السلام علیکم اسلامی تاریخ قسط نمبر 1 اللہ تعالٰی نے قلم کو پیدا کیا اللہ تعالٰی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ ہر چیز کو اللہ تعالٰی ہی نے پیدا کیا ہے اور ایک دن اسی کے حکم سے ساری کائنات ختم ہو جائے گی ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہر چیز ختم ہو جائے گی اور صرف آپ کے عزت و بزرگی والے رب کی ذات باقی رہے گی ۔ ( سورۂ رحمٰن 26 تا 27 ) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: " ( اس دنیا کی تمام چیزوں میں ) سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے قلم کو پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کا حکم دیا ، اس نے عرض کیا: اے میرے رب ! میں کیا لکھوں ؟ اللہ تعالٰی نے اسے قیامت تک کی پوری کائنات کی تقدیر لکھنے کا حکم دیا۔" ( ابوداؤد : 4700 ) پھر اس نے اس وقت سے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کو لکھ دیا ۔ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : " اللہ تعالٰی نے مخلوق کی تقدیر کو زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لکھا ہے۔" ( مسلم : 6748 ) اُس وقت سے قیامت تک دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے یا ہو گا ، قلم ان چیزوں کو بحکم خداوندی پہلے ہی لکھ چکا ہے ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

عیسائیت کی ثقافتی یلغار!!

عیسائیت کی ثقافتی یلغار!!

جب تک عیسائی مذہب سیاست سے ہم آہنگ نہیں تھا، اُس وقت تک دُنیا کی ہر قوم کا اپنا ایک الگ لباس ہوتا تھا۔ اب بھی جہاں جہاں عیسائی مذہب کسی قوم کی سیاست پر اثر انداز نہیں ہوا وہاں اب بھی اس قوم کا اپنا ایک مخصوص قومی لباس ہے۔ جن ملکوں میں عیسائیت سیاست سے ہم آہنگ ہوکر پہنچی وہاں کا قومی لباس محمود غزنوی کے چہیتے غُلام ایاز کے "لباسِ غُلامی" کی طرح پُرانے صندوق میں چُھپا دیا گیا ہے، جو کبھی کبھار عید کے تہوار پر محض پُرانی یاد تازہ کرنے کے لیے نکالا جاتا ہے۔ چنانچہ عیسائیت کا لباس کوٹ پتلون اور نکٹائی اب ایک بین الاقوامی لباس بن گیا ہے جسے اب عیسائیوں کے علاوہ ہر مذہب، ہر مُلک اور ہر قوم کے باشندے پہنتے ہیں۔ جہاں تک کوٹ پتلون والے لباس کا تعلق ہے اُسے دیکھ کر کسی شخص کی قومیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہاں البتہ چہرے کے رنگ یا بولی جانے والی زبان سے پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص امریکی ہے یا فلاں شخص پاکستانی۔ ( معروف ادیب و صحافی ابراہیم جلیس کی کتاب "اُوپر شیروانی اندر پریشانی" سے اقتباس )