السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 1 اللہ تعالٰی نے قلم کو پیدا کیا اللہ تعالٰی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ ہر چیز کو اللہ تعالٰی ہی نے پیدا کیا ہے اور ایک دن اسی کے حکم سے ساری کائنات ختم ہو جائے گی ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہر چیز ختم ہو جائے گی اور صرف آپ کے عزت و بزرگی والے رب کی ذات باقی رہے گی ۔ ( سورۂ رحمٰن 26 تا 27 ) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: " ( اس دنیا کی تمام چیزوں میں ) سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے قلم کو پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کا حکم دیا ، اس نے عرض کیا: اے میرے رب ! میں کیا لکھوں ؟ اللہ تعالٰی نے اسے قیامت تک کی پوری کائنات کی تقدیر لکھنے کا حکم دیا۔" ( ابوداؤد : 4700 ) پھر اس نے اس وقت سے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کو لکھ دیا ۔ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : " اللہ تعالٰی نے مخلوق کی تقدیر کو زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لکھا ہے۔" ( مسلم : 6748 ) اُس وقت سے قیامت تک دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے یا ہو گا ، قلم ان چیزوں کو بحکم خداوندی پہلے ہی لکھ چکا ہے ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت عمرؓ کے دربار کا ایک واقعہ :

حضرت عمرؓ کے دربار کا ایک واقعہ :

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں ایک باپ نے اپنے بیٹے پر دعویٰ کیا کہ یہ میرے حقوق ادا نہیں کرتا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے سے دریافت کیا اس نے کہا اے امیر المومنین ! کیا باپ ہی کا سارا حق اولاد پر ہے یا اولاد کا بھی باپ پر کچھ حق ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اولاد کا بھی باپ کے ذمہ حق ہے ، کہا میں ان حقوق کو سننا چاہتا ہوں ۔ فرمایا اولاد کا حق باپ پر یہ ہے کہ اولاد حاصل کرنے کے لیے شریف عورت تجویز کرے ! اور جب اولاد پیدا ہو تو ان کا نام اچھا رکھے تا کہ اس کی برکت ہو ! اور جب ان کے ہوش درست ہو جائیں ان کو تہذیب سکھائے اور دین کی تعلیم دے ! لڑکے نے کہا کہ میرے باپ نے ان حقوق میں سے ایک حق بھی ادا نہیں کیا اور جب میں پیدا ہوا تو میرا نام ”جعل“ رکھا جس کا معنی ”پاخانہ کا کیڑا“ ! اور مجھے دین کا ایک حرف بھی نہیں سکھایا مجھے دینی تعلیم سے بالکل کورا رکھا ۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو باپ پر بہت غصہ آیا اور اس کو بہت دھمکایا اور یہ کہہ کر مقدمہ خارج کر دیا کہ جاؤ پہلے تم اپنے ظلم کی مکافات کرو اس کے بعد لڑکے کے ظلم کی فریاد کرنا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقدمہ خارج کر دیا اور باپ سے فرمایا کہ تو نے اس سے زیادہ حق تلفی کی ہے جاؤ اپنی اولاد کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کیا کرو۔ (الفیض الحسن ص ۱۰۲ ، حقوق البیت ص ۴۷) (کتاب : ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ) مزید قیمتی مضامین کے لیے ہمارے واٹسپ چینل کو فالو کریں https://whatsapp.com/channel/0029Va5sIvuBKfi0pDP0py1H