مغربی بنگال: اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور ووٹ بینک کی سیاست کے لیے مدارس کے خلاف حکومت کا نیا محاذ؛ 12 اضلاع میں سروے کے لیے کمیٹی تشکیل
india

مغربی بنگال: اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور ووٹ بینک کی سیاست کے لیے مدارس کے خلاف حکومت کا نیا محاذ؛ 12 اضلاع میں سروے کے لیے کمیٹی تشکیل

admin
13 Jul, 2026

کولکاتہ: مغربی بنگال میں بی جے پی کی قیادت والی نئی حکومت نے عوامی مسائل، معاشی چیلنجز اور اپنی انتظامی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے روایتی طور پر اقلیتی کارڈ کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اقلیتی سماج کو مسلسل نشانہ بنا کر اکثریتی طبقے کو خوش کرنے اور مسلمانوں کو ہراساں دیکھ کر ووٹ حاصل کرنے کی اسی پالیسی کے تحت اب ریاست کے غیر منظور شدہ مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں محکمہ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم نے عجلت میں ایک 18 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ریاست کے 12 اضلاع میں چلنے والے غیر منظور شدہ مدارس کا جائزہ لے گی۔ یہ کمیٹی 15 جولائی سے اضلاع کا دورہ شروع کرے گی اور محض چند دنوں کے اندر، یعنی 21 جولائی تک اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کر دے گی۔ اتنے کم وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر سروے کا ہدف صرف اور صرف اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا اور تادیبی کارروائیوں کا جواز گھڑنا نظر آتا ہے۔

جن اضلاع کو خاص طور پر اس کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں کوچ بہار، اتر دیناج پور، مالدہ، مرشد آباد، بیربھوم، مغربی مدنی پور، مشرقی مدنی پور، نادیہ، ہگلی، ہاوڑہ، شمالی 24 پرگنہ اور جنوبی 24 پرگنہ شامل ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مسلم آبادی کی اچھی خاصی تعداد ہے اور حکومت ان علاقوں میں سیاسی پولرائزیشن کو تیز کرنا چاہتی ہے۔

حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کا حربہ

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ضلع مجسٹریٹوں (ڈی ایم) سے موصول ہونے والی ان ابتدائی رپورٹوں کے بعد کی جا رہی ہے جو جون کے پہلے ہفتے میں طلب کی گئی تھیں اور جنہیں 5 جولائی تک ریاستی سکریٹریٹ 'نبانّا' بھیجا گیا تھا۔ ان رپورٹوں میں مدارس کے قیام کی تاریخ، رجسٹریشن، طلبہ و اساتذہ کی تعداد اور نصاب جیسی معلومات مانگی گئی تھیں۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے کوئی حقیقی کارکردگی نہیں ہے، اس لیے وہ مدارس کا مسئلہ کھڑا کر کے اکثریتی سماج کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ووٹرز روزگار، مہنگائی اور بنیادی ڈھانچے جیسے اصل مسائل کو بھول کر بی جے پی کے حق میں صف بندی کریں۔

یاد رہے کہ مئی میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد بی جے پی حکومت کے وزیر برائے اقلیتی امور کھدی رام ٹوڈو نے اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان مدارس کو بند کیا جائے گا اور ان سے وابستہ افراد کو سزا دی جائے گی۔ اب اس 18 رکنی کمیٹی کی رپورٹ کی آڑ میں اسی مسلم مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاکہ تعلیم کی اصلاح کے نام پر اقلیتی اداروں کو بند کر کے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ٹیگز: #west bengal madrasa survey #wb unrecognized madrasa news #bengal madrasa survey committee #khadiram tudu madrasa statement #wb minority affairs ministry news #12 districts madrasa survey west bengal #nabanna madrasa report #west bengal political news today #bjp govt madrasa survey #madrasa education department bengal #مغربی بنگال مدارس سروے #غیر منظور شدہ مدارس بنگال #کھدی رام ٹوڈو مدارس بیان #مدارس سروے کمیٹی مغربی بنگال #نبانّا مدارس رپورٹ #مغربی بنگال اقلیتی امور #بارہ اضلاع مدارس سروے خبر #पश्चिम बंगाल मदरसा सर्वे #बंगाल गैर मान्यता प्राप्त मदरसा समाचार #खदीराम टुडू मदरसा बयान #मदरसा सर्वे कमेटी पश्चिम बंगाल #नबान्न मदरसा रिपोर्ट #पश्चिम बंगाल अल्पसंख्यक मामले समाचार #12 जिलों में मदरसा सर्वे #પશ્ચિમ બંગાળ મદ્રેસા સર્વે #પશ્ચિમ બંગાળ બિન માન્યતા પ્રાપ્ત મદ્રેસા #ખદીરામ ટુડુ મદ્રેસા સમાચાર #મદ્રેસા સર્વે કમિટી પશ્ચિમ બંગાળ #પશ્ચિમ બંગાળ લઘુમતી બાબતો #નબાન્ન મદ્રેસા અહેવાલ #

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین