جن بزرگوں کی باتیں سن اور پڑھ کر ہم لوگ دین سیکھتے ہیں۔ ان کے حالات پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ وہ لوگ اپنے آپ کو اتنا بے حقیقت سمجھتے ہیں جس کی حد و حساب نہیں۔ چنانچہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ارشاد میں نے اپنے بے شمار بزرگوں سے سنا وہ فرماتے تھے کہ : میری حالت یہ ہے کہ میں ہر مسلمان کو اپنے آپ سے فی الحال .. اور ہر کافر کو احتمالا اپنے آپ سے افضل سمجھتا ہوں ” اور کافر کو اس وجہ سے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو کبھی ایمان کی توفیق دیدے. اور یہ مجھ سے آگے بڑھ جائے“۔ ایک مرتبہ حضرت تھانوی قدس اللہ سرہ کے خلیفہ خاص حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مفتی محمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ حضرت تھانوی صاحب کی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جتنے لوگ مجلس میں بیٹھے ہیں۔... سب مجھ سے افضل ہیں اور میں ہی سب سے زیادہ نکما اور ناکارہ ہوں ...... حضرت مفتی محمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سن کر فرمایا کہ میری بھی یہی حالت ہوتی ہے.. دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم حضرت تھانوی کے سامنے اپنی یہ حالت ذکر کرتے ہیں معلوم نہیں کہ یہ حالت اچھی ہے۔ یا بری ہے۔ چنانچہ یہ دونوں حضرات حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور اپنی حالت بیان کی کہ حضرت آپ کی مجلس میں ہم دونوں کی یہ حالت ہوتی ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے جواب میں فرمایا کہ کچھ فکر کی بات نہیں۔ اس لئے کہ تم دونوں اپنی یہ حالت بیان کر رہے ہو۔ حالانکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب میں بھی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو میری بھی یہی حالت ہوتی ہے کہ اس مجلس میں سب سے زیادہ نکما اور ناکارہ میں ہی ہوں۔ یہ سب مجھ سے افضل ہیں۔ یہ ہے تواضع کی حقیقت ارے جب تواضع کی یہ حقیقت غالب ہوتی ہے تو پھر انسان تو انسان ... آدمی اپنے آپ کو جانوروں سے بھی کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ )

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک حیرت انگیز دریافت۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

ایک حیرت انگیز دریافت۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

"پرسوں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔۔ اس دوران ایک چھوٹی سی مکھی اڑ کر میری کتاب پر آبیٹھی۔۔۔ پہلے تو میں نے اس کو بھگا دینے کی کوشش کی۔۔۔۔ لیکن وہ اڑ اڑ کر کتاب پر واپس آبیٹھتی یہ دیکھ کر میں سوچ میں پڑگیا کہ خالق نے کیسی کیسی مخلوق پیدا فرمائی ہے۔ ان کا ساٸز اور حرکتیں دیکھ کر بندہ حیران رہ جاتا ہے،،،،،،، کہ اس قدر چھوٹی "ساٸز" کے "حشرات" میں بھی دماغ ہوگا،، آج دنیا ماٸیکرو الیکٹرانکس فیلڈ میں بہت ہی آگے ہے لیکن پھر بھی ایسے چپ بنانے سے عاجز ہے۔۔اور اگر بالفرض ایسی کوئی چپ بنانے میں کامیاب بھی ہوگٸی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ کبھی خودکار فیصلہ نہیں کرے گی کیونکہ چپ خودکار فیصلہ نہیں کرسکتی، انکو پھر پروگرام کرنا ہوگا اور اگر ہم نے پروگرام بھی کیا،،،،، پھر بھی وہ خود سے کبھی مکھی اڑانے کی قابل نہیں ہوگی۔ کیونکہ انکے لیے پھر اس چپ کے آگے پیچھے داٸیں باٸیں مزید "الیکٹرانکس" چیزیں لگانی پڑیں گی،،،، نتيجہ اس کا ساٸز پھر بڑھانا ہوگا۔ لیکن ماٸیکرو لیول پر اگر آپ "جانداروں" کو دیکھیں، تو آپ حیران ہوجائینگے کہ ان کو کیسے پتا چلتا ہے کہ یہ کام کرنا ہے اور یہ نہیں۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ چیونٹیاں سردیوں کے لیے درکار اناج اور "بیجوں" کو جمع کرنے کے بعد اپنے گھونسلوں میں ذخیرہ کرنے سے پہلے ان بیجوں کو آدھے حصے میں توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔۔۔ انہیں آدھے حصے میں توڑنے سے وہ بارش کے دوران دوبارہ زرخیز ہونے سے محفوظ رہتی ہیں کیونکہ اس طرح پانی ان کو خوراک مہیا نہیں کرپاتا۔ اس وجہ سے تمام چیونٹیاں ایسا ہی کرتے ہیں،یہ باتیں انکو کون سمجھاتا ہے؟ کہ آپ نے ایسا کرنا ہے۔۔۔۔۔یہ بات تو آپ نے اکثر دوستوں سے سنی ہوگی لیکن سائنسدان اس وقت دنگ رہ گئے جب انہوں نے دریافت کیا کہ چیونٹی کےگھروں میں رکھے ہوئے دھنیا کے بیج دو کی بجائے چار ٹکڑوں میں کاٹے گئے تھے۔ ساٸنس دان جب کسی چیز کے پیچھے پڑ جاتے ہیں،،،، تو اس سے نتيجہ ضرور نکالتے ہیں،،، ان میں ایک جستجو ہوتی ہے اور وہ جستجو ان کو "نتيجہ" نکالنے پر "مجبور" کردیتی ہے۔ لیبارٹری ریسرچ کے بعد سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ ایک دھنیا کا بیج دو حصوں میں "تقسیم" ہونے کے بعد بھی اگتا ہے۔۔لیکن چار حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد کبھی اگ نہیں سکتا۔۔۔ گویا ان چیونٹیوں میں بھی ہماری طرح ساٸنس دان موجود ہیں کیونکہ اگر ان میں ساٸنس دان نہ ہوتے،،، تو پھر یہ مخلوق یہ سب کیسے جانتی کہ ہم نے یہ کام کرنا ہے، اور یہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ لہذا میں آپ سب "دوستوں" سے بذات خود چیونٹیوں کے آگے "دھنیا" کا "بیج" ڈال کر ان کے اس انوکھے انداز ذخیرہ اندوزی کا مشاہدہ کرنے کی امید رکھتا ہوں۔دس پندرہ دن میں آپ کو رزلٹ مل جاٸے گا"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!! ______________ 📝📝📝_______________ منقول۔ ناقل: اسلامک ٹیوب پرو ایپ