سائنس کی دلچسپ حقیقت — مرغی پہلے آئی یا انڈا؟ صدیوں پرانا یہ سوال کہ مرغی پہلے آئی یا انڈا؟ ہمیشہ سے انسان کو حیران کرتا آیا ہے، مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے اس راز کے پردے کچھ حد تک اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈے کے چھلکے میں موجود ایک خاص پروٹین OC-17 صرف مرغی کے جسم میں بنتا ہے۔ اس پروٹین کے بغیر انڈے کا چھلکا بن ہی نہیں سکتا، یعنی فطرت کے اس نظام میں انڈے کی تشکیل کے لیے مرغی کا ہونا ضروری ہے۔ اس دریافت نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، لیکن سادہ لفظوں میں بات یہی ہے کہ قدرت کا پہلا قدم مرغی تھی، جس نے انڈا دیا، اور پھر نسل آگے بڑھی۔ یہ حقیقت صرف سائنسی بنیاد پر دلچسپ نہیں، بلکہ قدرت کے عظیم اور بامقصد نظام کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے — ہر چیز ایک ترتیب، ایک حکمت اور ایک مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ وجود میں آتی ہے۔ آج سائنس بھی وہی بات کہہ رہی ہے جو فطرت برسوں سے ہمیں دکھا رہی ہے: پیدائش کے عمل میں اتفاق نہیں، ایک منصوبہ بندی ہے۔ اس حیران کن تحقیق نے نہ صرف ایک پرانے سوال کا جواب دیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ دنیا میں موجود ہر چیز کے پیچھے ایک نہایت باریک اور منظم نظام کار فرما ہے، جسے انسان جتنا کھوجتا ہے، اتنا ہی حیران رہ جاتا ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک بزرگ کے جہنم میں جانے کا سبب

ایک بزرگ کے جہنم میں جانے کا سبب

علامہ ابن حجر ہیثمی رحمہ اللہ کی کتاب ہے ”الزواجـر عـن اقتراف الكبائر “اس میں انہوں نے ایک واقعہ لکھا ، ایک شخص حج کے ارادے سے گیا اور جب حج کرنے لگا اس نے مکہ میں پوچھا کہ سب سے امانت دار شخص کون ہے؟ تو بتلایا گیا فلاں شخص ہے، تو وہ اس کے پاس گیا اور اپنے ایک ہزار دینار اس کے پاس رکھوا دیئے ، دینار رکھوا کر اپنے حج کے احکامات کو ادا کرنے لگا ، جب حج مکمل ہو گیا تو اس کے گھر گیا تا کہ میں اپنی امانت واپس لے لوں، جب وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ اس شخص کا انتقال ہو گیا ، تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ایک ہزار دینار دیئے تھے اب مجھے میرے دینار کیسے ملیں گے، تو ان کی اولاد نے کہا اس نے تو ہمیں نہیں بتایا کہ اس نے دینا ر کہاں رکھے ہیں ، گھر میں کافی تلاش کیا لیکن دینار نہ ملے۔ تو یہ وہاں کے علماء کے پاس گئے پوچھا کہ میں اتنی بڑی رقم دی تھی اس کا انتقال ہو گیا یہ میری رقم کیسے ملے گی ، تو ایک شخص نے یہ بتایا کہ تم زم زم کے کنویں کے پاس جا کر ایک آواز لگانا نصف رات کے بعد تہجد کے وقت کہنا کہ میں نے فلاں شخص کو امانت دی تھی اگر وہ نیکو کار ہوگا، تو بسا اوقات تجرباتی بات یہ ہے کہ اس کی روح کو اللہ وہاں پہنچادیتا ہے تو وہ جواب دیدیتا ہے۔ تو وہ شخص وہاں گیا اور آواز دی لیکن اس کو جواب نہ ملا، پھر اس نے کہا: مجھے جواب تو نہ ملا تو انہوں نے کہا تو یمن میں جا- وہاں ایک کنواں ہے اس کا نام ہے ”چاہے برہوت“ وہاں جا کر آواز دو، وہاں جہنمیوں کی روحیں جمع ہوتی ہیں، وہاں تمہیں پتہ چل جائے گا۔ یہ شخص وہاں پہنچا، ابن حجر ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں وہاں اس نے آواز دی تو اس کو جواب ملا کہ تمہاری رقم میں نے اپنے گھر میں فلاں جگہ پر دفنائی ہوئی ہے وہاں سے لے لو، تو اس نے پوچھا کہ آخر تم نے دفنائی کیوں ، اپنے رشتہ داروں کو، بیوی، بچوں کے پاس کیوں نہیں رکھوائی، اس نے کہا: مجھے اپنے بچوں پر اعتماد نہیں تھا، میں نے کہا کہیں ایسانہ ہو کہ یہ لوگ خیانت کر لیں، اس لیے میں نے وہاں رکھی ہے، وہاں سے جا کر لے لو۔ اس نے کہا تم تو بڑے نیک آدمی تھے لیکن تمہاری روح کا سامنا مجھے چاہے برہوت پہ ہو رہا ہے، جہاں جہنمیوں کی روحوں کا اجتماع ہوتا ہے، اس نے کہا بات یہ ہے کہ میں تھا تو بڑا نیک آدمی ، صوم و صلاۃ کا بڑا پا بند تھا: كَانَ لِي أُخْتٌ فَقِيرَةٌ هَجَرتهَا وَكُنت لا أَحْنُو عَلَيْهَا فَعَاقَبَنِي اللَّهُ تَعَالَى. لیکن اللہ نے مجھے اس وجہ سے سزادی کہ میری بہن غریب تھی میں نے اس کے ساتھ تعاون نہیں کیا، قطع رحمی کی ، اللہ نے قطع رحمی کی وجہ سے مجھے جہنم میں ڈال دیا، دیکھیں یہ بڑا نیک شخص تھا، نیکوکاری میں اس کا بڑا چرچا تھا، لوگ امانتیں اس کے پاس رکھواتے تھے، لیکن قطع تعلقی کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہو گیا۔ جیسے زندگی میں صلہ رحمی کا حکم ہے ، اسی طرح دنیا سے جانے کے بعد بھی والدین کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ (کتاب : نیک اعمال کو ضائع کرنے والے گناہ- صفحہ : ۲۲۲-۲۲۳- مصنف: مولانا محمد نعمان صاحب۔ ناقل : انس میمن پالنپوری)