🥀🍁نیا ترانۂ ہندی🍁🥀 ( روحِ اقبال سے معذرت کے ساتھ) سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا لیکن اجڑ رہا ہے اب گلستاں ہمارا اب تو وطن میں رہ کر بھی اجنبی ہوئے ہم کھانے میں ڈھونڈتے ہیں اب وہ نشاں ہمارا مکاریوں کے پربت ہر سمت اب کھڑے ہیں جھوٹے ہیں منتری سب اور حکمراں ہمارا نفرت ہی پل رہی ہے اب دیش میں ہمارے دوزخ ہوا ہے ان سے باغِ جناں ہمارا اے آب رودِ گنگا! اب لوگ کہہ رہے ہیں اترا کبھی نہیں تھا یاں کارواں ہمارا مذہب کا نام لے کر رکھتے ہیں بیر دل میں کیسا بدل گیا ہے ہندوستاں ہمارا مہنگائی اور کرپشن، لنچنگ، فساد ہر دم آگے ہے ان سبھی میں ہندوستاں ہمارا رسوائی اور فضیحت ہر سمت ہو رہی ہے دشمن بنا ہوا ہے دورِ زماں ہمارا اقبال کیا بتائیں ہم آپ کو بھلا اب اب عام ہو چکا ہے دردِ نہاں ہمارا (✍️:عبدالغفار زاہد، بنارس)



