غزل از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب : 
ــــــــــــــــــــــــ...
Ummah Post
24 March, 2025

غزل از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب :

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وہ موت کیا،جو نہ دے تیری دید کا تحفہ

جو تیری دھن میں نہ گزرے وہ زندگی کیا ہے؟

نہ تیرا ذکر ہو جن میں وہ مجلسیں برباد

ہو تیری یاد سے خالی تو خامشی کیا ہے؟

جو علم مجھ کو نہ پہنچائے تیری چوکھٹ تک

نہ مجھ کو تیرا پتا دے جو آگاہی کیا ہے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کتاب : گـوشـئہ تنــہائی ( شـعری مجـموعہ)

( صفحہ نمبر 115)

تالیف : حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب

Share this article
🖌۔۔  یہ ایک امانت تھی __!!
مضامین

🖌۔۔ یہ ایک امانت تھی __!!

 حضرت شیخ الہند کو دین کیلئے بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔ ان کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ جب ان کی وفات حکیم محمد اجمل کی کوٹھی پر ہوئی‘ غسل دینے والے نے دیکھا کہ ان کی پیٹھ پر زخموں کے بڑے بڑے نشان ہیں۔ اس نے رشتہ داروں سے پوچھا انہوں نے گھر والوں سے پوچھا لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ سب حیران تھے۔...