دارالعلوم دیوبند کے چند محترم و مؤقر اساتذۂ کرام کی تجارتی سرگرمیاں حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی دامت برکاتہم (دارالمعارف النعمانیہ) حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب (شیخ الاسلام اکیڈمی اور محلہ خانقاہ دیوبند میں واقع مکان میں بجانب سڑک کرائے پر کئی بڑی بڑی دکانیں وغیرہ) حضرت مولانا مفتی امین پالن پوری (الامین کتابستان) حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی صاحب (مکتبہ نعمت) حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری (مکتبہ التذکیر) حضرت مولانا محمد ساجد ہردوئی (دارالمنار) حضرت مولانا مفتی محمد نسیم بارہ بنکوی (مکتبہ دعوت القرآن) حضرت مولانا مجیب اللہ گونڈوی (امان بکڈپو) حضرت مولانا محمد حسین ہریدواری (مکتبہ الاطہر) حضرت مولانا عارف جمیل مبارک پوری (مکتبہ علمیہ) حضرت مولانا مفتی اشرف عباس صاحب (مکتبہ ابن عباس) حضرت مولانا مفتی اشتیاق صاحب (مکتبہ ادیب) حضرت مولانا مصلح الدین صاحب (ریان بک ڈپو) حضرت مولانا کلیم الدین کٹکی (مکتبہ الفاروق) حضرت مولانا مفتی عبد اللہ معروفی (مکتبہ عثمانیہ) حضرت مولانا محمد علی بجنوری (ادارہ الصدق) حضرت مولانا محمد ارشد معروفی (ثنا پبلیکیشنز) ماضی قریب میں وفات پانے والے چند اکابر محدث کبیر حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری (مکتبہ حجاز) ادیب اریب حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی (ادارہ علم و ادب) حضرت مولانا محمد جمال بلند شہری (مکتبہ جمال) شارح ھدایہ حضرت مولانا جمیل احمد سکروڈوی (مکتبہ البلاغ) اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کرام کی دینی خدمات قبول فرمائے، ان کی اشاعتی و تجارتی سرگرمیوں میں برکت عطا فرمائے اور علماء و ائمہ حضرات کو حسب استطاعت و حسب موقع انھیں کے نقش قدم پر چلا کر دینی خدمت کے ساتھ معاشی استحکام عطا فرمائے. آمین

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت تھانوی کا ایک واقعہ

حضرت تھانوی کا ایک واقعہ

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے اپنے سارے مریدین اور متعلقین کو یہ ہدایت تھی کہ جب کبھی ریلوے میں سفر کرو، اور تمہارا سامان اس مقدار سے زائد ہو جتنا ریلوے نے تمہیں مفت لیجانے کی اجازت دی ہے، تو اس صورت میں اپنے سامان کا وزن کراؤ اور زائد سامان کا کرایہ ادا کرو، پھر سفر کرو۔ خود حضرت والا کا اپنا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ریلوے میں سفر کے ارادے سے اسٹیشن پہنچے، گاڑی کے آنے کا وقت قریب تھا، آپ اپنا سامان لے کر اس دفتر میں پہنچے جہاں پر سامان کا وزن کرایا جاتا تھا اور جاکر لائن میں لگ گئے۔ اتفاق سے گاڑی میں ساتھ جانے والا گارڈ وہاں آگیا اور حضرت والا کو دیکھ کر پہچان لیا، اور پوچھا کہ حضرت آپ یہاں کیسے کھڑے ہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ میں سامان کا وزن کرانے آیا ہوں۔ گارڈ نے کہا کہ آپ کو سامان کا وزن کرانے کی ضرورت نہیں، آپ کے لئے کوئی مسئلہ نہیں، میں آپ کے ساتھ گاڑی میں جا رہا ہوں، آپ کو زائد سامان کا کرایہ دینے کی ضرورت نہیں۔ حضرت نے پوچھا کہ تم میرے ساتھ کہاں تک جاؤ گے ؟ گارڈ نے کہا کہ میں فلاں اسٹیشن تک جاؤں گا۔ حضرت نے پوچھا کہ اس اسٹیشن کے بعد کیا ہوگا؟ گارڈ نے کہا کہ اس اسٹیشن پر دوسرا گارڈ آئے گا، میں اس کو بتادوں گا کہ یہ حضرت کا سامان ہے، اس کے بارے میں کچھ پوچھ گچھ مت کرنا۔ حضرت نے پوچھا کہ وہ گارڈ میرے ساتھ کہاں تک جائے گا؟ گارڈ نے کہا کہ وہ تو اور آگے جائے گا، اس سے پہلے ہی آپ کا اسٹیشن آجائے گا۔ حضرت نے فرمایا کہ میں تو اور آگے جاؤں گا یعنی آخرت کی طرف جاؤں گا اور اپنی قبر میں جاؤں گا، وہاں پر کونسا گارڈ میرے ساتھ جائے گا؟ جب وہاں آخرت میں مجھ سے سوال ہوگا کہ ایک سرکاری گاڑی میں سامان کا کرایہ ادا کئے بغیر جو سفر کیا اور جو چوری کی اس کا حساب دو تو وہاں پر کونسا گارڈ میری مدد کرے گا؟ ____________📝📝____________ کتاب : معاملات صاف رکھیں ۔ صفحہ نمبر: ۱۱، ۱۲ مصنف : مفتی محمد تقی عثمانی صاحب انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ