مدینہ کا بازار تھا ، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال...
Ummah Post
1 November, 2026

مدینہ کا بازار تھا ، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال ہو رہے تھے ۔ ایک تاجر اپنے ساتھ ایک غلام کو لیے پریشان کھڑا تھا ۔ غلام جو ابھی بچہ ہی تھا وہ بھی دھوپ میں کھڑا پسینہ پسینہ ہو رہا تھا ۔ تاجر کا سارا مال اچھے داموں میں بک گیا تھا بس یہ غلام ہی باقی تھا جسے خریدنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں دکھا رہا تھا۔ تاجر سوچ رہا تھا کہ اس غلام کو خرید کر شاید اس نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ اس نے تو سوچا تھا کہ اچھا منافع ملے گا لیکن یہاں تو اصل لاگت کا ملنا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اگر یہ غلام صرف قیمت خرید پر بھی بکا تو وہ اسے فورا بیچ دے گا۔

مدینہ کی ایک لڑکی کی اس غلام پر نظر پڑی تو اس نے تاجر سے پوچھا کہ یہ غلام کتنے کا بیچو گے ؟

تاجر نے کہا کہ میں نے اتنے میں لیا ہے اور اتنے کا ہی دے دوں گا۔

اس لڑکی نے غلام پر ترس کھاتے ہوئے اسے خرید لیا۔

تاجر نے بھی خدا کا شکر ادا کیا اور واپسی کے راہ لی.

مکہ سے ابو حذیفہ مدینہ آئے تو انہیں بھی اس لڑکی کا قصہ معلوم ہوا۔ لڑکی کی رحم دلی سے متاثر ہو کر انہوں نے اسکے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جو قبول کر لیا گیا۔ یوں واپسی پر وہ لڑکی جس کا نام ثبیتہ بنت یعار تھا انکی بیوی بن کر انکے ہمراہ تھی اور وہ غلام بھی مالکن کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔

ابو حذیفہ مکہ آکر اپنے پرانے دوست عثمان بن عفان سے ملے تو انہیں کچھ بدلا ہوا پایا اور انکے رویے میں سرد مہری محسوس کی۔ انہوں نے اپنے دوست سے استفسار کیا کہ عثمان یہ سرد مہری کیوں؟ تو عثمان بن عفان نے جواب دیا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور تم ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تو اب ہماری دوستی کیسے چل سکتی ہے ؟

ابو حذیفہ نے کہا تو پھر مجھے بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس لے چلو اور اس اسلام میں داخل کر دو جسے تم قبول کر چکے ہو۔

چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور وہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ گھر آکر انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو اپنے مسلمان ہونے کا بتایا تو ان دونوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا۔

حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا کہ چونکہ تم بھی مسلمان ہو گئے ہو اس لیے میں اب تمہیں غلام نہیں رکھ سکتا لہذا میری طرف سے اب تم آزاد ہو۔ غلام نے کہا آقا میرا اب اس دنیا میں آپ دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ آپ نے مجھے آزاد کر دیا تو میں کہاں جاؤں گا۔ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اپنے پاس ہی رکھ لیا۔

غلام نے قرآن پاک سیکھنا شروع کر دیا اور کچھ ہی دنوں میں بہت سا قرآن یاد کر لیا۔ اور وہ جب قرآن پڑھتے تو بہت خوبصورت لہجے میں پڑھتے۔

ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جن صحابہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اور انکا یہ لے پالک بیٹا بھی تھا۔ مدینہ پہنچ کر جب نماز کے لیے امام مقرر کرنے کا وقت آیا تو اس غلام کی خوبصورت تلاوت اور سب سے زیادہ قرآن حفظ ہونے کی وجہ سے انہیں امام چن لیا گیا۔ اور انکی امامت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی نماز ادا کرتے تھے۔ مدینہ کے یہودیوں نے جب انہیں امامت کرواتے دیکھا تو حیران ہو گئے کہ یہ وہی غلام ہے جسے کوئی خریدنے کے لیے تیار نہ تھا۔ آج دیکھو کتنی عزت ملی کہ مسلمانوں کا امام بنا ہوا ہے۔

اللہ پاک نے انہیں خوش گلو اسقدر بنایا تھا کہ جب آیات قرآنی تلاوت فرماتے تو لوگوں پر ایک محویت طاری ہو جاتی اور راہ گیر ٹھٹک کر سننے لگتے۔ ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی علی السلام کے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوئی۔ ہم نے توقف کی وجہ پوچھی تو بولیں کہ ایک قاری تلاوت کر رہا تھا، اسکے سننے میں دیر ہو گئی اور خوش الحانی کی اس قدر تعریف کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود چادر سنبھالے ہوئے باہر تشریف لے آئے۔ دیکھا تو وہ بیٹھے تلاوت کر رہے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر فرمایا : اللہ پاک کا شکر ہے کہ اُس نے تمہارے جیسے شخص کو میری امت میں بنایا کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ خوش قسمت صحابی کون تھے ؟ انکا نام حضرت سالم رضی اللہ عنہ تھا۔ جو سالم ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے جنگ موتہ میں جام شہادت نوش کیا۔

Share this article
مطالعہ کا انوکھا فائدہ
مضامین

مطالعہ کا انوکھا فائدہ

ﺷﯿﺦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺍﻟﻌﻮﺩﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ " ﺯﻧﺰﺍﻧﮧ " ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ : ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﯿﺦ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ، ﭼﻨﺎﮞ ﭼﮧ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻟﻮ ﯾﮧ ﭼﺒﺎﺅ ! ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻧﮩﯿﮟ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ...