عورتوں کو کمانے کے لیے باہر نہیں جانا چاہیے
عورت پر کمائی کی ذمے داری نہیں ہے
یہی حقیقت ہے اور یہی اسلام کا مزاج ہے کہ مرد کمائے اور خواتین گھروں میں رہیں
لیکن مرد کمائے اور بیوی کو پائی پائی کے لیے ترسائے یہ اسلام کا مزاج ہے نہیں
عورت کے نام پر نہ کوئی جائیداد ہو نہ بزنس نہ ہی وہ معاشی طور پر مستحکم ہو، اسکا اپنا کوئی بینک بیلنس نہ ہو، یہ بھی اسلام کا مزاج نہیں
جو شوہر بیگمات کا اے ٹی ایم کارڈ اپنے پاس رکھتے ہیں لیکن اپنے خفیہ اکاؤنٹ رکھتے ہیں، انکی مکمل تنخواہ کتنی ہے، اسکا بیوی بچوں کو کوئی علم نہ ہو، خود معاشی طور پر مستحکم ہوں لیکن بیوی کو محتاج رکھیں
ایسی بیگمات جن کے میاں لاکھوں کے مالک ہوں لیکن بیوی پائی پائی کی محتاج ہو کیا یہ جائز ہے ؟؟
میاں زکات دینے کی پوزیشن میں ہوں لیکن بیوی خود مستحقین زکات میں ہوں یہ کونسا اسلام ہے ؟؟
میاں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہو تو بیگم کا اسکے روپے پیسے پر کتنا حق ہے ؟؟
میاں کی دو فیکٹریاں ہوں لیکن بیوی کو کسی وقت بھی زندگی سے بے دخل کر
دے تو نہ تب کمانے کی عمر ہو نہ ہاتھ میں دھیلا ہو، نہ ہی کوئی جائیداد نہ سر پہ چھت، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں آٹھ مارچ کو بے ہودگی اور بے حیائی کو عورتوں کے حقوق کہا جاتا ہے وہاں عورتوں کے معاشی استحکام، جائیداد میں خواتین کو حصہ دینے کا ریاستی حق ........... میاں بیوی جب مل کے گھر بنائیں، بچے پروان چڑھائیں تو شوہر پر قانونی پابندی ہو کہ وہ بیوی کو گھر سے بے دخل نہیں کر سکتا
ان سب قوانین پہ بات کون اور کب کرے گا ؟؟
کیا علماء کا فرض نہیں کہ خواتین کے ان حقوق کی بات کریں جو عین اسلامی ہیں