دینی حکمت کا تقاضا

ہم مسلمانوں کو اس حقیقت کو اب سمجھ لینا...
Ummah Post
13 February, 2026

دینی حکمت کا تقاضا

ہم مسلمانوں کو اس حقیقت کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ اگر سو فیصد مسلمان تہجد گزار ہو جائیں اور ہر مسلمان کے ہاتھ میں تسبیح آجائے اور ہر مسلمان اشراق اور چاشت کا پابند ہو جائے لیکن اگر اکثریت اس سے نامانوس ہے، اکثریت اپنے دل میں اس کی طرف سے زہر لیے ہوئے بیٹھی ہے اور سینہ میں انگارے سلگ رہے ہیں تو خدا نخواستہ جس وقت اس ملک میں کوئی بھونچال آئے گا تو ہم اپنی ان تمام عبادتوں، نوافل کے ساتھ بے دخل ہو جائیں گے، اس وقت نوافل تو نوافل، جو بنیادی چیزیں ہیں وہ بھی نہیں رہیں گی، اس لیے دینی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس آبادی کو اپنے سے مانوس بنائیں، اسلام کا پیغام گھر گھر پہنچائیں، ان کو بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟ ( تحفہ دکن : ۸۵)

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

(کتاب : ماہنامہ پیام عرفات رائے بریلی۔

انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

Share this article
گھی چور ملازم
مضامین

گھی چور ملازم

ایک بندہ کریانے کی ایک دکان پر ملازم تھا. وہ کسی نہ کسی بہانے دکان سے کچھ نہ کچھ چوری کرتا رہتا تھا. دکان کا مالک بڑا ہی خوش اخلاق اور امانتدار انسان تھا. وقت گزرتا گیا اور دس بارہ سال گزر گئے. اللہ نے مالک کو خوب برکت دی اور اس کی دکان شہر کی سب سے بڑی دکان بن گئی. روزانہ لاکھوں کی آمدن ہونے لگی...