ایک شخص مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے اندھیری رات میں گھر سے...
Ummah Post
28 October, 2026

ایک شخص مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے اندھیری رات میں گھر سے نکلا ،اندھیرے کی وجہ سے ٹھوکر لگی اور وہ منہ کے بل کیچڑ میں گر گیا۔ کیچڑ سے اُٹھ کر وہ گھر واپس گیا اور لباس تبدیل کر کے دوبارہ مسجد کی طرف چل دیا .

ابھی چند قدم بھی چلا تھا کہ دوبارہ ٹھوکر لگی اور وہ دوبارہ کیچڑ میں گر گیا۔

کیچڑ سے اُٹھ کر وہ ایک بار پھر گھر واپس گیا اور لباس تبدیل کر کے مسجد جانے کیلئے دوبارہ گھر سے نکل آیا۔

اپنے گھر کے دروازے پر اسے ایک شخص ملا جو اپنے ہاتھ میں ایک روشن چراغ تھامے ھوئے تھا ۔

چراغ والا شخص چپ چاپ نمازی کے آگے آگے مسجد کی طرف چل دیا۔

اس بار چراغ کی روشنی میں نمازی کو مسجد تک پہنچنے میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا اور وہ بخیریت مسجد تک پہنچ گیا ۔ مسجد کے دروازے پر پہنچ کر چراغ والا شخص روک گیا۔

نمازی اسے وھہی چھوڑ کر مسجد میں داخل ھو گیا اور نماز ادا کرنے لگا ۔نماز سے فارغ ھو کر وہ مسجد سے باھر آیا تو اس نے دیکھا چراغ والا شخص اس کا منتظر ہے تاکہ اسے دوبارہ چراغ کی روشنی میں گھر تک چھوڑ آئے ۔

نمازی نے اس اجنبی سے پوچھا :

آپ کون ھیں ؟

اجنبی بولا ،سچ بتاؤں تو میں ابلیس ھوں .

نمازی کی حیرت کی انتہا نہ رھی

اس نے پوچھا ،

تجھے تو میری نماز رہ جانے پر خوش ھونا چاھئے تھا۔

پھر تو چراغ کی روشنی میں مجھے مسجد تک کیوں لایا ؟

ابلیس نے جواب دیا ،

جب تجھے پہلی ٹھوکر لگی تو اللہ نے تیرے عمر بھر کے گناہ معاف فرما دیئے ۔

جب دوسری ٹھوکر لگی تو تیرے سارے خاندان کو بخش دیا۔

مجھے فکر ھوئی کہ اب اگر تو ٹھوکر کھا کر گرا تو کہیں اللہ تیرے سارے گاؤں کی مغفرت نہ فرمادے ،

اس لئے چراغ لے کر آیا ھوں کہ تو بغیر گرے مسجد تک پہنچ جائے۔۔

Share this article
حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مضامین

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مدرسین کو چاہئے کہ ہر طالب علم کو پورا عربی پڑھانا ضروری نہ سمجھیں ، جس کے اندر مناسبت دیکھیں ، اور فہم سلیم پائیں ، اس کو سب کتابیں پڑھادیں ، اور جس کو مناسبت نہ ہو ، یا فہم سلیم نہ ہو ، اس کو بقدر ضرورت مسائل پڑھا کر کہہ دیں کہ جاؤ دنیا کے دھندے میں لگو ، تجارت وحرفت کرو ، کیوں کہ ہر شخص مقتدا بنن...