السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 5 حضرت آدم علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام وہ پہلے انسان ہیں جن سے دنیا میں بسنے والے انسانوں کی ابتدا ہوئی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کا خمیر تیار کرنے سے پہلے فرشتوں سے کہا: " عنقریب میں مٹی سے ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جسے زمین میں ہماری خلافت کا شرف حاصل ہو گا۔" چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا ، پھر اللہ تعالٰی نے اس میں روح پھونک دی ، تو اسی وقت وہ زندہ انسان بن گئے ، ان کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ، تو تمام فرشتے اللہ تعالٰی کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے سجدہ میں گر گئے ، مگر شیطان نے اپنی بڑائی اور تکبر کی وجہ سے انکار کردیا اور کہنے لگا: " میں اس سے بہتر ہوں ، کیونکہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔" اس طرح شیطان اللہ کے حکم کو نہ مان کر ہمیشہ کے لیے اللہ کی لعنت کا مستحق بن گیا ، اور اُسی وقت سے وہ حضرت آدم علیہ السلام اور اُن کی اولاد کا دشمن بن گیا ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ حالات بدلتے کیوں نہیں؟

یہ حالات بدلتے کیوں نہیں؟

محی السنہ حضرت شاہ ابرار الحق سے بعض حضرات نے شکایت کی کہ مسلمانوں کی پریشانیاں دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہیں ، خانقاہوں اور مدارس میں دعاؤوں کا خوب اہتمام ہو رہا ہے ، اللہ والے مسلسل اللہ کے حضور دعائیں کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں کی پریشانیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں ، حالات بد سے بدتر ہوتے ہی جا رہے ہیں تو اس وقت حضرت نے ایک مثال دے کر معاملہ یوں سمجھایا تھا کہ کسی شخص کا باپ اس سے ناراض ہو جائے اور اس کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر اپنی عنایات کا سلسلہ بند کر دے اور وہ لڑکا اپنے والد سے معافی تلافی کے بجائے دوسروں سے کہتا پھرے کہ میرے والد مجھ سے ناراض ہیں آپ ان سے سفارش کر دیجئے کہ وہ مجھ سے راضی ہو جائیں اور پہلی سی محبت کا معاملہ کرنے لگیں اور خود براہ راست والد سے رجوع نہ کرے، نہ ان سے اپنے جرم کا اعتراف و اقرار کرے تو والد کی نظر عنایت اس پر کیسے ہوگی۔ اس وقت پوری امت کا المیہ یہی ہے کہ خالق کائنات کے حضور میں گستاخیاں اور جرائم کا ارتکاب تو خود کرتے ہیں اور ان کی معافی تلافی کے لئے اہل اللہ اور مشائخ سے دعائیں کراتے پھرتے ہیں، خود اللہ کے حضور توبہ واستغفار کی کوشش اور ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ اللہ کی راہ اب بھی ہے کھلی، آثار و نشاں سب قائم ہیں اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا (کتاب : ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور(نومبر) صفحہ نمبر: ۶ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)