سپریم کورٹ کا سخت انتباہ: انتخابی وعدوں میں مفت اسکیمات پر نظرِ ثانی ناگزیر
نئی دہلی، 19 فروری (ایجنسیز): سپریم کورٹ نے انتخابات سے قبل ریاستی حکومتوں کی جانب سے مفت اسکیمات کے اعلان اور تقسیم پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومتیں مفت سہولیات دے کر عوام میں غلط رجحانات کو فروغ دے رہی ہیں اور انہیں چاہیے کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ قرض اور خسارے کے باوجود مفت اسکیمات کی تقسیم سماعت کے دوران عدالت نے نشاندہی کی کہ ملک کی بیشتر ریاستیں پہلے ہی قرض اور مالی خسارے کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں، اس کے باوجود وہ بڑے پیمانے پر مفت اسکیمات پیش کر رہی ہیں۔ عدالت کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی جائے جو ملک کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ مفت بجلی کی فراہمی پر سوالات یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب تمل ناڈو پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہو رہی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بینچ نے کہا کہ بغیر مالی حیثیت کا فرق کیے سب کو مفت بجلی فراہم کرنا مناسب پالیسی نہیں ہو سکتی۔ بینچ میں چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی شامل تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر غریب طبقے کی مدد کی جائے تو یہ قابلِ فہم ہے، لیکن مستحق اور غیر مستحق کے درمیان فرق کیے بغیر مفت سہولیات کی تقسیم پالیسی سازی پر سوالات اٹھاتی ہے۔ ’’ہم کس قسم کا کلچر بنا رہے ہیں؟‘‘ سماعت کے دوران بینچ نے سوال اٹھایا کہ ملک میں کس قسم کا کلچر فروغ دیا جا رہا ہے؟ عدالت نے کہا کہ اگر صبح سے شام تک مفت کھانا، سائیکل اور بجلی دی جاتی رہے تو پھر کام کون کرے گا اور ورک کلچر کا کیا ہوگا؟ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ریاستیں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے دو ہی امور پر توجہ دے رہی ہیں: ایک تنخواہوں کی ادائیگی اور دوسرا فراخدلی سے مفت سہولیات کی تقسیم۔ مرکز کو نوٹس جاری تاہم سپریم کورٹ نے ڈی ایم کے حکومت کی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی کی جانب سے الیکٹرسٹی ترمیمی رولز 2024 کی ایک شق کو چیلنج کرنے والی درخواست پر مرکزی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے مزید سوال کیا کہ بجلی کے نرخوں کی اطلاع کے بعد اچانک بڑے پیمانے پر اخراجات کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ --- سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ عوام کو مستقل فائدہ پہنچانے والی پالیسیوں، خصوصاً روزگار کے مواقع کی فراہمی، پر توجہ دیں تاکہ ملک کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔