*چندہ وصول کرنے کی شرائط* ١:اسی موقع پر ایک اور امر جو کہ ہدیہ و صدقہ وغیرہ میں مشترک ہے؛ سمجھ لینا چاہیے کہ ہدیہ ،صدقہ، چندہ اور قرض وغیرہ حرام مال سے نہ ہونا چاہیے، اگر کوئی حرام مال سے دینا چاہے تو صاف انکار کر دے. ٢: دوسرا امر یہ ضروری ہے کہ وسعت سے زیادہ نہ لے چنانچہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے وسعت سے زیادہ نہیں لیا، سوائے ان لوگوں کے جن پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا اطمینان تھا کہ ان کی قوتِ توکل کامل ہے، جیسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ؛ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کل سرمایہ قبول فرما لیا. ٣: ایک شرط یہ کہ چندہ دینے والے کی طبیعت پر گرانی نہ ہو، یعنی ان طریقوں سے بچے جن میں دینے والے کی طبیعت پر بار پڑنے کا احتمال ہو؛ کیونکہ حدیث میں ہے "لا یَحِلُّ مالُ امرِئٍ اِلاّ بِطِیبِ نَفْسِہ" رضامندی کے بغیر کسی کا مال حلال نہیں. ٤: ایک شرط یہ کہ چندہ لینے میں اپنی ذلت نہ ہو؛ کیونکہ بعض طریقے ایسے بھی چندہ لینے کے ہیں کہ ان میں دینے والے پر تو بار نہیں ہوتا مگر لینے والا نظروں سے گر جاتا ہے، حدیث شریف میں جو سوال کی ممانعت آئی ہے وہ اسی بنا پر ہے اور اسی وجہ سے جہاں نہ گرانی ہو اور نہ ذلت ہو وہاں حاجت کے وقت طلب کرنا درست ہے؛ چنانچہ حدیث میں ہے کہ اگر مانگو تو صلحا سے مانگو یا بادشاہ سے مانگو خلاصہ یہ ہے کہ یا تو اہل اللہ سے مانگو یا بہت بڑے امیر سے مانگو. (مفاسد چندہ، حضرت تھانوی رح). کہیں ایسا نہ ہوکہ چندہ دینے والے کے ذہن میں ایک عالم کی تصویریہ بیٹھ جائے کہ عالم ہونے کے بعد چندہ کے لیے لوگوں کے پاس جانا پڑے گا اور ذلت کے ساتھ مانگنا پڑے گا، میرا بچہ بھی عالم بن کر اگر یہی کرنا ہے تو پھر میں اپنے بچہ کو عالم کیوں بناؤں، اس واسطے ضروری ہے کہ مروجہ چندہ کی شکلوں میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی ہدایات کے مطابق اصلاح فرمالیں. س ظ.

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

وہ میرا نام جانتا ہے:

وہ میرا نام جانتا ہے:

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے جب مدائن کو فتح کیا تو انہوں نے Announcement (اعلان) کروائی کہ جس مجاہد کے پاس جو مال غنیمت ہے وہ سب لا کر ایک جگہ جمع کروائے ، تاکہ ہم اسے تقسیم کریں ۔ لوگ مال غنیمت جمع کروانے لگ گئے ۔ تین دن گزر گئے محسوس یہ ہوا کہ اب اور کسی کے پاس کچھ نہیں۔ تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے ہیں ، ایک نو جوان آیا ، جس کے کپڑے بڑے معمولی سے محسوس ہوتے تھے۔ مالی اعتبار سے اتنا امیر آدمی نظر نہیں آتا تھا۔ معمولی کپڑے، پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ اس نے ایک کپڑے میں کچھ لپیٹا ہوا تھا ، وہ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ امیر قافلہ! یہ میں آپ کو دینے کے لیے آیا ہوں۔ جب انہوں نے اسے کھولا تو اس کے اندر دشمن بادشاہ کا تاج تھا ، گویا اس مجاہد نے اس بادشاہ کو قتل کیا اور اس کا تاج اس کے ہاتھ میں آگیا ، مگر لوگوں کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا۔ اگر یہ مجاہد چاہتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لیتا اور ساری زندگی اس کے ہیرے اور موتی کاٹ کاٹ کر بیچ کر اپنی زندگی ٹھاٹ سے گزارتا، کیونکہ بادشاہوں کے تاجوں میں تو بڑے بڑے ڈائمنڈ ہوتے تھے۔ جب اس سادہ سے سپاہی نے وہ دیا تو سعد بن ابی وقاص رضي اللہ تعالٰی عنہ بڑے حیران ہوئے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں اور اتنی قیمتی چیز اس نے لا کر خود ہی دے دی ۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے پوچھا کہ اے مجاہد ! تیرا نام کیا ہے؟ جب اس سے پوچھا کہ تیرا نام کیا ہے تو اس نوجوان نے واپسی کے لیے اپنا رخ پھیرا اور دو قدم واپسی کی طرف اٹھا کر کہنے لگا: ” جس اللہ کی رضا کے لیے یہ تاج لا کر آپ کو واپس دیا وہ میرا بھی نام جانتا ہے، میرے باپ کا نام بھی جانتا ہے۔ یہ ہوتا ہے اللہ کے لیے کرنا ۔