دنیا کے لیئے بد صورت ترین مگر اپنے وقت کے بہترین کردار

لیزی کو دنیا کی بدصورت ترین خاتون کہا گیا اس پر لاکھوں میم بنائے گئے اس کو یہاں تک کہا گیا کہ اتنی بدصورتی کے ساتھ جینے سے اچھا مر جاؤ مگر اس نے ہمت نہ ہاری اور گریجویشن کے بعد تین کتابیں لکھ کر لاکھوں حسن والوں کے منہ بند کر ڈالے اور پھر وہ دنیا کی بہترین موٹیویشنل سپیکر میں سے ایک بن گئی اور مایوس افراد کو جینے کا ڈھنگ سکھانے والی بن گئی اسی طرح عالمِ اسلام کی مشہور شخصیت جاحظ بھی تھے جاحظ اعتقاداً معتزلی تھا اور انتہائی بد صورت تھا مگر انتہائی ذہین جتنا بد صورت تھا اتنا ہی عظیم عالم تھا جاحظ کی بد صورتی کے بارے کہا گیا الجاحظ يقول الشاعر لو يمسخ الخنزير مسخا ثانيا ... ما كان إلا دون قبح الجاحظ اگر خنزیر کو دوبارہ مسخ کیا جائے تو پھر بھی وہ جاحظ سے کم بد صورت ہوگا کسی نے جاحظ سے پوچھا آپ کبھی شرمندہ ہوئے؟ کہا ہاں ایک بار کوئی بوڑھی عورت میرے پاس آئی اور کہا مجھے آپ سے کچھ کام ہے میرے ساتھ آئیں میں چلا گیا وہ مجھے ایک سنار کے پاس لے گئی اور سنار کے سامنے مجھے کھڑا کر کے چلی گئی میں نے سنار سے پوچھا میرے لائق کوئی حکم؟ کہنے لگا یہ بوڑھی عورت مجھ سے تقاضا کر رہی تھی میں اسکو شیطان کی مورتی بنا کر دوں میں نے کہا شیطان کو دیکھا نہیں میں نے تو وہ کہتی میں لاتی ہوں تم ویسی مورتی بنا دینا پھر وہ آپ کو ساتھ لے آئی اور کہا ایسا ہوتا ہے شیطان!!! اس سب کے باجود جاحظ علم کا پہاڑ تھا علوم اسلامیہ میں جہاں بھی بلاغت کا ذکر آتا ہے جاحظ ایک ستون کی طرح نظر آتا ہے مگر اس نے اپنی بد صورتی کو حصول علم اور بڑا انسان بننے میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیا دو مثالیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں ایک لیزی کی دوسری جاحظ کی کہ اتنے بد صورت کوئی ان کے پاس نہ بیٹھے نہ اپنے پاس ان کو بیٹھنے دے مگر انہوں نے ایسا کمال کیا کہ لوگ ان سے ملنے کے محتاج ہوگئے آپ میں کیا کمی ہے؟ آپ کیوں احساس کمتری کے شکار ہیں؟ آپ کیوں مایوس ہیں؟ ہمت کریں حوصلہ کریں اور دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں اور یوں کہا کریں ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

امریکی تاریخ کی عجیب خودکشی

امریکی تاریخ  کی عجیب خودکشی

رونالڈ أوبوس نام کے شخص نے خودکشی کرنی چاہی تو سب سے آسان طریقہ استعمال کیا اور وہ یہ کہ اس عمارت سے چھلانگ لگا دے جسمیں وہ رہتا تھا۔ اس نے عمارت کی دسویں منزل سے چھلانگ لگا دی اور اپنوں کے لیے خط چھوڑا جسمیں اس نے خودکشی کی وجہ یہ بتائی کہ وہ زندگی سے مایوس ہو گیا تھا۔ لیکن 23 مارچ 1994 کو جب پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی تو پتہ چلا کہ رونالڈ کی موت کی وجہ چھت سے گرنے سے نہیں بلکہ سر پر گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ رونالڈ کو گولی اسی عمارت سے لگی ہے جسمیں وہ رہتا تھا اور وہ گولی نویں منزل سے چلائی گئی تھی اور اس نویں منزل میں دو بوڑھے میاں بیوی کئی سالوں سے رہ رہے تھے۔ اور ہمسایوں سے معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے تھے اور عجیب بات یہ تھی کہ جب رونالڈ نے چھت پر سے اپنے آپ کو پھینکا تو عین اسی وقت بوڑھا شوہر پستول تھامے اپنی بیوی کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہاتھا۔ شدید غصے و ہیجان کی حالت میں شوہر نے غیر ارادی طور پر اپنی بیوی پر گولی چلائی لیکن چونکہ بیوی نشانے سے دور تھی اسلیئے گولی اس وقت کھڑکی سے نکلی اور عین اسوقت جب رونالڈ نے خودکشی کے لیے چھلانگ لگائی جس سے وہ گولی اسکے سر میں لگی ،جس کی وجہ سے اسکی موت واقع ہوئی۔ (کہانی میں ٹوِسٹ ابھی باقی ہے) عدالت میں بوڑھے شوہر پر غیر ارادی طور پر قتل کا مقدمہ چلا لیکن وہ اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ وہ میاں بیوی ہر وقت لڑتے رہتے ہیں اور وہ ہر وقت اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے لیکن پستول ہر وقت فارغ ہی رہتا ہے اسمیں گولیاں نہیں ہوتیں۔ مزید تحقیقات کرنے پر عجیب بات یہ معلوم ہوئی کہ بوڑھے جوڑے کے رشتہ داروں میں سے کسی نے ایک ہفتہ قبل ان میاں بیوی کے بیٹے کو پستول میں گولیاں ڈالتے دیکھا تھا ۔ وجہ اسکی یہ تھی کہ ماں نے بیٹے کو مالی امداد دینے سے منع کر دیا تھا۔ تو بیٹے نے بوڑھے ماں باپ سے جان چھڑانے کی سوجھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والدین ہر وقت لڑتے رہتے ہیں اور لڑتے ہوئے وہ خالی پستول ماں پر تھان لیتا ہے اسلیئے اس نے پستول میں گولی لوڈ کی تاکہ وہ ایک تیر سے دو شکار کرے۔ لیکن گولی اسکی ماں کو نہ لگی اور وہ رونالڈ کے سر میں اسوقت لگی جب وہ خودکشی کر رہا تھا۔ اور اسطرح قتل کی تہمت کا مقدمہ باپ سے ہٹ کر بیٹے پر جا لگا۔ (حیران ہو گئے۔۔ عقل گھوم گئی۔۔ اچھا اب میرے ساتھ کہانی پر نظر رکھو) ساری واقعے میں سب سے عجیب بات یہ کہ رونالڈ بذات خود ان دونوں بوڑھے میاں بیوی کا بیٹا تھا اور اس نے ہی پستول میں گولی ڈالی تھی تاکہ وہ اپنے ماں باپ سے خلاصی پا سکے۔ لیکن مالی حالات خراب ہونے اور باپ کا اسکی ماں کو مارنے میں تاخیر کرنے کی وجہ سے اس نے خودکشی کا فیصلہ کیا اور اوپری منزل سے چھلانگ لگاتے ہوئے وہی گولی اسکو لگی جو اس نے خود پستول میں ڈالی تھی اس طرح وہ بذات خود قاتل بھی ہوا اور مقتول بھی۔ نوٹ: یہ کہانی افسانوی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس سے صرف یہ سمجھانا مقصود ہے کہ جو جیسا کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے۔