*‏مجھ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جو جاندار نہیں ہے لیکن سانس لیتی ہے؟* ┈┉┅━❀🍃🌸🍃❀━┅┉┈ میں عجیب اچھنبے میں پڑ گیا کہ بھلا وہ کیا چیز ہوسکتی ہے جو جاندار نہ ہو لیکن سانس لیتی ہو؟ کافی دیر کے بعد اچانک قران کی یہ آیۃ ذہن میں کوندی: *"والصبح اذا تنفس"* (تکویر آیۃ 18) قسم ہے صبح کی جب وہ گہری سانس لے۔ میں نے جواب دیا کہ وہ صبح ہے جو جاندار تو نہیں لیکن سانس لیتی ہے۔ سائل نے تعریف کی لیکن میں الجھ گیا کہ صبح بھلا کیسے سانس لے سکتی ہے؟ تفاسیر وغیرہ کھول کر دیکھیں تو مفسرین نے تنفس کا ترجمہ زندہ ہوجانے سے کیا تھا کہ جیسے سانس لے کر انسان زندہ ہوتا ہے اسی طرح صبح بھی ہر دن زندہ ہوتی ہے کچھ نے صبح کو سانس لینا اور رات کو سانس چھوڑنا تعبیر کیا۔ بعض نے کہا کہ لیل سے مراد اسلام سے پہلے کی تاریکی تھی اور یہاں صبح سے مراد حضور ﷺ کی بعثت کا اجالا ہے۔ کل ایک تفسیر پڑھی تو حیران رہ گیا : آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم سانس لیتے ہیں تو اپنے اندر آکسیجن سمیٹ لیتے ہیں اور جب چھوڑتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالتے ہیں۔ اللہ تعالی نے قران میں صبح کی قسم کھائی اور فرمایا کہ جب وہ *"گہری"* سانس لے۔ عجیب معاملہ ہہے کہ کچھ عرصہ پہلے ہی سائنس نے *"فوٹوسینتھیسس"* کا عمل ایجاد کیا ہے جس میں درخت ایک غیر حسی طریقے سے ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر سمو کر آکسیجن کا اخراج کرتے ہیں۔ اور یہ عمل صبح کے وقت سب سے زیادہ عروج پر ہوتا ہے یعنی دنیا میں سب سے زیادہ آکسیجن کی مقدار صبح کے وقت پائی جاتی ہے اور یہی دنیا کی گہری سانس ہوتی ہے۔ یہ عمل بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، دوپہر میں ہلکا ہوتا ہے، شام میں ختم ہوتا ہے اور رات میں الٹا ہوجاتا ہے کہ درخت آکسیجن کی بجائے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرنے لگتے ہیں لیکن پھر اگلی صبح وہی عمل دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ میں شدید حیران ہوا کہ قران کی ایک چھوٹی سی آیۃ نے سائنس کا اتنا بڑا معمہ سینکڑوں سال پہلے بتا دیا تھا ! سبحان اللہ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

امام زین العابدین رحمہ اللہ الله کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت جسم عطا کیا تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی اور غسال ان کو نہلانے لگا تو اس نے دیکھا کہ ان کے کندھے کے اوپر ایک کالا نشان ہے۔ اس کو سمجھ نہ آسکی کہ یہ کالا نشان کیوں ہے؟ اہل خانہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں پتہ نہیں ہے۔ جب کچھ دن گزر گئے تو وہاں کے ضعفا اور معذوروں کے گھروں سے آواز آئی ، وہ کہاں گیا جو ہمیں پانی پلایا کرتا تھا ؟ پھر پتہ چلا کہ رات کے اندھیرے میں امام زین العابدین رحمہ اللہ پانی کی بھری ہوئی مشک اپنے کندھے کے اوپر لے کر ان کے گھروں میں پانی مہیا کیا کرتے تھے اور اس راز کو انہوں نے اس طرح چھپائے رکھا کہ زندگی بھر کسی کو پتہ بھی نہ چلنے دیا۔(البدایہ والنہایہ : ۱۳۳۹، حلیۃ الاولیاء : ۱۳۶۳) یہ ہے ایمانی زندگی کہ انسان دوسرے کی خدمت بھی کر رہا ہے ، ہمدردی بھی کر رہا ہے، مگر اس سے صرف (شکریہ) کا بھی طلب گار نہیں ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت فقط اللہ رب العزت کی رضا کے لیے کر رہا ہے۔