غزہ پر 13 ایٹم بم!! 2 لاکھ ٹن بارود… کتنا؟ 50 لاکھ مَن یعنی 20 کروڑ کلوگرام۔ جی ہاں! 2 سال کے دوران یہ بارود برسایا گیا صرف 10 کلومیٹر چوڑی اور 41 کلومیٹر لمبی محدودو محصور پٹی پر۔ گویا فی مربع میٹر پر نصف کلو باردو۔ کرۂ ارض نے بارود کی ایسی بارش دوسری جنگِ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھی۔ عسکری ماہرین کہتے ہیں کہ یہ مقدار 13 ایٹم بموں کے برابر ہے، وہی بم جنہوں نے ہیروشیما کی زمین پر زندگی کو راکھ بنا دیا تھا۔ مگر غزہ پر یہ بارود صرف عمارتوں پر نہیں گرا، یہ امیدوں، خوابوں، کتابوں اور ماؤں کی گودوں پر برسا ہے۔ ان دو برسوں میں غزہ کی زمین جل کر سیاہ ہو گئی، مگر اس کے لوگوں کے حوصلے اب بھی چمک رہے ہیں۔ دنیا کی طاقتور ترین فوج روزانہ آسمان سے آگ برساتے ہوئے بھی اُن ننھے ہاتھوں کو توڑ نہ سکی جو اب بھی کھنڈر میں اذان دیتے ہیں، اُن ہونٹوں کو خاموش نہ کرسکی جو کہہ اٹھتے ہیں: “ہم زندہ ہیں اور اپنے حق پر قائم ہیں۔” یہ دو چار دن یا ہفتوں کی بات نہیں، یہ سلسلہ پورے دو سال سے جاری ہے۔اسی خطے میں اب تک عرب و اسرائیل کی چار بڑی جنگیں ہوئی ہیں: 1948، 1956، 1967 اور 1973۔ ان سب مجموعی دورانیہ 335 دن بنتا ہے۔ مگر غزہ کی اس جنگ کا آج 732واں دن ہے۔ اس عرصے میں اسرائیل کا جانی نقصان بھی تمام سابقہ عرب جنگوں سے زیادہ ہوا ہے۔ حالانکہ اس سے برسرپیکار نہ کوئی باقاعدہ فوج ہے، نہ جدید فضائیہ، صرف وہ دل ہیں جو ایمان اور درد سے لبریز ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب اہلِ غزہ اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں، اپنی زمین، اپنے ایمان اور اپنی بقا کے لیے۔ یقیناً غزہ کا شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ سڑکیں مٹی میں دفن، اسپتال ملبے میں تحلیل، اسکول ویران۔ مگر اگر دو سال بعد بھی دشمن اپنی تمام تر عسکری قوت کے باوجود ان لوگوں کو زیر نہیں کرسکا، تو یہ وہ شکست ہے جو کسی نقشے پر نہیں دیکھی جا سکتی۔ طاقت کا غرور بحیرۂ روم کی گہرائیوں میں ڈوب چکا ہے۔ اب اسرائیل مذکراتی ٹیبل پر بیٹھ کر انہی لوگوں سے بات کرنے پر مجبور ہے جنہیں وہ مٹا دینا چاہتا تھا۔ غزہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب ایمان زندہ ہو، تو گولیوں اور بارود سے بھی زیادہ زور دار ہتھیار وجود میں آ جاتا ہے، حوصلے کا ہتھیار۔ دشمن کے پاس جہاز ہیں، ٹینک ہیں، مگر اہلِ غزہ کے پاس وہ یقین ہے جو کسی بم سے پھٹ نہیں سکتا۔ ان کے بچے جنہوں نے بھوک میں آنکھیں کھولیں، وہی آج دنیا کے ضمیر کو جگا رہے ہیں۔ اگر اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ان دو لاکھ ٹن دھماکہ خیز مواد نے امریکا کی عراق اور افغانستان پر 28 برس کی جنگوں کے مجموعی بارود سے زیادہ تباہی پھیلائی۔ مگر تاریخ کا فیصلہ یہ ہے کہ تباہی ہمیشہ آخری لفظ نہیں ہوتی۔ ہر ملبے کے نیچے سے کوئی نہ کوئی ہاتھ نکلتا ہے، جو علم، قلم یا پتھر اٹھا کر کہتا ہے: “ہم ہارے نہیں۔” یہ محض ایک جنگ نہیں، یہ وقت کے چہرے پر لکھی گئی وہ سطر ہے جسے کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی اور شاید اسی لیے غزہ کے آسمان پر بارود کے بادل چھائے ہونے کے باوجود وہاں روشنی ابھی باقی ہے۔ کیونکہ ان چراغوں نے رات کا بہت نقصان کیا ہے اور اب یہ چراغ بجھنے والے نہیں۔ (ضیاء چترالی) نوٹ: یہ اعداد وشمار الجزیرہ کی مشہور صحافی خدیجہ بن قنہ کی پوسٹ سے ماخوذ ہیں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک حیرت انگیز دریافت۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

ایک حیرت انگیز دریافت۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

"پرسوں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔۔ اس دوران ایک چھوٹی سی مکھی اڑ کر میری کتاب پر آبیٹھی۔۔۔ پہلے تو میں نے اس کو بھگا دینے کی کوشش کی۔۔۔۔ لیکن وہ اڑ اڑ کر کتاب پر واپس آبیٹھتی یہ دیکھ کر میں سوچ میں پڑگیا کہ خالق نے کیسی کیسی مخلوق پیدا فرمائی ہے۔ ان کا ساٸز اور حرکتیں دیکھ کر بندہ حیران رہ جاتا ہے،،،،،،، کہ اس قدر چھوٹی "ساٸز" کے "حشرات" میں بھی دماغ ہوگا،، آج دنیا ماٸیکرو الیکٹرانکس فیلڈ میں بہت ہی آگے ہے لیکن پھر بھی ایسے چپ بنانے سے عاجز ہے۔۔اور اگر بالفرض ایسی کوئی چپ بنانے میں کامیاب بھی ہوگٸی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ کبھی خودکار فیصلہ نہیں کرے گی کیونکہ چپ خودکار فیصلہ نہیں کرسکتی، انکو پھر پروگرام کرنا ہوگا اور اگر ہم نے پروگرام بھی کیا،،،،، پھر بھی وہ خود سے کبھی مکھی اڑانے کی قابل نہیں ہوگی۔ کیونکہ انکے لیے پھر اس چپ کے آگے پیچھے داٸیں باٸیں مزید "الیکٹرانکس" چیزیں لگانی پڑیں گی،،،، نتيجہ اس کا ساٸز پھر بڑھانا ہوگا۔ لیکن ماٸیکرو لیول پر اگر آپ "جانداروں" کو دیکھیں، تو آپ حیران ہوجائینگے کہ ان کو کیسے پتا چلتا ہے کہ یہ کام کرنا ہے اور یہ نہیں۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ چیونٹیاں سردیوں کے لیے درکار اناج اور "بیجوں" کو جمع کرنے کے بعد اپنے گھونسلوں میں ذخیرہ کرنے سے پہلے ان بیجوں کو آدھے حصے میں توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔۔۔ انہیں آدھے حصے میں توڑنے سے وہ بارش کے دوران دوبارہ زرخیز ہونے سے محفوظ رہتی ہیں کیونکہ اس طرح پانی ان کو خوراک مہیا نہیں کرپاتا۔ اس وجہ سے تمام چیونٹیاں ایسا ہی کرتے ہیں،یہ باتیں انکو کون سمجھاتا ہے؟ کہ آپ نے ایسا کرنا ہے۔۔۔۔۔یہ بات تو آپ نے اکثر دوستوں سے سنی ہوگی لیکن سائنسدان اس وقت دنگ رہ گئے جب انہوں نے دریافت کیا کہ چیونٹی کےگھروں میں رکھے ہوئے دھنیا کے بیج دو کی بجائے چار ٹکڑوں میں کاٹے گئے تھے۔ ساٸنس دان جب کسی چیز کے پیچھے پڑ جاتے ہیں،،،، تو اس سے نتيجہ ضرور نکالتے ہیں،،، ان میں ایک جستجو ہوتی ہے اور وہ جستجو ان کو "نتيجہ" نکالنے پر "مجبور" کردیتی ہے۔ لیبارٹری ریسرچ کے بعد سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ ایک دھنیا کا بیج دو حصوں میں "تقسیم" ہونے کے بعد بھی اگتا ہے۔۔لیکن چار حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد کبھی اگ نہیں سکتا۔۔۔ گویا ان چیونٹیوں میں بھی ہماری طرح ساٸنس دان موجود ہیں کیونکہ اگر ان میں ساٸنس دان نہ ہوتے،،، تو پھر یہ مخلوق یہ سب کیسے جانتی کہ ہم نے یہ کام کرنا ہے، اور یہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ لہذا میں آپ سب "دوستوں" سے بذات خود چیونٹیوں کے آگے "دھنیا" کا "بیج" ڈال کر ان کے اس انوکھے انداز ذخیرہ اندوزی کا مشاہدہ کرنے کی امید رکھتا ہوں۔دس پندرہ دن میں آپ کو رزلٹ مل جاٸے گا"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!! ______________ 📝📝📝_______________ منقول۔ ناقل: اسلامک ٹیوب پرو ایپ