عورتوں کو کمانے کے لیے باہر نہیں جانا چاہیے

عورت پر کمائی ک...
Ummah Post
15 October, 2026

عورتوں کو کمانے کے لیے باہر نہیں جانا چاہیے

عورت پر کمائی کی ذمے داری نہیں ہے

یہی حقیقت ہے اور یہی اسلام کا مزاج ہے کہ مرد کمائے اور خواتین گھروں میں رہیں

لیکن مرد کمائے اور بیوی کو پائی پائی کے لیے ترسائے یہ اسلام کا مزاج ہے نہیں

عورت کے نام پر نہ کوئی جائیداد ہو نہ بزنس نہ ہی وہ معاشی طور پر مستحکم ہو، اسکا اپنا کوئی بینک بیلنس نہ ہو، یہ بھی اسلام کا مزاج نہیں

جو شوہر بیگمات کا اے ٹی ایم کارڈ اپنے پاس رکھتے ہیں لیکن اپنے خفیہ اکاؤنٹ رکھتے ہیں، انکی مکمل تنخواہ کتنی ہے، اسکا بیوی بچوں کو کوئی علم نہ ہو، خود معاشی طور پر مستحکم ہوں لیکن بیوی کو محتاج رکھیں

ایسی بیگمات جن کے میاں لاکھوں کے مالک ہوں لیکن بیوی پائی پائی کی محتاج ہو کیا یہ جائز ہے ؟؟

میاں زکات دینے کی پوزیشن میں ہوں لیکن بیوی خود مستحقین زکات میں ہوں یہ کونسا اسلام ہے ؟؟

میاں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہو تو بیگم کا اسکے روپے پیسے پر کتنا حق ہے ؟؟

میاں کی دو فیکٹریاں ہوں لیکن بیوی کو کسی وقت بھی زندگی سے بے دخل کر

دے تو نہ تب کمانے کی عمر ہو نہ ہاتھ میں دھیلا ہو، نہ ہی کوئی جائیداد نہ سر پہ چھت، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں آٹھ مارچ کو بے ہودگی اور بے حیائی کو عورتوں کے حقوق کہا جاتا ہے وہاں عورتوں کے معاشی استحکام، جائیداد میں خواتین کو حصہ دینے کا ریاستی حق ........... میاں بیوی جب مل کے گھر بنائیں، بچے پروان چڑھائیں تو شوہر پر قانونی پابندی ہو کہ وہ بیوی کو گھر سے بے دخل نہیں کر سکتا

ان سب قوانین پہ بات کون اور کب کرے گا ؟؟

کیا علماء کا فرض نہیں کہ خواتین کے ان حقوق کی بات کریں جو عین اسلامی ہیں

Share this article
بے مثال سادگی اور تواضع
مضامین

بے مثال سادگی اور تواضع

حضرت مولنا سید اصغر حسین رحمہ اللہ تعالی ( جو اپنے ملنے والوں میں حضرت میاں صاحب کے نام سے مشہور تھے ) دار العلوم دیوبند کے اساتذہ کرام میں سے تھے جو شہرت اور نام و نمود سے ہمیشہ کوسوں دور رہے، زندگی بھر اسلامی علوم کی تدریس کی خدمت انجام دی، اور ہزارہا طلباء کو اپنے علم سے سیراب کیا، آج برصغیر پاک...