*بے ادبی ہلاکت وبربادی ہے!*
مفکرِ اسلام مولانا علی میاں ندویؒ نے فرمایا:
"محض ذہانت کچھ کام نہیں دیتی، جب تک اس کے ساتھ ادب اور احترام نہ ہو۔ ہزاروں ذہین ضائع ہوئے اور زیادہ ذہانت کبھی گمراہی کا سبب بنتی ہے، بلکہ مضل ہوتی ہے۔ تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ جتنے فرق ضالہ اسلام میں پیدا ہوئے، ان کے بانی اکثر انتہائی ذہین تھے، مگر لگتا ہے کہ جوانی میں ان سے کوئی ایسی غلطی ہوئی تھی جس کی ان کو یہ سزا ملی، تو کتاب و سنت کی عظمت، شریعت کا احترام اور اساتذہ اور بزرگوں کا ادب یہ سب سب سے مقدم ہے۔ اس کے بغیر کچھ نہیں حاصل ہو سکتا۔"