”پہلے وقتوں میں طالب علم استاد کو سنتا تھا کہ علم حاصل کرے،...
Ummah Post
9 October, 2024

”پہلے وقتوں میں طالب علم استاد کو سنتا تھا کہ علم حاصل کرے، اور علم حاصل کرتا تھا کہ عمل کرے، اور اللہ کے دین کے دین میں تفقہ حاصل کرتا تھا کہ نفع اٹھائے اور نفع پہنچائے۔ اب مگر حال یہ ہے کہ طالب علم سنتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرے، اور جمع کرتا ہے کہ اس کا چرچا ہو، اور علم کو حفظ کرتا ہے کہ دوسروں کو نیچا دکھائے اور فخر کرے۔“

(الاختلاف في اللفظ لابن قتيبة : ١٨)

Share this article
​​عبرت و بصائر
مضامین

​​عبرت و بصائر

❶ ایک زاہد کا قصہ منقول ہے کہ وہ روٹی کے بغیر سبزی اور نمک وغیرہ کھالیتے ـ کسی نے کہا کہ بس آپ اسی پر گزارہ کرتے ہیں؟ فرمانے لگے میں اپنی دنیا جنت کے لئے بنا رہا ہوں اور تو اسے بیت الخلا کے لئے بناتا ہے، یعنی تو مرغوب کھانے کھا کر بیت الخلا تک پہنچاتا ہے اور میں جو کچھ بھی کھاتا ہوں وہ اس لئے کہ عبا...