قرآن دیکھتے تھے موبائل کے ہوگئے
امت کا سوچتے تھے موبائل کے ہوگئے
دل میں نبی سے پیار کی خوشبو لیے ہوئے
نیکی کا بولتے تھے موبائل کے ہوگئے
کتنے حسین دن تھے غمِ دین کو لے کر
مسجد میں بیٹھتے تھے موبائل کے ہوگئے
جس سمت نگاہوں کی خطاؤں کا خوف تھا
چہرے کو پھیرتے تھے موبائل کے ہوگئے
معیوب ہو اسلام کی نظروں میں تو ایسی
خواہش کو روندتے تھے موبائل کے ہوگئے
اک پل بھی ماسوائے خدا پر فدا نہ ہو
ہم دل کو روکتے تھے موبائل کے ہوگئے
ہدہدالہ آبادی