✨تربیت✨ آپ کا بچہ جب اسکول جا رہا ہو اور آپ اسے رخصت کر رہی ہوں تو اس کے ٹفن میں کھانے کی چیز دو عدد رکھیں اور اس سے کہیں : ایک تمہارے لیے ہے اور دوسرا تمہارے سب سے محبوب دوست کے لیے. اس طرح آپ کا بچہ محبت اور احسان کا سبق سیکھے گا. بچے کے بیگ میں قلم ایک سے زائد رکھیں اور اس سے کہیں : اگر کوئی اسٹوڈنٹ اپنا قلم بھول جائے تو آپ مدد کے طور پر یہ قلم اس کو دے دینا. اس طرح آپ کا بچہ اپنی ذمہ داریاں اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ سیکھے گا. جب بچہ گھر واپس آئے تو اسے بتائیں کہ اس کے آنے سے گھر کی رونق بڑھ جاتی ہے. اس طرح اسے اپنی قدر و قیمت کا اندازہ ہوگا. جب وہ گھر لوٹے تو اس سے پوچھیں : آج آپ نے سب سے اچھا کام کیا کیا ہے ؟ اس طرح اسے اچھے برے کی تمیز ہوگی اور اگلی بار وہ آپ کے بغیر پوچھے آپ کو بتائے گا. تربیت ایک سادہ اور آسان سا فن ہے، زبان سے لمبی چوڑی تقریر کرنے کا نام تربیت نہیں ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

پرہیز گار استاد اور سمجھ دار شاگرد

پرہیز گار استاد اور سمجھ دار شاگرد

حضرت حکیم الامت تھانوی اور حضرت شاہ وصی اللہ الہ آبادی نور اللہ مرقدهما دونوں نے یہ واقعہ نقل کیا کہ ایک پرہیز گار عالم بچوں کو پڑھاتے تھے ایک دن ان کے گھر میں فقر و فاقہ تھا بھوک کی شدت سے ان کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا جو طلبہ پڑھنے کو آتے اُن میں سے ایک طالب علم نے محسوس کر لیا کہ حضرت کے یہاں شاید فاقہ ہے اس نے کہا کہ حضرت ابھی آتا ہوں اور چلا گیا تھوڑی دیر میں اپنے گھر سے کھانا لیکر آیا کہ حضرت یہ کھا لیجئے پھر پڑھائیے تو عالم صاحب نے کہا کہ بیٹا واقعی بھوک کا تقاضہ تو ہے مگر اب میں نہیں کھا سکتا کیونکہ مجھے اشراف نفس ہو گیا جب تم جانے لگے تو میرے دل نے کہا کہ شاید لڑکے نے پہچان لیا ہے اب یہ کھانا لیکر آئیگا ویسے ہی تم لائے ہو تو بتاؤ یہ اشراف ہوا کہ نہیں اور اس کا کھانا کیسے جائز ہوگا یہ سننا تھا کہ طالب علم کھانا لیکر واپس ہو گیا کہ ٹھیک ہے آپ کو تو یہ جائز نہیں اب استاد نا امید ہو گئے مخلوق سے توجہ ہٹ گئی دل اللہ کی طرف رجوع ہو گیا کہ مولی اب تو آپ ہی کھلانے والے ہیں تھوڑی ہی دیر گذری تھی پھر وہ طالب علم کھانا واپس لا کر کہنے لگا کہ حضرت اب تو اشراف نہیں رہا اللہ ہی آپ کو کھلا رہا ہے کھا لیجئے استاد بہت خوش ہوے اور کہا کہ جزاک اللہ واقعی تیری سمجھ قابل تحسین ہے اس کو قبول کر لیا۔ یہ واقعہ سنا کر حضرت والد ماجد نور اللہ مرقدہ فرماتے کہ آج کے طلبہ نہ استاد کا حال دیکھتے ہیں نہ کچھ لاتے ہیں ہاں اگر کوئی لاتا اور اشراف کے تحت کوئی استاد واپس کرتا تو وہ خوش ہی ہو جاتا چلو چھٹی ہوگئی ۔ واقعی دین کی سمجھ بہت بڑی چیز ہے۔(معارف رحیمی: شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ محمد ذاکر رحیمی نور اللہ مرقدہ)