*مگرمچھ کے آنسو۔۔۔۔۔۔* 

یہ محاورہ اردو زبان میں بہت مشہور ہ...
Ummah Post
10 November, 2024

*مگرمچھ کے آنسو۔۔۔۔۔۔*

یہ محاورہ اردو زبان میں بہت مشہور ہے لیکن میں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا تھا آج کہیں پڑھا تو سوچا کہ آپ سے بھی اس محاورے کا پس منظر شئیر کروں.

کہتے ہیں مگرمچھ جب شکار کو اپنی حلق تک بے دردی سے پہنچاتا ہے تب حلق تنگ ہونے کی وجہ سے نگلنے میں دشواری ہوتی ہے،حلق پر دباو بڑھنے سے اس کے آنسو نکل جاتے ہیں،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شکار کو پانی میں لے جا کر کھانے کے بعد مگرمچھ خشکی میں نکل کر آنسو بہاتا ہے یہ اس کے ہاضمے کے لئے مفید ہوتا ہے.

لہذا مگرمچھ کے آنسو کسی ہمدردی کے جذبے سے نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ آنسو کسی بڑی واردات کا نتیجہ ہوتے ہیں،کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں دراصل وہی آپ کو اذیت دینے والے ہوتے ہیں.

اس لئے ان کے رونے کو مگرمچھ کے آنسو کہا جاتا ہے۔

Share this article
دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان۔
مضامین

دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان۔

ابا جی بوڑھے ہو گئے تھے اور چلتے چلتے دیوار کا سہارا لیتے تھے۔ نتیجتاً دیواروں کا رنگ خراب ہونے لگ گیا، جہاں بھی وہ چھوتے تھے وہاں دیواروں پر ان کی انگلیوں کے نشانات چھپ جاتے تھے۔ میری بیوی کو جب پتہ چلا تو وہ اکثر گندی نظر آنے والی دیواروں کے بارے میں مجھ سے شکایت کرتی۔ ایک دن سر میں درد ہو...