​​سیرت النبی ﷺ کے لیے مفید کتب کے نام

حضوراکرم ﷺ کی سیرتِ  مبارکہ پر عربی زبان میں مندرجہ ذیل کتب سے استفادہ کیا جاسکتا ہے: 1:السیرة النبویة:  دو جلدوں میں چار حصوں پر مشتمل  عبدالملک بن ہشام الحمیری (المتوفی:833 ھ) کی ہے، جو ابن اسحاقؒ کی المغازی والسیر کی ترتیب سے لکھی گئی ہے۔  2:الشفاء بتعریف حقوق المصطفى: ایک جلد پر مشتمل  ابوالفضل قاضی عیاض مالکیؒ (المتوفی:544 ھ) کی ایسی بےنظیر کتاب ہے جو بے تحاشا فوائد کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ   مختلف بیماریوں سے شفا  کے  لیے بھی مجرب  ہے۔ 3: المواهب اللدنیة  بالمنح المحمدیة:چار جلدوں پر مشتمل احمد بن محمد شہاب الدین القسطلانیؒ (المتوفی:932 ھ) کی سیرت نبوی سے متعلق وافر معلومات کا خزانہ ہے۔ 4: زاد المعاد في هدي خیرالعباد: چھ جلدوں پر مشتمل محمد بن ابی بکر المعروف بابن قیم الجوزیۃ  (المتوفی:751 ھ) کی سیرت کے موضوع پر مشہور کتاب ہے، کتب سیرت میں زادالمعاد کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کتاب میں صرف حالات اور واقعات کو بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے،  بلکہ یہ بات بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہےکہ آپ ﷺ  کے فلان قول وعمل سے کون سا حکم مستنبط ہے ۔ سیرت نبوی پر مشتمل  اردو زبان میں مندرجہ ذیل کتب مفید  ہیں: 1: سیرت المصطفے، تین جلدوں پر مشتمل مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ (المتوفی:1974 ء) کی ہے۔ 2: نشر الطیب فی ذکرالحبیب: ایک جلد پر مشتمل مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (المتوفی:1943 ء) کی ایک معتبر اور مستند کتاب ہے جسے "العطور المجموعہ"  بھی کہا جاتا ہے۔ 3:النبی الخاتم: ایک جلد پر مشتمل مولانا سید مناظر احسن گیلانی  رحمہ اللہ (المتوفی:1956 ء)   کی سیرت نبوی پر والہانہ انداز میں لکھی گئی کتاب ہے۔ 4: "رحمۃ للعالمین" قاضی سلیمان منصورپوری رحمہ اللہ  (پیدائش: 1867ء– وفات: 30 مئی 1930ء) کی تین جلدوں پر مشتمل کتاب ہے، جس کی تعریف و توصیف مولانا علی میاں رحمہ اللہ نے بھی کی ہے۔   فقط واللہ اعلم  جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔ ___________📝📝___________

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مولوی...

مولوی...

یہ وہ شخص ہے جسے اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر جب غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی خدمات ہماری زندگی کے ہر موڑ پر موجود ہیں۔ انسان کی زندگی کا آغاز بھی مولوی کے ساتھ اور اختتام بھی مولوی کے ساتھ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں... قومیں کردار سے بنتی ہیں... اور کردار بنانے والوں میں مولوی کا مقام ہمیشہ بلند رہا ہے۔ سردیوں کی یخ بستہ رات ہو... کہرے میں لپٹی ہوئی فجر ہو... گرمی کی تپتی دوپہر ہو... یا بارش کی اندھیری رات... محلے کے اکثر لوگ اپنے بستروں میں آرام سے سو رہے ہوتے ہیں، مگر مسجد کا ایک چراغ پھر بھی روشن ہوتا ہے... اور اس چراغ کے نیچے ایک مولوی بیٹھا ہوتا ہے ایک ڈاکٹر جسم کا علاج کرتا ہے... ایک انجینئر عمارت بناتا ہے... ایک تاجر بازار چلاتا ہے... مگر ایک مولوی نسلوں کی سوچ بناتا ہے... اگر مولوی یہ کام چھوڑ دے تو شاید کچھ عرصہ بعد عمارتیں تو کھڑی رہیں... مگر انسانیت گرنے لگے... معاشرہ بکھرنے لگے... اور رشتوں کی بنیادیں کمزور ہونے لگیں... اگر لاکھوں لوگ دین کی بنیادی باتیں جانتے ہیں... تو اس میں کسی نہ کسی مولوی کی محنت ضرور شامل ہے۔ کچی بستیوں میں... صحراؤں میں... پہاڑوں میں... جہاں کوئی سرکاری ملازم جانے کو تیار نہیں ہوتا... وہاں بھی ایک مسجد ہوتی ہے... اور اکثر اس مسجد میں ایک مولوی موجود ہوتا ہے... جو معمولی تنخواہ پر پوری بستی کی دینی ضرورتیں پوری کر رہا ہوتا ہے... اختلافات ہو سکتے ہیں، آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس ملک کی آزادی، دینی شناخت اور مذہبی شعور کی حفاظت میں علماء کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ انصاف سے بتائیے: اگر ایک دن کیلئے تمام مولوی حضرات اپنی خدمات بند کر دیں تو معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟ مگر صد افسوس کہ اس ملک کے بجٹ میں مولویوں کیلئے کچھ نہیں ہے ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے... اگر آپ کا بیٹا ایک دن کہے: "ابو! مجھے بھی مولوی بننا ہے..." تو کیا آپ خوش ہوں گے؟ اور اگر جواب "نہیں" ہے... تو پھر خود سے ایک سوال ضرور کیجیے... آخر ہم نے اس طبقے کے ساتھ ایسا کیا کیا کہ لوگ اسے عزت تو دیتے ہیں... مگر اس جیسی زندگی اپنے بچوں کیلئے پسند نہیں کرتے...؟