آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا 20 فیصد ٹیکس: بھارت اور عالمی تجارت کے لیے تشویش کی نئی لہر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ اعلان نے عالمی تجارتی حلقوں، بالخصوص تیل کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے اسٹریٹجک اور انتہائی اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں (کارگو) پر 20 فیصد چارج لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس غیر متوقع فیصلے نے بھارت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے وابستہ ہے۔ امریکی موقف اور بحری محاصرے کا اعلان: صدر ٹرمپ کے مطابق یہ 20 فیصد ٹیکس اس سیکیورٹی کے معاوضے کے طور پر وصول کیا جائے گا جو امریکہ اس سمندری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے فراہم کر رہا ہے۔ پیر کے روز انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ، ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ (Naval Blockade) دوبارہ شروع کرنے جا رہا ہے۔ یہ ٹیکس ایران سے منسلک جہازوں کے علاوہ 'باقی تمام ممالک' پر لاگو ہوگا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ پابندیوں کا یہ سلسلہ منگل کی رات 8 بجے (GMT) سے باقاعدہ نافذ العمل ہوگا۔ کشیدگی میں اضافہ: یو اے ای کے جہازوں پر حملہ: ٹرمپ کے اس اعلان سے محض چند گھنٹے قبل، خطے میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب متحدہ عرب امارات (UAE) نے دعویٰ کیا کہ عمانی سمندری حدود میں اس کے دو آئل ٹینکرز، 'ممباسا' اور 'البہیہ'، پر ایرانی کروز میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک بھارتی جہاز ران ہلاک جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 6 بھارتی اور 2 یوکرینی شہری شامل ہیں، جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ یو اے ای کی وزارتِ دفاع نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کا سخت ردعمل: امریکی صدر کے اس اقدام پر ایران کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 'ایکس' (X) پر اپنے پیغام میں کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کا "محافظ" (Guardian) تھا اور رہے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں اس بات سے اتفاق کیا کہ جو اس آبی گزرگاہ کو محفوظ بنائے گا، اسے معاوضہ ملنا چاہیے۔ دوسری جانب، ایرانی فوج کی اعلیٰ کمان نے امریکہ کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کے "انتظام میں امریکی مداخلت" کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو ایران کی خود مختاری پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ کیا یہ ٹیکس قانونی طور پر جائز ہے؟ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن' (IMO) کے ترجمان نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی گزرگاہ (International Strait) سے گزرنے والے جہازوں پر اس طرح کا لازمی ٹول یا ٹیکس عائد کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ بھارت پر اس کے ممکنہ اثرات: یہ تازہ صورتحال بھارت کے لیے دوہری پریشانی کا سبب ہے: معاشی اثرات: فروری میں جنگ کی شدت میں اضافے سے قبل، دنیا بھر کے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔ بھارت خلیجی ممالک سے خام تیل اور گیس کی درآمد کے لیے اسی روٹ پر شدت سے انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ بھارت نے حال ہی میں روسی تیل کی جانب رخ کیا ہے، لیکن 20 فیصد سرچارج لگنے سے بھارتی ریفائنریوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کا براہِ راست اثر ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑے گا۔ شہریوں کا تحفظ: تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں میں بھارتی شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے واقعات نے سمندری حدود میں کام کرنے والے بھارتی عملے کی حفاظت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ خلیجی راستوں پر چلنے والے تجارتی جہازوں کے عملے میں بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔ فی الحال بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس مجوزہ کارگو لیوی یا تازہ حملوں پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، ماضی میں ایسی کشیدہ صورتحال کے دوران حکومتِ بھارت اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ایڈوائزری جاری کرتی رہی ہے۔