*محروم وہ ھے!* جسے علم ھو کہ اشراق/چاشت کا وقت تقریباً 6 گھنٹے ھے اور وہ 2 رکعتیں نہ پڑھ سکے، جو کہ انسانی جسم کے 360 جوڑوں کا صدقہ ھیں *محروم وہ ھے!* جسے علم ھو کہ رات تقریباً 11 گھنٹوں کی ھے اور وہ تہجّدکی دو رکعت بھی نہ پڑھ سکے جس میں تقریباً 5 منٹ لگتے ہیں *محروم وہ ھے!* جسے علم ھو کہ دن اور رات میں 24 گھنٹے ھوتے ھیں اور وہ قرآن کریم کے ایک رکوع کی بھی تلاوت نہ کر سکے جس میں محض دو منٹ لگتے ہیں *یقیناً محروم وہ ھے!* جسے علم ھو کہ زبان تھکتی نہیں اور وہ دن بھر میں بالکل بھی اللّٰہ کا ذکر نہ کرے *یقیناً محروم وہ ہے!* جسے درود شریف پڑھنے کی توفیق ہی نہ ملے أستغفر اللّٰہ ربّی من کلِّ ذنبٍ وّ أتوب إليه اور اسی طرح زندگی گزر رہی ھے اور ہم اپنے آپ سے غافل ھیں اور اپنے وقت کو ضائع کرتے جا رھے ھیں یا اللّٰہ! ھم ان محرومیوں سے تیری پناہ مانگتے ھیں یا اللّٰہ! ان سنّتوں کی یاد دھانی ھمارے لئے، ھمارے والدین کے لیے اور جو اس یاد دہانی کو عام کرے، ان سب کے لیے قیامت تک صدقہ جاریہ بنا دے اللّہ پاک ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ، یاربّ العالمین لا حول ولاقوۃ الاباللّٰہ العلیّ العظیم

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

جب جہالت چیخ اٹھتی ہے تو عقل خاموش رہتی ہے

جب جہالت چیخ اٹھتی ہے تو عقل خاموش رہتی ہے

ایک بار ایک گدھے نے کسی لومڑی سے کہا: "گھاس نیلی ہے"۔ لومڑی نے جواب دیا: "نہیں، گھاس سبز ہے." بحث گرم ہوئی، اور دونوں نے اسے ثالثی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس کے لیے وہ جنگل کے بادشاہ شیر کے سامنے گئے۔ جنگل کے دربار میں پہنچنے سے پہلے، جہاں شیر اپنے تخت پر بیٹھا تھا، گدھا چیخنے لگا: "ہائز ہائنس، کیا یہ سچ نہیں کہ گھاس نیلی ہے؟" شیر نے جواب دیا: "سچ ہے، گھاس نیلی ہے۔" گدھے نے جلدی کی اور کہا: "لومڑی مجھ سے متفق نہیں ہے اور مخالفت کرتی ہے اور میرا مزاق اڑاتی ہے، براہ کرم اسے سزا دیں۔" بادشاہ نے پھر اعلان کیا: "لومڑی کو 1 ماہ کی خاموش رہنے کی سزا دی جائے گی۔" گدھا خوش دلی سے اچھل کر اپنے راستے پر چلا گیا، مطمئن اور دہراتا گیا: "گھاس نیلی ہے"... لومڑی نے اپنی سزا قبول کر لی لیکن اس سے پہلے اس نے شیر سے پوچھا: "مہاراج، آپ نے مجھے سزا کیوں دی؟ آخر آپ بھی جانتے ہیں کہ گھاس ہری ہے۔" شیر نے جواب دیا: "یہ حقیقت ہے کہ، گھاس سبز ہے." لومڑی نے پوچھا: "تو مجھے سزا کیوں دے رہے ہو؟" شیر نے جواب دیا: "اس کا اس سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ گھاس نیلی ہے یا سبز۔ سزا اس لیے دی ہے کہ تم جیسی ذہین مخلوق کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ گدھے سے بحث کرکے وقت ضائع کرے اور اس کے اوپر آکر مجھے اور باقی رعایا کو اس سوال سے پریشان کرے۔‘‘ یاد رکھیے! وقت کا سب سے زیادہ ضیاع اس احمق اور جنونی، اور بیوقوف کے ساتھ بحث کرنا ہے جسے سچ یا حقیقت کی پرواہ نہیں ہے، بلکہ صرف اپنے عقائد شخصیت پرستی، ذہنی اختراع اور وہم کو اپنی فتح جانتا ہے۔ ایسے احمق پر اپنا وقت ضائع نہ کریں جن کا کوئی مطلب نہیں... __________📝📝__________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔ __________📝📝__________