خدارا! ذرا سوچئے۔ یہ اللہ کے حضور حاضری ہے یا کسی کام کو نمٹ...
Ummah Post
25 February, 2026

خدارا! ذرا سوچئے۔ یہ اللہ کے حضور حاضری ہے یا کسی کام کو نمٹانے کی جلدی؟ دل تڑپ اٹھتا ہے یہ دیکھ کر کہ جس نماز کو "مومن کی معراج" کہا گیا، اسے چند لمحوں میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ نہ قیام میں سکون، نہ رکوع میں ٹھہراؤ، نہ سجدے میں گریہ اور قرآن کا تو بس الفاظ دوڑائے اور نماز پوری! کیا اللہ کے دربار میں بھی یہی بے ادبی چلے گی؟ قرآنِ کریم کو اس رفتار سے پڑھنا کہ حروف نگل لئے جائیں، تجوید پامال ہو اور معانی کا پاس نہ رہے۔ یہ عبادت نہیں، یہ قرآن کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر تراویح بوجھ لگتی ہے تو ایسی تراویح سے بہتر ہے چھورڈیں، مگر عبادت کا گلا نہ گھونٹیں۔ اللہ کو ہماری رفتار نہیں چاہئے بلکہ ہمارا جھکا ہوا دل چاہئے۔ رکوع و سجدہ صرف جسم کا نہیں، دل کا بھی ہونا چاہیے۔ ورنہ ڈر ہے کہ ہم سمجھیں نماز ادا ہوگئی اور حقیقت میں کچھ بھی ادا نہ ہوا ہو۔ خدارا! رمضان کو رسم نہ بنائیں۔ نماز کو مقابلہ نہ بنائیں۔ قرآن کو دوڑ نہ بنائیں۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہونا سعادت ہے۔ اسے سنجیدگی، ادب اور خوفِ خدا کے ساتھ ادا کیجیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جلدی میں ہم عبادت نہیں، اپنی آخرت ختم کر بیٹھیں۔ اللہ ہمیں نماز کی قدر، قرآن کا ادب اور عبادت کا شعور عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

Share this article
علّامہ اِقبال اور جذبہ اطاعت رسول
مضامین

علّامہ اِقبال اور جذبہ اطاعت رسول

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے سنت رسول کی پیروی کو اپنا شیوہ حیات بنالیا تھا۔ جوہر اقبال میں ایک عجیب اور بصیرت افروز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ جس سے علامہ اقبال کے جذبہ شوق و اطاعت رسول کا اندازہ ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ پنجاب کے ایک دولت مند رئیس نے ایک قانونی مشورے کے لیے اقبال اور سر فضل حسین اور ایک...