دارالعلوم کراچی میں ہمارے ایک شفیق استاذ تھے، قطبی پڑھاتے تھے اور اصلاح معاشرہ کے اصول سکھاتے تھے،
فرماتے تھے اصل علم قرآن ہے، باقی جتنے بھی علوم و فنون ہیں وہ قرآن کے سمجھنے کے لیے ہیں۔ یہاں شہروں میں بڑے بڑے ادارے ہیں اور طرح طرح کی سہولیات ہیں۔
جب زندگی میں سہولیات کا پیچھا کرتے کرتے تھک جاؤ اور تمہارا دل چاہے کہ اب دین کا کچھ کام کیا جائے تو بازار جا کر دس بیس نورانی قاعدے خرید لینا اور اپنے آبائی دیہاتی علاقے کی طرف چلے جانا، وہاں بہت سے بچے ہوں گے جنہیں دین کی بنیادی باتوں کی ضرورت ہوگی، ان بچوں کی تعلیم کا سلسلہ اپنےخریدے ہوئے نورانی قاعدوں سے شروع کر لینا
شیخ الحدیث اور شیخ القرآن بننے سے زیادہ بڑے مرتبے کا کام ہے یہ
آج دارالعلوم سے فراغت ہوئے چھ سال بعد مفتی ظفر ابرار صاحب سے ملاقات ہوئی، میں نے پوچھا کیا کرہے ہو آج کل؟
فرمایا: نوشکی میں ہمارا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، وہاں کے بچوں کو نورانی قاعدہ پڑھا رہا ہوں
فرمایا: جب فراغت ہوئی تو کراچی کے نامی گرامی مدرسے میں تدریس کا موقع ملا، سال بھر پڑھایا، بہترین مشاہرے کے ساتھ اچھی سہولیات تھیں، سالانہ چھٹیوں میں گاؤں گیا تو اپنے بچوں کی دینی حالت کی ابتری دیکھ کر بے چین ہو گیا
نورانی قاعدے خریدے اور ایک مکان کرائے پر لیا، آج چوتھا سال ہے، ہر سال ہمارے گاؤں سے حفاظ کرام کی ایک بڑی تعداد تیار ہوتی ہے اور درس نظامی کے کچھ درجات کا آغاز بھی ہو چکا ہے
انقلاب ضروری نہیں کہ اجتماعی صورت میں ہی برپا ہو، کچھ افراد اپنی ذات میں انقلاب ہوا کرتے ہیں
مولانا ظفر ابرار صاحب ان میں سے ایک ہیں