ایران کا نقصان عظیم ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے آج صبح تصدیق کی ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کو ہونے والے دجالی فضائی حملوں میں شہید ہوگئے۔ اس اعلان سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ خبر دے چکا تھا۔ تاہم ابتدائی طور پر تہران کی جانب سے اس کی تردید کی گئی، مگر بعد ازاں سرکاری سطح پر اس کی تصدیق کر دی گئی اور ملک میں چالیس روزہ سوگ جبکہ سات دن کے لیے سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے اپنے بیان میں خامنہ ای کی شہادت کو عالمی طاغوتی قوتوں کے خلاف ایک نئی جدوجہد کا نقطۂ آغاز قرار دیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب سپریم لیڈر اپنے دفتر میں سرکاری امور انجام دے رہے تھے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان کے چند قریبی اہلِ خانہ بھی انہی حملوں میں نشانہ بن گئے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اس کارروائی کو ایرانی عوام اور امریکیوں دونوں کے لیے انصاف قرار دیا۔ اس کے مطابق ایرانی قیادت جدید انٹیلی جنس اور نگرانی کے نظام سے بچ نہ سکی۔ امریکی نشریاتی اداروں NBC News، CBS News اور ABC News کو دیے گئے انٹرویوز میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں فیصلہ سازی کرنے والی مرکزی قیادت کا بڑا حصہ ختم ہو چکا ہے اور اب قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ بمباری کم از کم چند روز جاری رہے گی اور ضرورت پڑی تو اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ امریکی ویب سائٹ Axios کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اس کے پاس فوجی کارروائی کے علاوہ بھی متبادل راستے موجود ہیں، مگر اس کا دعویٰ تھا کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں اپنے جوہری ڈھانچے کی بحالی کی کوشش کی، جس نے اس حملے کو ناگزیر بنا دیا۔ آزاد مبصرین نے تعمیراتی سرگرمیوں کی نشاندہی تو کی ہے، لیکن جوہری پروگرام کی مکمل بحالی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ الجزیرہ کے مطابق دجالی قوتوں کا یہ حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایرانی ریاستی ڈھانچے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک زلزلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ خامنہ ای تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کے سب سے طاقتور منصب پر فائز رہے اور ریاستی، عسکری اور مذہبی اداروں کی سمت کا تعین کرتے رہے۔ ان کے جانے سے پیدا ہونے والے خلا نے قیادت کے تسلسل سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ گزشتہ دنوں بعض عالمی ذرائع ابلاغ میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ 67 سالہ علی لاریجانی کو بطور نائب یا ممکنہ جانشین سامنے لایا جا سکتا ہے۔ لاریجانی ماضی میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ رہے، پارلیمان کے اسپیکر رہ چکے ہیں اور اس وقت اہم ریاستی اداروں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ تاہم باضابطہ طور پر نئے سپریم لیڈر یا قائم مقام کی تقرری سے متعلق کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ ایران کا آئینی طریقۂ کار مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ذریعے نئے رہبر کے انتخاب کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے آئندہ چند دن فیصلہ کن ہوں گے۔ اس حملے کی کامیابی کے پس منظر میں داخلی سلامتی کے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ایرانی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اتنی اعلیٰ سطح تک رسائی محض بیرونی ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں تھی بلکہ اندرونی کمزوری یا معلومات کے افشا ہونے نے کردار ادا کیا ہوگا۔ ایران گزشتہ برسوں میں داخلی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے، مگر اس واقعے نے سیکورٹی ڈھانچے کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ عسکری اعتبار سے موجودہ مرحلے میں اصل معرکہ میزائل اور فضائی دفاعی نظام کا ہے۔ ایران کی جوابی صلاحیت کا دارومدار اس کے بیلسٹک اور کروز میزائل پروگرام پر ہے۔ جب تک امریکہ اور اسرائیل ایران کی میزائل تنصیبات اور لانچنگ سائٹس کو مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں بناتے، جوابی کارروائی کا امکان برقرار رہے گا۔ تاہم زمینی حملہ یا ایران پر براہِ راست قبضہ فی الحال بعید از قیاس دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ایران کا جغرافیہ، آبادی اور عسکری ڈھانچہ کسی بھی بیرونی طاقت کے لیے ایک طویل اور مہنگی مہم کا تقاضا کرے گا۔ سیاسی طور پر یہ بحران دو ممکنہ راستوں کی طرف جا سکتا ہے: یا تو سخت گیر دھڑے مزید مضبوط ہو کر مزاحمت کی حکمت عملی کو وسعت دیں گے یا پھر قیادت کی تبدیلی کے بعد کوئی نیا توازن پیدا ہوگا جو محدود مفاہمت یا ازسرنو مذاکرات کی راہ کھول دے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بیک وقت فوجی دباؤ اور سفارتی امکان کا ذکر اسی دو رخی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کل کے مقابلے میں آج سیاسی تصفیہ کی راہ بہت آسان ہوگئی ہے۔ فی الحال ایران ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ قیادت کا خلا، اندرونی سلامتی کے خدشات، میزائل طاقت پر انحصار اور عالمی دباؤ، یہ سب عوامل مل کر آنے والے دنوں کو غیر معمولی اہم بنا رہے ہیں۔ اگر ریاستی ڈھانچہ منظم انداز میں جانشینی کا مرحلہ طے کر لیتا ہے تو نظام اپنی بقا برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن اگر داخلی انتشار بڑھتا ہے تو یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئے عہد کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان۔

دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان۔

ابا جی بوڑھے ہو گئے تھے اور چلتے چلتے دیوار کا سہارا لیتے تھے۔ نتیجتاً دیواروں کا رنگ خراب ہونے لگ گیا، جہاں بھی وہ چھوتے تھے وہاں دیواروں پر ان کی انگلیوں کے نشانات چھپ جاتے تھے۔ میری بیوی کو جب پتہ چلا تو وہ اکثر گندی نظر آنے والی دیواروں کے بارے میں مجھ سے شکایت کرتی۔ ایک دن سر میں درد ہو رہا تھا تو *ابا جی نے سر پر تیل کی مالش کی۔ تو چلتے ہوئے دیواروں پر تیل کے داغ بن گئے ۔ یہ دیکھ کر میری بیوی چیخ اٹھی۔ اور میں نے بھی غصے میں اپنے والد کو ڈانٹ دیا اور ان سے بدتمیزی سے بات کی، انہیں مشورہ دیا کہ چلتے وقت دیواروں کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ بہت غمگین نظر آئے ۔ *مجھے اپنے رویے پر شرمندگی بھی محسوس ہوئی مگر ان سے کچھ نہ کہا۔ ابا جی نے چلتے ہوئے دیوار کو پکڑنا چھوڑ دیا۔ اور ایک دن وہ گر پڑے اور بستر سے جا لگے جو ان کے لئے بستر مرگ بن گیا اور کچھ ہی دنوں میں ہم سے رخصت ہو گئے۔ میں نے اپنے دل میں احساس جرم محسوس کیا اور میں ان کے تاثرات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا تھا اور اس کے فوراً بعد اپنے آپ کو ان کی موت کے لئے خود کو معاف نہیں کر پاتا ہوں۔ کچھ دیر بعد، ہم اپنے گھر کو پینٹ کروانا چاہتے تھے۔ جب پینٹر آئے تو میرا بیٹا، جو اپنے دادا سے پیار کرتا تھا، نے مصوروں کو دادا کے انگلیوں کے نشانات صاف کرنے اور ان علاقوں کو پینٹ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پینٹر بہت اچھے اور جدت پسند تھے۔ انہوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ میرے والد کے فنگر پرنٹس/ ہینڈ پرنٹس کو نہیں ہٹائیں گے، بلکہ ان نشانات کے گرد ایک خوبصورت دائرہ بنائیں گے اور ایک منفرد ڈیزائن بنائیں گے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا اور وہ پرنٹس ہمارے گھر کا حصہ بن گئے* ۔ ہمارے گھر آنے والے ہر فرد نے ہمارے منفرد ڈیزائن کی تعریف کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں بھی بوڑھا ہوتا گیا۔ اب مجھے چلنے کے لیے دیوار کے سہارے کی ضرورت تھی۔ ایک دن چلتے ہوئے مجھے یاد آئے اپنے والد سے میرے کہے ہوئے الفاظ، اور سہارے کے بغیر چلنے کی کوشش کی تاکید ۔ میرے بیٹے نے یہ دیکھا اور فوراً میرے پاس آیا اور چلتے ہوئے مجھے دیواروں کا سہارا لینے کو کہا، اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہ میں سہارے کے بغیر گر سکتا ہوں، میں نے دیکھا کہ میرا بیٹا مجھے پکڑے ہوئے ہے۔ میری پوتی فوراً آگے آئی اور پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ کر سہارا دیا۔ میں تقریباً خاموشی سے رونے لگا۔ اگر میں نے اپنے والد کے لیے بھی یہی کیا ہوتا تو وہ زیادہ دیرتک صحت مند اور خوش رہتے میری پوتی نے مجھے ساتھ لیا اور صوفے پر بٹھایا۔ پھر اس نے مجھے دکھانے کے لیے اپنی ڈرائنگ بک نکالی۔ اس کی استانی نے اس کی ڈرائنگ کی تعریف کی تھی اور اس کو بہترین ریمارکس دیے تھے۔ خاکہ دیواروں پر میرے والد کے ہاتھ کے نشان کا تھا۔* اس کے ریمارکس تھے- "کاش ہر بچہ بڑوں سے اسی طرح پیار کرے" میں اپنے کمرے میں واپس آیا اور اپنے والد سے معافی مانگتے ہوئے رونے لگا، جو اب نہیں تھے ۔ ہم بھی وقت کے ساتھ بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ آئیے اپنے بڑوں کا خیال رکھیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی سکھائیں ۔ اپنے گھر والوں کو بھی بتائیں کہ یہ بزرگ قیمتی ہوتے ہیں دیواریں اور چیزیں نہیں۔ منقول