بے مثال سخاوت

نام بھی مظفر تھا اور رہتے بھی مظفر نگر میں تھے ... پورا نام تھا ” نواب مظفر علی خان“ مظفر نگر ہندوستان میں ایک ضلع ہے ان بھلے وقتوں میں نواب صاحب کی جاگیر تھی .. نواب صاحب کو تعمیرات کا شوق تھا۔ اسی شوق کو پورا کرنے کیلئے اپنے ایک وسیع و عریض باغ کے بیچوں بیچ ایک بنگلہ بنوایا.. دیکھنے والوں نے کہا : " کہنے کو تو بنگلہ ہے مگر حقیقت میں محل ہے- نواب صاحب کا ارادہ تھا کہ اس کا افتتاح بڑی شان و شوکت سے کریں گے ۔ اسی ارادے کے پیش نظر صفائیاں ہو رہی تھیں ۔ آرائش و زیبائش کا کام آخری مراحل میں تھا کہ انہی دنوں مظفر نگر کے رہائشی ایک غریب آدمی کی بیٹی کی شادی طے پاگئی۔ لڑکے والوں نے کہا: ہم بارات میں سو آدمی لائیں گے۔ لڑکی والوں کی پریشانی تھی کہ بارات ٹھہرائیں گے کہاں؟ اس زمانے میں میرج ہال تو تھے نہیں۔ غریب باپ اسی سوچ اور فکر میں تھا کہ ایک خیر خواہ سیانے نے کہا ”بارات ٹھہرانے کی جگہ تو میں بتا دیتا ہوں لیکن اگر“ غریب باپ نے حیران اور سوالیہ نگاہوں سے اپنے خیر خواہ کو دیکھا اور پوچھا لیکن ... اگر کیا ؟ ”اگر تمہاری قسمت اچھی ہو اور نواب مظفر خان مان جائیں ۔“ کیا مطلب؟ مطلب یہ کہ نواب صاحب نے جو نیا بنگلہ بنایا ہے وہ بالکل خالی ہے ... انہوں نے ابھی اس میں رہائش تو اختیار نہیں کی ... ایک دو دن تمہاری بیٹی کی بارات ٹھہر جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ۔ صفائیاں وغیرہ تو ویسے بھی ابھی ہو رہی ہیں۔ نواب صاحب رحم دل اور غریب پرور آدمی تھے۔ لڑکی کا باپ نواب صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور بڑی لجاجت سے اپنی حاجت پیش کر دی۔ نواب صاحب نے منہ پکا کر کے کہا۔ بنگلہ میں دے دوں گا مگر ایک شرط ہے سرکار! میں غریب مسکین ... آپ کی شرط کیا پوری کر سکتا ہوں؟ ویسے جو حکم دیں گے پورا کروں گا۔ کریم بخش عرف کریمو نے ہاتھ جوڑ کے کہا۔ نواب صاحب مسکرائے اور فرمایا: جتنے دن بارات ٹھہرے گی اس کا تین وقت کا کھانا میری طرف سے ہوگا۔“ کریم بخش کی آنکھوں میں احسان مندی سے آنسو آگئے۔ اس نے پگڑی کے پلو سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: نواب صاحب! آپ نے مجھے خرید لیا ہے۔ ساری زندگی بھی لٹا دوں تو آپ کے احسان کا بدلہ نہیں ہو سکتا۔ نواب صاحب نے کہا: ”میاں کریمو! اب میرے بنگلے کا افتتاح تمہاری بیٹی کی بارات سے ہی ہوگا۔ یہ لو چابیاں اور جہاں مزید صفائی کی ضرورت ہو خود ہی کر لینا“ بارات دو دن بنگلے میں ٹھہری۔ رخصتی کے وقت عورتوں بچوں سمیت ہر باراتی کو ایک ایک جوڑا بھی نواب صاحب کی طرف سے دیا گیا۔ بارات رخصت ہوئی تو کریم بخش شکریے کے احساس میں ڈبڈباتی آنکھوں سے نواب صاحب کی خدمت میں چابیاں واپس کرنے آیا تو نواب صاحب نے چابیوں کا گچھا لوٹاتے ہوئے کہا: ”میاں! یہ بنگلہ تو باغ سمیت ہم نے تمہاری بیٹی کو دے دیا بلکہ اسی وقت دے دیا تھا جب تم بارات کے ٹھہرانے کی اجازت لینے آئے تھے۔“ (سخاوت کرنا سنت انبیاء علیہم السلام میں سے ہے) آگے شئیر کرنا نہ بھولیں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت ابو قلابہ کا شکر

حضرت ابو قلابہ کا شکر

حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ جلیل القدر تابعی اور بہت بڑے محدث ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں آپ بصرہ میں رہتے تھے اور اپنے زمانے کے انتہائی صابر و شاکر انسان تھے، تاریخ میں آپ کے صبر و شکر کا واقعہ ملتا ہے جو انتہائی سبق آموز اور عبرت انگیز واقعہ ہے : عبد اللہ بن محمد کہتے ہیں کہ میں جہادی مہم کے سلسلہ میں مصر کے ایک ساحلی علاقے میں مقیم تھا، ایک بار میں ساحل سمندر میں جا نکلا وہاں میدان میں ایک خیمہ نظر پڑا، خیمہ میں ایک شخص نظر آیا جو ہاتھ پاؤں سے معذور اور ثقل سماعت و ضعف بصارت کا شکار تھا، اس کا کوئی عضو قابل انتقاع نہ تھا سوائے ایک زبان کے کہ وہ سلامت تھی اور وہ زبان سے یہ کہہ رہا تھا۔ "اللَّهُمَّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَحْمَدَكَ حَمدًا أكَافِيُّ بِهِ شُكُرَ نِعْمَتِكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ بِهَا عَلَى وَفَضلنِي عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً - الہی مجھے توفیق دے کہ میں تیری خاطرخواہ حمد و ثناء کر سکوں جس سے تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا ہو سکے جو تو نے مجھ پر کیں، مجھے تو نے اپنی مخلوق میں سے بہت سوں پر فضیلت اور فوقیت بخشی ہے، عبد اللہ کہتے ہیں کہ میرے جی میں آیا کہ چل کر ان صاحب سے اس دعاء کے متعلق پوچھنا چاہیے، چنانچہ میں اُن کے پاس آیا اور اُنہیں سلام کر کے میں نے اُن سے دریافت کیا کہ میں نے آپ کو یہ دعاء کرتے سنا ہے (جبکہ آپ کی صورت حال یہ ہے کہ آپ ہاتھ پاؤں سے معذور اور ثقل سماعت و ضعف بصارت کا شکار ہیں) آپ اللہ کی کون سی نعمت پر حمد و ثناء کر رہے ہیں اور ایسی کون سی فضیلت آپ کو حاصل ہے جس کا آپ شکر ادا کرنا چاہتے ہیں؟ اُن صاحب نے کہا: تمہیں کیا معلوم میرے رب کا میرے ساتھ کیا معاملہ ہے، اگر وہ آسمان سے آگ برسا کر مجھے بھسم کر دے، پہاڑوں کو حکم دے کر مجھے کچل دے سمندروں کو کہہ کر مجھے غرق کردے زمین کو مجھے نگلنے کا حکم دے دے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ میرے پاس اللہ کی ایک بڑی نعمت میری یہ زبان ہے مجھ سے کما حقہ اس کا شکریہ بھی ادا نہیں ہو سکتا، تم میری حالت دیکھ رہے ہو، میں اپنا کوئی کام خود نہیں کر سکتا میرا ایک بیٹا ہے، جو نماز کے وقت میرا خیال رکھتا ہے وہی مجھے وضوء کرواتا ہے وہی میرے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے، تین دن سے وہ غائب ہے اگر تم اُسے تلاش کر دو تو مہربانی ہوگی۔ میں نے کہا آپ جیسے انسان کی خدمت سے بڑھ کر اور سعادت کیا ہو سکتی ہے؟ میں یہ کہہ کر بچے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ابھی میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ ریت کے تودوں کے درمیان بچے کی لاش پڑی ہوئی ملی جسے کسی درندے نے چیر پھاڑ کر ہلاک کر دیا تھا میں نے انا لله پڑھا اور جی میں سوچنے لگا کہ میں اس بچے کے باپ کو جا کر کیسے بتلاؤں؟ بالآخر میں گیا اور حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا تذکرہ کر کے میں نے انہیں بتلایا کہ جس بچے کی تلاش میں آپ نے مجھے بھیجا تھا اُسے تو کسی درندے نے چیر پھاڑ کر ہلاک کر دیا ہے، اُن صاحب نے یہ وحشت ناک خبر سن کر کہا "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَخْلُق مِنْ ذُرِّيَّتِي خَلَفًا يَعْصِيهِ فَيُعَذِّبُهُ بِالنَّارِ " الله کا شکر ہے جس نے میری اولاد کو نا فرمان نہیں پیدا کیا جو دوزخ کے عذاب کا شکار ہوتی پھر اُن صاحب نے انا للہ پڑھا اور زور کی ایک آہ بھر کر فوت ہو گئے ۔ - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ میرے لیے بہت بڑا مسئلہ بن گیا کہ اگر انہیں یونہی چھوڑ کر جاتا ہوں تو ڈر ہے کہ کہیں انہیں درندے نہ کھا جائیں اور اگر یہاں ٹھہرتا ہوں تو کیا کروں تنہا مجھ سے کچھ ہو نہیں سکتا الغرض میں نے اُن کی نعش کو چادر سے ڈھانپا اور اُن کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا۔ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک چار آدمی آئے اور کہنے لگے عبداللہ کیا ہوا؟ میں نے اُنہیں سارا قصہ سنایا وہ کہنے لگے ان کا چہرہ تو کھولو ہو سکتا ہے ہم انہیں جانتے ہی ہوں میں نے چہرہ کھولا تو وہ لوگ اُن پر پل پڑے کبھی آنکھوں کو چومتے اور کبھی ہاتھوں کو بوسہ دیتے اور ساتھ ساتھ کہتے جاتے ”ہم ان آنکھوں پر قربان جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے سامنے ہمیشہ بند رہیں، ہم اس جسم پر قربان جو ہمیشہ لوگوں کے سونے کے وقت بھی سجدہ ریز رہتا“ میں نے کہا کہ بتاؤ تو سہی یہ کون صاحب ہیں؟ وہ بولے یہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے شاگرد حضرت ابو قلا بہ الجرمی ہیں یہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کرنے والے انسان تھے۔ ہم نے انہیں غسل دیا اور جو کپڑے ہمارے پاس تھے اُن میں اُنہیں کفنایا اُن کا جنازہ پڑھا اور دفن کر دیا۔ وہ لوگ واپس چلے گئے اور میں بھی اپنی جگہ چلا آیا۔ رات کو سویا تو خواب میں دیکھا کہ آپ جنت کے باغوں میں سیر کر رہے ہیں اور جنتیوں کا لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں اور یہ آیت تلاوت فرما رہے ہیں سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرتم فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ “ (تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کرنے کے سبب اور آخرت کا گھر بہترین ٹھکانہ ہے) میں نے خواب ہی میں اُن سے پوچھا کہ آپ میرے وہی معذور دوست نہیں ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں میں وہی ہوں میں نے دریافت کیا کہ آپ کو یہ مقام و مرتبہ کیسے حاصل ہوا ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ اللہ کے یہاں کچھ درجات ایسے ہیں جن تک رسائی مصیبت میں صبر، راحت و آرام میں شکر اور جلوت و خلوت میں خوف خدا کے بغیر ممکن نہیں ، غور کیا آپ نے کہ یہ کیسے صابر و شاکر انسان تھے؟