*ذرا تصور کیجیے!* مسجد نبوی کی وہ پُرنور محفل ہے، صحابہ کرام...
Ummah Post
10 July, 2026

*ذرا تصور کیجیے!* مسجد نبوی کی وہ پُرنور محفل ہے، صحابہ کرامؓ شمع رسالت ﷺ کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہیں۔ اسی دوران ایک اعرابی (دیہاتی) حاضر خدمت ہوتا ہے اور وہ سوال کر دیتا ہے جو ہر مومن کے دل کی دھڑکن ہے:

*"یارسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟"*

رحمت عالم ﷺ نے اس کے سوال کے جواب دینے کے بجائے اس سے ایک ایسا سوال کیا جس نے قیامت کی فکر کو عمل کی فکر میں بدل دیا:

"تم نے اس (قیامت) کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟"

عشقِ صادق کا سادہ مگر بھاری جواب

اس دیہاتی نے بڑے عجز اور سچائی سے عرض کیا:

*"یارسول اللہ! میرے پاس بہت زیادہ نمازیں، روزے اور صدقات تو نہیں ہیں (جن پر میں ناز کرسکوں)، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے سچی محبت کرتا ہوں۔"*

یہ وہ جملہ تھا جس نے عرش والے کی رحمت کو جوش میں لا دیا اور زبانِ نبوت سے وہ الفاظ نکلے جو دنیا تک ہر گناہگار امتی کے لیے بخشش کی سند بن گئے:

*"اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ"*

"آدمی (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔"

حضرت انسؓ، جنہوں نے دس سال حضور ﷺ کی خدمت کی، وہ اس منظر کی گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

"*میں نے مسلمانوں کو اسلام لانے کے بعد کسی بات پر اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا، جتنا وہ اس دن حضور ﷺ کی اس بات پر خوش ہوئے*"۔

کیوں نہ خوش ہوتے؟ صحابہ کرامؓ کو ہر وقت یہ غم کھائے جاتا تھا کہ جنت میں درجات کی بلندی کی وجہ سے کہیں ہم اپنے آقا ﷺ کے دیدار سے دور نہ ہوجائیں۔ اس ایک جملے نے ان کی تمام فکریں دور کر دیں کہ اگر دل میں سچی محبت ہے، تو اللہ تمہیں اپنے حبیب ﷺ کی رفاقت سے کبھی محروم نہیں کرے گا۔

*ہمیں بھی وہ معیت نصیب ہو جس کا وعدہ صادق و امین ﷺ نے فرمایا ہے۔*

Share this article
پیدل چلتے ہوئے مطالعہ
مضامین

پیدل چلتے ہوئے مطالعہ

اسلاف کے ہاں شوقِ مطالعہ اور اہمیتِ وقت کا یہ عالم تھا کہ پیدل چلتے ہوئے بھی کتاب کا مطالعہ جاری رہتا۔ ابن الآبنوسی کہتے ہیں کہ علامہ خطیب بغدادیؒ پیدل چل رہے ہوتے تو ہاتھ میں کتاب لیے اس کا مطالعہ کر رہے ہوتے۔ (سیر اعلام النبلاء، ١٨: ٢٨١) نحو کے ایک بے بدل عالم علامہ احمد بن یحیٰ جو ثعلب کے نام سے...