"ہم ایران کے مسلک کو قبول نہیں کرتے، نہ اس کی پالیسیوں سے اتفاق کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے ظلم اور زیادتیوں کو بھولتے ہیں۔ *لیکن اگر اس پر کوئی بیرونی کافر حمـ.ـلہ کرے تو دین کا تقاضا ہرگز یہ نہیں کہ ہم کافر کے غلبے پر خوشی منائیں یا اس کی مدد کریں یا یہ تمنا کریں کہ مسلمانوں کی کوئی سرزمین اس کے قبضے میں چلی جائے۔* اختلاف ہو سکتا ہے، مخالفت ہو سکتی ہے، تنبیہ بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر `مسلمانوں کی گردنیں ایسے دشمن کے حوالے نہیں کی جا سکتیں جو پوری امت پر گھات لگائے بیٹھا ہے، اور اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ایران میں ایک غیر معمولی تعداد اہل سنت والجماعت کی بھی موجود ہے` جو مذہب اور مسلک میں تفریق نہیں کرتا بلکہ `اسلام کو مجموعی طور پر نشانہ بناتا ہے۔` *ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ شر کو دور کرے، خونریزی کو روکے، حالات کی اصلاح فرمائے، اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔"* (آمین) > فلسطیـ.ـنی داعی، جہـ.ـاد حلـ.ـس — غـ.ـزہ *مزید پوسٹ کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں* https://whatsapp.com/channel/0029Va5sIvuBKfi0pDP0py1H

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

والد کا سبق آموز جواب

والد کا سبق آموز جواب

ابو الکلام کہتے ہیں : ایک رات کھانے کے وقت میری والدہ نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھ دی میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصے کا اظہار کر ینگے لیکن انہوں نے انتہائی سکون سے کھانا کھایا اور ساتھ ہی مجھ سے پوچھا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا ؟ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا ۔ ۔ لیکن اسی دوران میری والدہ نے روٹی جل جانے پر معذرت کی. میرے والد نے کہا : کوئی بات نہیں بلکہ مجھے تو یہ روٹی کھا کر مزا آیا. اُس رات جب میں اپنے والد کو شب بخیر کہنے اُن کے کمرے میں گیا تو ان سے اس بارے میں پوچھ ہی لیا کہ کیا واقعی آپ کو جلی ہوئی روٹی کھا کر مزا آیا ؟ انہوں نے جواب دیا : بیٹا ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ رد عمل اور بد زبانی انسان کے جذبات کو مجروح کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے بچے! یہ دنیا بے شمار نا پسندیدہ چیزوں اور لوگوں سے بھری پڑی ہے ، میں بھی کوئی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ارد گرد کے لوگوں سے بھی غلطی ہو سکتی ہے ، ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا ، رشتوں کو بخوبی نبھانا ، اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں معذرت اور پچھتاؤوں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ زندگی کو شکر صبر کے ساتھ خوشحال بنائیں بیشک اللہ شکر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ _____________📝📝📝_____________ منقول۔ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔