https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/2944_2026-07-16_islamictube.webp

میرے کھانا کھانے سے کیا بدل جائے گا؟

'میرے کھانا کھانے سے کیا بدل جائے گا؟': 19 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کا غیر متزلزل حوصلہ؛ حکومت کی بے حس خاموشی کے درمیان آج ہائی کورٹ میں سماعت نئی دہلی: جنتر منتر کی تپتی زمین پر گزشتہ 19 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے نامور سائنسدان اور کارکن سونم وانگچک کی حالت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔ 19 دنوں کی اس سخت بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کا وزن تقریباً 9 کلوگرام تک کم ہو چکا ہے اور ان کا جسم تیزی سے ڈھل رہا ہے۔ لیکن انتہائی افسوس اور تشویش کی بات یہ ہے کہ ملک کے اتنے بڑے چہرے اور سنگین عوامی مسائل پر بیٹھی اس شخصیت کی پکار پر حکومت نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ نظام و انتظامیہ کی یہ گھور غفلت اور نظر اندازی جمہوری نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ عدالت کا دروازہ اور وانگچک کا تیکھا سوال اس دوران، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال زبردستی ختم کروانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست (PIL) دائر کی گئی ہے، جس پر آج یعنی 16 جولائی کو سماعت ہونی ہے۔ عدالت کی اس دہلیز پر کھڑے ہو کر وانگچک نے حکومت اور پورے نظام کے سامنے ایک انتہائی دلخراش اور تیکھا سوال اچھالا ہے— "اگر میں کھانا کھا لوں، تو اس سے کیا بدل جائے گا؟ کیا میرے اناج گرہن کر لینے (کھانا کھا لینے) سے اس تحریک کا اصل مقصد پورا ہو جائے گا؟" انہوں نے اپنے حامیوں سے صاف کہا کہ بھوک ہڑتال کو بیچ میں چھوڑ دینا حکومت کو یہ غلط پیغام دے گا کہ عوام اپنے حقوق اور تحریکوں کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔ کمزور پڑتا جسم، مضبوط ہوتا حوصلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ویڈیوز میں سونم وانگچک پہلے سے کہیں زیادہ دبلے اور کمزور نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے خود تسلیم کیا کہ مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کے پٹھے کمزور ہو چکے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اپنے حامیوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اندر کا حوصلہ اب بھی اٹوٹ ہے اور ان کے دل سمیت جسم کے دیگر اہم اعضاء معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ لوگ ان کی صحت پر آنسو بہانے کے بجائے تحریک کے بنیادی مقاصد اور مطالبات پر اپنی طاقت لگائیں۔ حکومت کی بے حسی کے خلاف اب ملک گیر لام بندی حکومت کی اس ہٹ دھرمی اور خاموشی کے خلاف اب عوامی غصہ بھی سلگنے لگا ہے۔ سونم وانگچک کی حمایت میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے آج (جمعرات) ایک روزہ ملک گیر بھوک ہڑتال کا بگل بجا دیا ہے۔ یہ ملک گیر احتجاج نہ صرف وانگچک کی گرتی ہوئی صحت کو لے کر ہے، بلکہ طلباء کے مستقبل اور عام لوگوں سے جڑے ان تمام مسائل پر حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی ایک بھرپور کوشش ہے، جنہیں انتظامیہ طویل عرصے سے دباتی آ رہی ہے۔ سونم وانگچک نے حکومت کو جگانے کے لیے اپنے حامیوں سے ایک آخری اپیل کی ہے کہ وہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک مجوزہ پرامن مارچ میں بھاری تعداد میں شامل ہوں، تاکہ اقتدار کے گلیاروں میں بیٹھی گونگی بہری حکومت تک عوام کی گونج پہنچائی جا سکے۔