نبی کریم ﷺ اور نوجوان: آج کے نوجوانوں کے لیے سیرت کا پیغام
م...
Ummah Post
29 August, 2026

نبی کریم ﷺ اور نوجوان: آج کے نوجوانوں کے لیے سیرت کا پیغام

مفتی عبدالوہاب

جوانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس میں انسان کے اندر توانائی بھی ہوتی ہے، خواب بھی اور کچھ بڑا کرنے کی صلاحیت بھی۔ اگر یہی عمر کسی بلند مقصد سے جڑ جائے تو تاریخ بدل سکتی ہے، اور اگر خواہشات، غفلت اور بے مقصد مصروفیات میں گزر جائے تو انسان اپنے قیمتی ترین سال ضائع کر دیتا ہے۔

آج کا نوجوان بھی اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اسکرینوں کی دنیا، شہرت کی دوڑ، خواہشات اور وقتی لذتیں ہیں، اور دوسری طرف سیرتِ رسول ﷺ کا وہ روشن راستہ ہے جس پر چلنے والے نوجوانوں نے دنیا کو نئی سمت دی۔

رسول اللہ ﷺ نے نوجوانوں کو کبھی صرف کم عمر سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے ان کی صلاحیت پہچانی، ان پر اعتماد کیا اور انہیں ذمہ داریاں دیں۔

حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مکہ کے خوش حال نوجوان تھے، مگر ایمان آیا تو آسائشوں پر مقصد کو ترجیح دی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مدینہ بھیجا اور ایک نوجوان داعی نے اپنے علم، کردار اور حکمت سے وہاں کی فضا بدل دی۔

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ابھی بیس برس کے قریب تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک بڑے لشکر کی قیادت دے دی۔ یہ واضح پیغام تھا کہ قیادت صرف عمر سے نہیں، صلاحیت، امانت اور کردار سے پیدا ہوتی ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جوانی ہی میں یمن بھیجا گیا تاکہ وہ لوگوں کی دینی رہنمائی کریں۔ ان کی زندگی بتاتی ہے کہ نوجوانی صرف قوت کا نام نہیں، علم، حکمت اور خدمت کا نام بھی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھیے۔ ہجرت کی رات دشمن گھر کے باہر موجود تھے، مگر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سونے کی ذمہ داری قبول کی۔ جوانی جب ایمان اور وفا سے جڑ جائے تو خوف راستہ نہیں روک سکتا۔

آج ہمیں نوجوانوں کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ گناہ سے بچو، موبائل چھوڑو یا وقت ضائع نہ کرو۔ ہمیں انہیں اس سے بڑا مقصد دینا ہوگا۔ انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ وقت زندگی ہے، صلاحیت امانت ہے اور ایمان انسان کو معمولی زندگی سے اٹھا کر بڑی ذمہ داری کے قابل بناتا ہے۔

آج کے نوجوان کے لیے سیرت کا پیغام بھی یہی ہے: صرف کامیاب نہ بنو، فائدہ مند بنو۔ صرف مشہور نہ بنو، معتبر بنو۔ علم حاصل کرو، اپنے وقت کی قدر کرو، والدین کی دعائیں لو اور اپنے دل کو رسول اللہ ﷺ کی محبت سے آباد کرو۔

جس نوجوان کے پاس ایمان، مقصد اور کردار ہو، وہ حالات کا شکار نہیں بنتا بلکہ حالات کو بدلنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔

Share this article
توحید کے درجات
مضامین

توحید کے درجات

مسند الهند، امام اکبر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ارشاد فرمایا ہے کہ عقیدہ توحید کی تکمیل کے لئے چار درجوں کی توحید کا ماننا لازم ہے ، اگر کسی بھی درجہ کی توحید میں ذرہ برابر بھی کمی رہ جائے گی تو انسان ہرگز موحد نہیں کہلایا جا سکتا، وہ چار درجے یہ ہیں : (1) توحید ذات: یعنی یہ ماننا کہ واجب...