ہے۔۔۔۔۔جنہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد کروایا۔۔۔ ⭕  پھر دکھا دے اے تصور منظر وہ صبح وشام تو     دوڑ پیچھے  کی طرف اے گردش ایام تو۔۔۔۔۔! ــــــــــــــــــــــــــ📝📝ــــــــــــــــــــــــــ منقول۔ انتخاب اِسلامک ٹیوب پرو ایپ