اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، امریکہ بھی شریک،
مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی محاذ آرائی نے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے، جبکہ امریکہ کی شمولیت کی اطلاعات نے معاملے کو عالمی سطح پر نہایت سنگین بنا دیا ہے۔ ایران پر اسرائیلی حملے، امریکہ کی مبینہ شمولیت ہفتے کی صبح Israel Defense Forces (ائی ڈی ایف) نے ایران کے مختلف مقامات پر فضائی حملے شروع کیے۔ دھماکوں کی آوازیں وسطی تہران میں سنی گئیں اور شہر کی فضاء میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق متعدد راکٹ دارالحکومت کے اہم علاقوں میں گرے۔ Associated Press کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار اور آپریشن سے واقف ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ بھی ان حملوں میں اسرائیل کے ساتھ شریک ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ خامنہ ای کے دفتر کے قریب دھماکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلا حملہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کے دفتر کے قریب ہوا ۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے وقت وہ عمارت میں موجود تھے یا نہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے باعث وہ عوامی منظرنامے سے دور تھے۔ ایران کی فضائی حدود بند حملوں کے فوراً بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ تہران کے مرکزی علاقوں، خصوصاً سرکاری و تجارتی اضلاع کے قریب دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ عینی شاہدین نے شہر کی فضا میں سیاہ دھواں بلند ہوتے دیکھا۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور اہلکار بھی نشانہ بن سکتے ہیں، جس سے وسیع تر جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل میں ہنگامی اقدامات اسرائیلی وزیرِ دفاع نے ایران پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ Israel Defense Forces کے ہوم فرنٹ کمانڈ نے فوری طور پر پورے ملک میں “مکمل سرگرمی” کو کم کر کے “ضروری سرگرمی” تک محدود کرنے کا اعلان کیا۔ تعلیمی ادارے، عوامی اجتماعات اور غیر ضروری کاروباری سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں کے قریب رہیں اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ ایئر انڈیا کی پرواز متاثر تل ابیب سے نئی دہلی جانے والی Air India کی پرواز اے آئی 140 کے مسافروں کو بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ مسافروں کو اچانک سامان چھوڑ کر بم شیلٹرز کی طرف منتقل ہونا پڑا۔ ایئر انڈیا نے صورتحال کے پیش نظر ایک ہفتے کے لیے اپنے آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا بیان اور مذاکرات کا تعطل یہ حملے امریکی صدر Donald Trump کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مذاکرات حال ہی میں جنیوا میں اختتام پذیر ہوئے لیکن کوئی حتمی پیش رفت نہ ہو سکی۔ عمان کے وزیر خارجہ نے فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کو جاری رکھیں اور باقی معاملات طے کرنے کے لیے سفارتی راستہ اپنائیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست حملے، امریکہ کی مبینہ شمولیت، اور جوہری مذاکرات کا تعطل—یہ تمام عوامل مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لے آئے ہیں۔ اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی محدود رہے گی یا کسی وسیع جنگ کی شکل اختیار کر لے گی۔