بابا جی کی چار نصیحتیں

جن دنوں میں مدرسہ میں پڑھتاتھا۔ ایک بابا جی زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتے تھے۔ ہمہ وقت کسی ناکسی عبادت میں مشغول رہتے۔ یہی موسم تھا سخت سردی تھی۔ میں نے دیکھا وہ ٹھنڈے یخ پانی سے وضو کررہے تھے۔ اور مسکرا رہے تھے۔ میں پہلے تو انکی عجب مسکراہٹ کے سحر میں گرفتار رہا۔ جب انکی نگاہ مجھ پر پڑی تو میں چونک گیا۔ میں انکے قریب گیا اور پوچھا”بابا جی آپ اتنے ٹھنڈے پانی سے وضو کررہے ہیں بجاۓ سی سی کرنے کے مسکرارہے ہیں“۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھوں کی بھوویں صاف کیں اور بولے”بیٹا جی ابھی آپ چھوٹے ہو نہیں سجھوگے“ میں نے کہا ”مجھے پتاہے آپکو لطف آ رہا تھا“ انہوں نے میری طرف دیکھا اور بولے ”بیٹا میں اس قابل تو نہیں کہ عبادت میں لطف کا دعویٰ کروں البتہ مجھے اس ٹھنڈے پانی سے سرور محسوس ہوتاہے، میں یہ سوچ کر کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہاہے اور وہ دیکھ رہا ہے اس کا خبیث ”ترکیا ہویا“ بڈھا صرف مجھے راضی کرنے ٹھنڈے پانی میں ہاتھ دے رہا ہے تو میرا گمان کہتا ہے میرا مولا خوش ہو رہا ہوگا۔ بس اسی کیفیت کا جو لطف ہے مجھ پر۔۔۔۔۔۔“ وہ یہ کہہ کر سسکیاں لے کر رونے لگے، میری بہتی آنکھیں انکا ساتھ دینے کی ناکام کوشش کررہی تھیں۔ جب وہ خاموش ہوۓ میں نے پوچھا ”باباجی یہ عبادت کا لطف اور مزہ کیسے حاصل کیا جاسکتاہے؟“ وہ بولے”بہت آسان ہے بس چار کام کرنے ہونگے۔ ہر نیک کام میں ایسا لطف آٸے گا کہ دل باغ باغ ہوجاۓ گا۔ ١۔ دنیا سے بے رغبت ہوجاٶ۔ اسے دل سے نکال دو۔ اسے فقط ضرورت کے درجہ میں رکھو شوق اور لذت کے درجہ میں نہیں۔ ٢۔ اپنا رزق  ڈنکے کی چوٹ پر حلال رکھو حتیٰ کہ مشکوک اور مشتبہ چیز سے بھی بچ جاٶ۔ ٣۔ چپ رہاکرو۔ ضرورت سے زاٸد گفتگو نہ کیا کرو فضول گپیں ناں ہانکا کرو۔ ٤۔ اپنی آنکھوں کی حفاظت کرو۔ جس دن آنکھوں کی حفاظت شروع کرو گے عبادت کا سرورملنا شروع ہوجاۓ گا۔ احباب گرامی! آج ۲۲ سال بعد جب مجھے بابا جی کی باتیں یادآٸیں تو میں انکی قبر پر گیا فاتحہ پڑھی اور بڑی دیر وہاں بیٹھا رہا۔ کیا ہی قیمتی اقوال انہوں نے ارشاد فرماۓ۔ اگرہم یہ چار کام کرلیں تو واقعتاً عبادت کی چاشنی اور سرور محسوس ہوگا. ____________📝📝____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت حسینؓ کا ایک دیہاتی سے سبق آموز مکالمہ

حضرت حسینؓ کا ایک دیہاتی سے سبق آموز مکالمہ

ایک دیہاتی حضرت حسینؓ بن علیؓ کے پاس گیا ، ان کو سلام کیا اور ان سے حاجت کا سوال کیا ، اور اس نے کہا میں نے آپ کے نانا سے سنا ہے ، انہوں نے فرمایا کہ جب تم کسی سے حاجت کا سوال کرو تو وہ چار (صفات والے آدمیوں) میں سے ایک سے مانگو نمبر ۱ : یا تو وہ شریف عربی ہو نمبر ۲ : یا سخی مددگار ہو نمبر ۳ : یا حامل قرآن ہو نمبر ۴ : یا خوبصورت چہرے والا ہو بہر حال عرب ہونا ، تو وہ آپ کو آپ کے نانا سے شرف حاصل ہے اور سخاوت ، تو وہ آپ سے اور آپ کی سیرت سے شروع ہوئی ہے اور قرآن ، تو وہ آپ کے گھروں میں نازل ہوا ہے ۔ اور خوبصورت چہرہ ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، انہوں نے فرمایا کہ جب تم مجھے دیکھنے کا ارادہ کرو ، تو حسن اور حسین کی طرف دیکھو ۔ (یعنی بقول حضور کے آپ میں یہ چاروں صفات پائی جاتی ہیں ۔ ) حضرت حسینؓ نے فرمایا ، تیری کیا حاجت ہے ؟ تو اس نے وہ حاجت زمین پر لکھ دی ۔ تو حضرت حسینؓ نے فرمایا میں نے اپنے والد حضرت علیؓ سے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہر آدمی کی قیمت اتنی ہے جتنا وہ احسان کرے ، اور میں نے اپنے نانا سے سنا ، انہوں نے فرمایا نیکی معرفت کے بقدر ہوتی ہے ۔ لہٰذا میں تجھ سے تین مسائل پوچھوں گا ، اگر تو نے ایک کا جواب اچھا دیا تو جو کچھ میرے پاس ہے اس کا ایک ثلث تیرا ہو گا اور اگر تو نے دو کا جواب دیا تو تیرے لئے میرے پاس موجود کا دو ثلث ہو گا ، اور اگر تو نے تینوں کا جواب دیا تو میرے پاس موجود سب تیرا ہو گا ، اور حال یہ ہے کہ میری طرف عراق سے ایک مہر زدہ تھیلی (ہدیہ) بھجوائی گئی ہے۔ اس دیہاتی نے کہا کہ پوچھیے ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ نمبر ۱ : حضرت حسین نے پوچھا ، اعمال میں سے افضل کیا ہے ؟ اعرابی نے کہا ، اللہ پر ایمان لانا ۔ نمبر ۲ : حضرت حسین نے پوچھا ، بندہ کی ہلاکت سے نجات کیا ہے ؟ اعرابی نے کہا ، اللہ پر بھروسہ کرنا ۔ نمبر ۳ : حضرت حسین نے پوچھا ، کونسی چیز آدمی کو زینت بخشتی ہے ؟ دیہاتی نے کہا ، علم جس کے ساتھ بردباری ہو ۔ نمبر ۴ : حضرت حسین نے پوچھا ، اگر یہ اس سے خطأً چلی جائے تو؟ اعرابی نے کہا پھر مال ( سے تلافی ہو سکتی ہے ) جس کے ساتھ سخاوت ہو۔ حضرت حسین نے پوچھا ، اگر یہ بھی اس سے خطأً چلی جائے تو ؟ دیہاتی نے کہا ، پھر فقر ہے جس کے ساتھ صبر ہو ۔ حضرت حسین نے پوچھا اگر یہ بھی اس سے خطأً چلی جائے تو ؟ اعرابی نے کہا ، پھر تو آسمان سے اتاری جانے والی بجلی ہی ہے جو اس کو جلا کر رکھ دے گی ۔ (یعنی پھر اس کے بچنے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ ) حضرت حسین اس کے صحیح جوابات پر ہنسنے لگے اور وہ تھیلی اس کی طرف پھینک دی ۔ ترجمہ : محمد فیاض خان سواتی التفسیر الکبیر عربی ج ۲ ص ۱۹۸ طبع مصر ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ